ہجرت، کرب اور ادب: شہزاد منظر کی کہانی

شہزاد منظر، جن کا اصل نام ابراہیم عبدالرحمٰن عارف تھا، اردو ادب کے معتبر افسانہ نگار اور نقاد کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ وہ یکم جنوری 1933 میں کلکتہ، بھارت میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام عبدالرحمٰن احمد عارف تھا، اور اسی نسبت سے ان کا پورا نام رکھا گیا۔ قیامِ پاکستان کے بعد وہ کراچی منتقل ہو گئے اور یہیں سے ان کی ادبی اور صحافتی زندگی کا آغاز ہوا۔ ابتدائی تعلیم کے دوران ہی ان کا رجحان ادب کی طرف بڑھنے لگا اور وہ ترقی پسند تحریک سے متاثر ہوئے۔ اس تحریک نے ان کی سوچ کو عوامی اور سماجی رنگ دیا، جس کے اثرات ان کی تحریروں میں نمایاں ہیں۔

وقت کے دھارے نے ایک نیا موڑ لیا جب 1965 میں شہزاد منظر کراچی سے ڈھاکہ منتقل ہوئے۔ وہاں انہوں نے صحافت اور تدریس کے شعبوں میں خدمات انجام دیں۔ ڈھاکہ کے مقامی حالات، بنگالی ثقافت اور وہاں کی سیاسی فضا کا انہوں نے گہرا مشاہدہ کیا، جس نے ان کی شخصیت اور تحریروں کو ایک منفرد لہجہ عطا کیا۔ وہ نہ صرف ایک ادیب بلکہ ایک حساس مشاہدہ کار تھے، جنہوں نے معاشرتی اور سیاسی حالات کو قریب سے دیکھا اور محسوس کیا۔

تاریخ کے سب سے بڑے سانحوں میں سے ایک، سقوطِ ڈھاکہ 1971 کو انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ یہ کرب ان کی زندگی کا وہ حصہ تھا جو بعد کی تحریروں میں بار بار ابھرتا رہا۔ ان کے افسانوں میں "ہجرت کے دکھ” اور "انسانی المیے” کی جھلک اسی تجربے کا نتیجہ ہے۔ ان کی تحریریں اس بات کی گواہ ہیں کہ انہوں نے تاریخ کو صرف دیکھا نہیں بلکہ اسے اپنے فن میں زندہ کر دیا۔

بنگلہ دیش کے قیام کے بعد شہزاد منظر دوبارہ کراچی آگئے اور یہاں ادبی و صحافتی سرگرمیوں میں مصروف رہے۔ وہ اپنی زندگی کے آخری ایام تک اردو ادب کی خدمت کرتے رہے۔ ان کی شخصیت میں سنجیدگی، مشاہدے کی گہرائی اور انسانی دکھوں کو محسوس کرنے کی صلاحیت نمایاں تھی۔

قیامِ پاکستان سے پہلے اور بعد کے مختلف ادوار میں انہوں نے برصغیر کے مختلف خطوں میں قیام کیا، جن میں مشرقی پاکستان بھی شامل ہے۔ وہاں وہ کلکتہ سے شائع ہونے والے روزنامہ عصرِ جدید سے وابستہ رہے، بعد ازاں ڈھاکہ میں روزنامہ پاسبان کے لیے کام کیا۔ پاکستان آنے کے بعد ان کا صحافتی سفر مزید وسعت اختیار کرتا ہے، جہاں وہ روزنامہ جنگ اور کراچی سے شائع ہونے والے روزنامہ حریت سے بھی منسلک رہے۔ اسی دوران انہوں نے کچھ عرصہ انجمن ترقی اردو، کراچی کے ساتھ بھی کام کیا، جو اردو زبان و ادب کے فروغ کی ایک اہم ادبی و تہذیبی ذمہ داری تھی۔

کراچی میں قیام کے دوران ان کا تعلق ڈاکٹر اعجاز راہی صاحب سے قائم ہوا، جن کی رہنمائی نے ان کے فکری سفر کو نئی سمت دی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب شہزاد منظر کے دل میں اردو افسانے پر ایک جامع کتاب مرتب کرنے کا خیال شدت سے پروان چڑھ رہا تھا۔ ان کے نزدیک یہ محض ایک ادبی منصوبہ نہیں بلکہ اردو افسانے کی تاریخ کو محفوظ کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش تھی۔ اس مقصد کے لیے انہیں بنیادی نوعیت کی معلومات درکار تھیں مثلاً یہ کہ اردو کا پہلا افسانہ کب شائع ہوا، کن افسانہ نگاروں کی کون سی کتابیں کس برس منظرِ عام پر آئیں، اور ان کتابوں نے ادبی دنیا میں کس طرح کی تبدیلیاں پیدا کیں۔ وہ چاہتے تھے کہ اس کتاب میں نہ صرف افسانوں کی زمانی ترتیب درج ہو بلکہ ان کے پس منظر، ادبی فضا اور تخلیقی محرکات کا بھی جائزہ لیا جائے۔

انہی سوالات اور جستجو نے انہیں راولپنڈی کا رخ کرنے پر آمادہ کیا، کیونکہ اس دور میں بیشتر نمایاں افسانہ نگار یہیں مقیم تھے۔ راولپنڈی کی ادبی محفلیں، نشستیں اور مکالمے ان کے لیے قیمتی سرمایہ ثابت ہوئے۔ یہاں انہیں وہ ماحول میسر آیا جس نے ان کی تحقیق کو نہ صرف سمت دی بلکہ افسانے کے ارتقائی سفر کو سمجھنے میں بھی مدد فراہم کی۔ یوں ان کا یہ سفر ایک شخصی جستجو سے بڑھ کر اردو افسانے کی اجتماعی تاریخ کو مرتب کرنے کی بنیاد بن گیا۔ اسی تحقیقی جستجو کے نتیجے میں ان کی کتاب “اردو افسانہ” مرتب ہوئی، جو بعد میں شائع بھی ہوئی۔ اس دوران احمد داؤد سے ان کا خط و کتابت کا تعلق پہلے سے قائم تھا، چنانچہ وہ انہی کے ہاں مقیم رہے اور ایک ہفتے سے زیادہ عرصہ وہیں ٹھہرے۔ ان دنوں مسلسل ملاقاتیں اور ادبی نشستیں ہوتی رہیں، جن میں مرزا حامد بیگ بھی شریک رہے اور ان محفلوں کی علمی فضا کو مزید گہرا کرتے رہے۔ احمد داؤد کا گھر دیہاتی طرز کا تھا، جہاں بھینسیں پالی گئی تھیں اور ان کے بھائی دودھ فروخت کرتے تھے۔ گھر میں دودھ کی فراوانی رہتی، احمد داؤد کی والدہ بڑے بڑے پیتل کے گلاسوں میں دودھ بھر کر دیتیں، اور رات کو گپ شپ کے بعد دودھ پی کر سو جایا کرتے تھے۔

شہزاد منظر نے اردو ادب میں نہ صرف افسانہ نگاری کے ذریعے اپنی شناخت قائم کی بلکہ تنقید، تحقیق اور تدوین کے میدان میں بھی نمایاں خدمات انجام دیں۔ ان کی تخلیقات فرد کی داخلی دنیا، سماجی تضادات، سیاسی حالات اور عالمی ادب کے تقابلی مطالعے کو یکجا کرتی ہیں۔ وہ اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ ادب محض جمالیاتی اظہار نہیں بلکہ انسانی تجربات اور معاشرتی حقیقتوں کا آئینہ ہے۔ اسی سوچ کے تحت انہوں نے مختلف موضوعات پر کتابیں اور افسانوی مجموعے تحریر کیے، جو اردو ادب کے سنجیدہ قاری کے لیے نہایت اہمیت رکھتے ہیں۔ ذیل میں ان کی چند نمایاں تصانیف اور مجموعوں کا مختصر تعارف پیش کیا جا رہا ہے.

1. اندھیری رات کا تنہا مسافر (1984، 1988)

یہ افسانوی مجموعہ انسانی تنہائی، کرب اور وجودی سوالات کو علامتی انداز میں پیش کرتا ہے۔ منظر نے فرد کی داخلی دنیا اور سماجی حقیقتوں کو نہایت فنکارانہ انداز میں جوڑا ہے، جس سے قاری کو یہ احساس ہوتا ہے کہ تنہائی صرف ذاتی نہیں بلکہ اجتماعی تجربہ بھی ہے۔ اس مجموعے کے افسانے قاری کو اپنی ذات کے اندر جھانکنے پر مجبور کرتے ہیں اور سماج کے تضادات کو آئینے کی طرح دکھاتے ہیں۔ یہ کتاب فرد کے اندرونی اضطراب کو معاشرتی تناظر کے ساتھ جوڑتی ہے اور قاری کو یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ انسانی وجود کا کرب دراصل اجتماعی زندگی کا عکس ہے۔

2. ردِّ عمل (1985)

اس کتاب میں انہوں نے معاشرتی اور سیاسی حالات کے اثرات کو افسانوی صورت میں بیان کیا۔ قاری کو یہ احساس ہوتا ہے کہ فرد کی زندگی سماج کے ردِّ عمل سے کس طرح متاثر ہوتی ہے اور کس طرح اس کے فیصلے اور جذبات سماجی دباؤ کے تحت تشکیل پاتے ہیں۔ منظر نے اس میں یہ دکھایا کہ ادب صرف جمالیاتی اظہار نہیں بلکہ سماجی حقیقتوں کا عکس بھی ہے۔ یہ مجموعہ اس بات کو واضح کرتا ہے کہ فرد کی آزادی اور اس کے فیصلے سماجی دباؤ اور سیاسی حالات سے الگ نہیں رہ سکتے، بلکہ وہ انہی کے زیرِ اثر تشکیل پاتے ہیں۔

3. پاکستان میں اردو تنقید کے پچاس سال (1996)

یہ تحقیقی کتاب اردو تنقید کے نصف صدی کے سفر کا جامع جائزہ پیش کرتی ہے۔ منظر نے مختلف نقادوں اور رجحانات کو پرکھ کر اردو تنقید کی سمت اور ارتقاء کو واضح کیا۔ اس کتاب میں نہ صرف تنقید کے فنی پہلوؤں کو بیان کیا گیا ہے بلکہ اس کے سماجی اور فکری اثرات کو بھی اجاگر کیا گیا ہے، جو اسے اردو تنقید کے طالب علم کے لیے لازمی مطالعہ بناتا ہے۔ یہ کتاب اردو تنقید کے ارتقائی سفر کو سمجھنے کے لیے سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے اور قاری کو یہ شعور دیتی ہے کہ تنقید ادب کے ساتھ ساتھ معاشرتی فکر کی بھی آئینہ دار ہے۔

4. سندھ کے نسلی مسائل (1994)

یہ کتاب سماجی اور سیاسی موضوعات پر مبنی ہے، جس میں سندھ کے نسلی اور لسانی مسائل کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ منظر نے اس میں معاشرتی تضادات اور ان کے اثرات کو نمایاں کیا اور یہ دکھایا کہ ادب کس طرح سماجی مسائل کو اجاگر کر کے قاری کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ یہ کتاب ادیب کی سماجی ذمہ داری کا بہترین نمونہ ہے۔ اس میں منظر نے یہ واضح کیا کہ ادب محض جمالیاتی اظہار نہیں بلکہ معاشرتی شعور کو بیدار کرنے کا ایک ذریعہ ہے، جو قاری کو اپنے ماحول اور مسائل پر غور کرنے پر آمادہ کرتا ہے۔

5. ندیا کہاں ہے تیرا دیس (1990)

جیسا کہ پہلے ذکر ہوا، یہ سقوطِ ڈھاکہ اور مشرقی پاکستان کے پس منظر میں لکھا گیا افسانوی مجموعہ ہے۔ اس میں ہجرت اور انسانی المیے کو نہایت دردناک انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ منظر نے اس میں دکھایا کہ ہجرت صرف جغرافیائی تبدیلی نہیں بلکہ ایک گہرا انسانی کرب ہے، جو نسلوں تک اثر انداز ہوتا ہے۔ یہ مجموعہ قاری کو اس حقیقت سے روشناس کراتا ہے کہ ہجرت ایک ایسا زخم ہے جو وقت کے ساتھ مندمل نہیں ہوتا بلکہ نسلوں تک اپنی شدت قائم رکھتا ہے۔

6. علامتی افسانے کے ابلاغ کا مسئلہ (1990)

یہ کتاب اردو افسانے میں علامت کے استعمال اور اس کے ابلاغی مسائل پر ایک سنجیدہ تنقیدی مطالعہ ہے۔ منظر نے اس میں افسانہ نگار اور قاری کے رشتے کو باریک بینی سے پرکھا اور یہ واضح کیا کہ علامت ادب کو گہرائی عطا کرتی ہے لیکن اگر اس کا استعمال بے جا ہو تو ابلاغ مشکل ہو جاتا ہے۔ یہ کتاب اردو تنقید میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس مطالعے سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ علامت ادب کو معنوی وسعت عطا کرتی ہے لیکن اس کا درست استعمال ہی افسانے کو قاری تک پہنچا سکتا ہے۔

7. جدید اردو افسانہ (1982)

یہ کتاب اردو افسانے کے جدید رجحانات اور اس کے ارتقاء پر ایک تحقیقی مطالعہ ہے۔ منظر نے اس میں افسانے کی ساخت اور موضوعات کو نئے زاویے سے دیکھا اور یہ دکھایا کہ جدید اردو افسانہ کس طرح فرد کی داخلی دنیا اور سماجی حقیقتوں کو یکجا کرتا ہے۔ یہ کتاب افسانہ نگاری کے طالب علم کے لیے ایک بنیادی حوالہ ہے۔ اس میں منظر نے جدید افسانے کے ارتقائی سفر کو نہایت باریک بینی سے بیان کیا ہے اور قاری کو یہ سمجھنے میں مدد دی ہے کہ جدید افسانہ فرد اور سماج کے تعلق کو نئے زاویے سے پیش کرتا ہے۔

8. اردو افسانہ: تقابلی مطالعہ

اس کتاب میں انہوں نے اردو افسانے کو عالمی ادب کے ساتھ تقابلی طور پر پرکھا۔ منظر نے یہ دکھایا کہ اردو افسانہ عالمی رجحانات سے متاثر ہونے کے باوجود اپنی انفرادیت برقرار رکھتا ہے۔ اس مطالعے سے قاری کو افسانے کی بین الاقوامی جہتوں کا شعور حاصل ہوتا ہے اور یہ احساس ہوتا ہے کہ اردو ادب عالمی سطح پر بھی اپنی شناخت رکھتا ہے۔ یہ کتاب اس بات کا ثبوت ہے کہ اردو ادب عالمی دھارے کا حصہ ہے اور اپنی انفرادیت کے ساتھ دنیا کے ادب میں مقام رکھتا ہے۔

شہزاد منظر کا انتقال 19 دسمبر 1997 کو کراچی میں ہوا۔ ان کی وفات اردو ادب کے لیے ایک بڑا نقصان تھی، کیونکہ وہ نہ صرف ایک افسانہ نگار بلکہ ایک نقاد اور محقق بھی تھے، جنہوں نے ادب کو فکری اور سماجی سطح پر نئی جہتیں عطا کیں۔

شہزاد منظر کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ادب صرف جمالیاتی اظہار نہیں بلکہ انسانی دکھ، ہجرت کے کرب اور معاشرتی حقیقتوں کو بیان کرنے کا ایک طاقتور وسیلہ ہے۔ ان کی تحریریں اردو افسانے کے قاری کو نہ صرف سوچنے پر مجبور کرتی ہیں بلکہ اسے تاریخ اور انسانی تجربے کے قریب بھی لے جاتی ہیں۔ ان کی زندگی اور ادبی سفر اردو ادب کے سنجیدہ قارئین کے لیے ایک روشن مثال ہے کہ کس طرح ذاتی تجربات اور اجتماعی المیے ادب کو گہرائی اور معنویت عطا کرتے ہیں۔
(شکریہ: جناب مرزا حامد بیگ)

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے