گالم گلوچ کی سیاست

پاکستان کی سیاست میں اخلاقی زوال کوئی اچانک پیدا ہونے والا حادثہ نہیں بلکہ ایک طویل اور سوچے سمجھے گئے عمل کا نتیجہ ہے۔ آج جب سیاسی ماحول میں بدتمیزی، تضحیک اور ذاتی حملے معمول بنتے جا رہے ہیں تو یہ سوال ناگزیر ہو جاتا ہے کہ اس روایت کی بنیاد کہاں سے پڑی اور اسے فروغ کس نے دیا۔ اگر غیرجانبداری سے ماضی کا جائزہ لیا جائے تو تاریخ کے کئی ابواب اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اس طرزِ سیاست کی بنیاد مسلم لیگ (ن) کے دور میں باقاعدہ طور پر رکھی گئی۔

انیس سو نوے کی دہائی میں محترمہ بے نظیر بھٹو کے خلاف جو منظم مہم چلائی گئی، وہ محض سیاسی مخالفت نہیں تھی بلکہ اخلاقی دیوالیہ پن کی واضح مثال تھی۔

انتخابی مہم کے دوران ان کے خلاف جعلی اور نازیبا تصاویر کی تیاری اور پھر انہیں جہازوں کے ذریعے مختلف شہروں میں پھینکنا پاکستانی سیاست کے سیاہ ترین ابواب میں شمار ہوتا ہے۔ یہ عمل سیاسی اختلاف سے آگے بڑھ کر ذاتی کردار کشی اور تضحیک کی منظم کوشش تھا۔

اسی دور میں جلسوں جلوسوں اور تقاریر میں مخالف سیاسی قیادت کے خلاف جو زبان استعمال کی گئی، وہ دلیل اور شائستگی سے کوسوں دور تھی۔ طنز، الزام تراشی اور تحقیر آمیز جملے سیاسی مکالمے کا حصہ بن گئے۔ اختلافِ رائے کو برداشت کرنے کے بجائے مخالف کو نیچا دکھانا اور عوامی سطح پر ذلیل کرنا سیاسی حکمتِ عملی بنا لیا گیا، جس نے مجموعی سیاسی ماحول کو زہر آلود کیا۔

اس رویے کا نشانہ صرف خواتین ہی نہیں بنیں بلکہ مرد سیاستدان بھی اسی تضحیک آمیز سیاست کی زد میں رہے۔ مرد رہنماؤں کے خلاف بھی ذاتی نوعیت کے حملے، کردار پر سوالات، خاندانی حوالوں کا استعمال اور تمسخر آمیز القابات گھڑے گئے۔ مسئلہ جنس کا نہیں بلکہ سوچ کا تھا، ایک ایسی سوچ جو سیاست کو اصول، کارکردگی اور عوامی خدمت کے بجائے ذاتیات اور تضحیک کے میدان میں لے آئی۔

بعد ازاں جب انفارمیشن کی دنیا نے وسعت اختیار کی، الیکٹرانک میڈیا آیا اور پھر سوشل میڈیا نے سیاست کو گھیر لیا، تو یہ رجحان کئی گنا بڑھ گیا۔ اب کردار کشی چند تقاریر یا پوسٹروں تک محدود نہیں رہی بلکہ لمحوں میں کروڑوں لوگوں تک پہنچنے لگی۔ جھوٹ، آدھی سچائیاں، ایڈٹ شدہ ویڈیوز اور نفرت انگیز مہمات کو باقاعدہ سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جانے لگا، جس نے سیاسی مکالمے کی رہی سہی سنجیدگی بھی ختم کر دی۔

یہاں ایک بنیادی اور تشویشناک سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہم اپنی نئی نسل اور آنے والی نسلوں کو کیا پیغام دے رہے ہیں؟ کیا ہم انہیں یہ سکھا رہے ہیں کہ سیاست میں کامیابی کا واحد راستہ بدتمیزی، تضحیک اور گالم گلوچ ہے؟ جب نوجوان یہ دیکھتے ہیں کہ جتنا سخت، توہین آمیز اور اشتعال انگیز جملہ ہوگا اتنی ہی زیادہ توجہ ملے گی، تو پھر وہ دلیل، برداشت اور اصولی اختلاف سے کیا سیکھیں گے؟

بدقسمتی سے آج سیاست خیالات کے ٹکراؤ کے بجائے زبان کے مقابلے میں بدلتی جا رہی ہے۔ یہ رویہ نہ صرف جمہوری اقدار کو نقصان پہنچا رہا ہے بلکہ معاشرتی اخلاقیات کو بھی کھوکھلا کر رہا ہے۔ اختلاف جمہوریت کا حسن ہے، مگر جب اختلاف بدتمیزی میں بدل جائے تو وہ جمہوریت نہیں بلکہ انتشار کو جنم دیتا ہے۔

اب وقت آ گیا ہے کہ اس روش کو سنجیدگی سے روکا جائے۔ سیاست گالم گلوچ، تضحیک اور ذاتی حملوں کے بغیر بھی ہو سکتی ہے اور ہونی بھی چاہیے۔ ایک مہذب، باوقار اور اصولی سیاسی روایت ہی وہ راستہ ہے جو قوموں کو فکری طور پر مضبوط اور جمہوری طور پر بالغ بناتا ہے۔ اگر ہم واقعی بہتر مستقبل چاہتے ہیں تو ہمیں آج یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ سیاست کو کہاں لے جانا ہے اور اپنی نسلوں کو کیا سکھانا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے