اسلام میں انسانی وقار : حقوق اور عدل کی قرآنی بنیادیں

معزز سامعین کرام!

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

انسانی تاریخ کا سب سے بڑا المیہ یہ رہا ہے کہ طاقت نے ہمیشہ حق کو دبانے کی کوشش کی، اور کمزور انسان کو اس کے بنیادی وقار سے محروم کیا گیا۔ مگر جب قرآن نازل ہوا تو اس نے سب سے پہلے انسان کو اس کا کھویا ہوا مقام لوٹایا۔

اسلام نے اعلان کیا کہ انسان محض جسم نہیں بلکہ شرف و عزت کا حامل وجود ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی تخلیق میں فضیلت عطا کی۔

قرآنِ مجید واضح اعلان کرتا ہے؛

"وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ”

یعنی ہم نے اولادِ آدم کو عزت بخشی۔

یہ عزت کسی نسل، مذہب، زبان یا قوم کے ساتھ مشروط نہیں، بلکہ محض انسان ہونے کی بنیاد پر عطا کی گئی ہے۔ یہی وہ اصول ہے جو اسلام کو ہر دور کے لیے زندہ پیغام بناتا ہے۔

اسلامی تعلیمات ہمیں بتلاتی ہیں کہ انسانی جان، عزت اور مال ناقابل دست درازی ہیں۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبۂ حجۃ الوداع میں فرمایا؛

"تمہاری جانیں، تمہارے مال اور تمہاری عزتیں ایک دوسرے پر اسی طرح حرام ہیں جیسے آج کا دن، یہ مہینہ اور یہ شہر محترم ہے۔”

یہ اعلان دراصل انسانی حقوق کا عالمی منشور تھا، جو آج کی جدید اقوام متحدہ سے صدیوں پہلے انسانیت کو عطا کر دیا گیا۔

سامعین محترم!

بدقسمتی سے آج کچھ انتہا پسند گروہ دین کے نام پر وہ کام کر رہے ہیں جن کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ وہ قرآنی آیات کو سیاق و سباق سے کاٹ کر تشدد، نفرت اور قتل کو جائز ٹھہراتے ہیں، حالانکہ قرآن صاف کہتا ہے.

"مَن قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا”

یعنی جس نے ایک بے گناہ انسان کو قتل کیا گویا اس نے پوری انسانیت کو قتل کر دیا۔

اسلامی ریاست کا بنیادی اصول عدل ہے۔ قرآن اعلان کرتا ہے:

"إِنَّ اللّٰهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ”

عدل صرف عدالتوں میں نہیں، بلکہ رویّوں، فیصلوں، طرزِ حکمرانی اور سماجی تعلقات میں بھی لازم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام قانون کی بالادستی، شفاف انصاف اور انسانی وقار کے تحفظ کو ایمان کا حصہ قرار دیتا ہے۔

ہمارا آئین بھی انہیں اسلامی اصولوں کی عملی شکل ہے۔ انسانی جان، مذہبی آزادی، اظہارِ رائے، انصاف تک رسائی یہ سب وہ حقوق ہیں جن کی جڑیں قرآن و سنت میں پیوست ہیں۔ اس لیے جو لوگ مذہب کے نام پر تشدد، نفرت یا جبر کو فروغ دیتے ہیں، وہ دراصل نہ صرف آئین بلکہ اسلام دونوں کی نفی کر رہے ہیں۔

سامعین ذی وقار

اسلام ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ حقوق اور فرائض ایک دوسرے سے جدا نہیں۔ جو شخص اپنے فرائض بھول جائے، وہ حقوق کا دعویٰ بھی نہیں کر سکتا۔ حقیقی ایمان وہی ہے جو انسان کو دوسروں کے لیے امن، تحفظ اور رحمت کا ذریعہ بنائے۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اسلام کو نعروں نہیں، کردار سے پہچانیں۔ ہم انسانیت کی حرمت کو زندہ کریں، عدل کو اپنا شعار بنائیں، اور اس سوچ کو رد کریں جو نفرت اور انتہا پسندی کو دین کا نام دیتی ہے۔

آئیے! عہد کریں کہ ہم انسانی وقار کے محافظ بنیں گے، عدل کے علمبردار ہوں گے، اور اسلام کو اس کی اصل روح، رحمت، انصاف اور انسان دوستی کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کریں گے۔
یہی اسلام کا پیغام ہے، یہی ہماری ذمہ داری ہے، اور یہی ہمارے مستقبل کی ضمانت ہے۔

(نوٹ: یہ تحریر، ریڈیو پاکستان کے لیے خصوصی طور پرلکھی گئی ہے۔)

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے