اسکالر ڈائریز: ٹور ڈی یورپ (قسط 1)

داستانِ ریگا: ایک اتفاق، ایک موقع

قصہ شروع ہوتا ہے کچھ یوں کہ اگست 2018 میں مجھے یہ پتا نہیں تھا کہ لٹویا بھی کوئی ملک ہے، یہ میرا حسنِ اتفاق کہہ لیں یا نالائقی۔ مگر شینگن میں ہونے کے باوجود میرا لٹویا سے کوئی واسطہ نہیں پڑا، نہ کبھی لکھا نہ کبھی پڑھا۔ حالانکہ کسی بھی انٹرنیشنل ریلیشنز کے اسٹوڈنٹ کے لیے یہ بات واقعی حیرت انگیز ہے۔ اب ہے تو ہے!

اس سے بڑا حسنِ اتفاق یہ ہے کہ ستمبر 2018 میں ہی میں ریگا، جو لٹویا کا کیپیٹل سٹی ہے، کی سینٹرل لائبریری میں "ریگا کانفرنس” کے فیوچر اسکالر کے طور پر بیٹھا ہوا تھا۔۔۔ حسنِ اتفاق یا اتفاق پہ اتفاق!

منظر کشی کچھ یوں ہے کہ 2018 میں باکو میں ڈنر کرنے کے بعد جب میں ریسٹورنٹ سے باہر نکلا تو وہاں دو لٹوینز بھی اسی ریسٹورنٹ میں کھانے کے انتظار میں کھڑے تھے۔ چونکہ ہم ڈیلیگیشن کی صورت میں ریسٹورنٹ میں موجود تھے اور چار ملکوں کے ڈیلیگیشنز کا ڈنر چل رہا تھا اس لیے ان لٹوینز کو کسی نے وہاں اندر آنے تک نہیں دیا۔ بس کے انتظار میں کھڑے میرے اور پاکستانی دوستوں کی لٹوینز کے ساتھ بات چیت ہوئی۔ کسی بھی تھرڈ کنٹری میں پہلا سوال ہی یہی ہوتا ہے کہ آپ کس ملک سے ہیں یا کون سا مذہب ہے آپ کا۔ جب لٹوینز نے کہا کہ ہم لٹویا سے ہیں تو پہلے مجھے سمجھ ہی نہیں آیا مگر غور کیا اور پھر گوگل کیا تو پتا چلا یہ تو فار ایسٹ یورپ کا ملک ہے، شینگن میں ہے وغیرہ وغیرہ۔

تجسس کا ایک نیا باب تب کھلا جب واپسی پہ پاکستان آکر میں نے ویسے ہی لکھ ڈالا "انٹرنیشنل ریلیشنز کانفرنس ان لٹویا” اور سب سے پہلا سرچ رزلٹ آیا: "دی ریگا انٹرنیشنل کانفرنس”۔ پڑھا تو پتا چلا کہ کانفرنس میں فیوچر اسکالر 2018 کے تحت مضمون نویسی کا مقابلہ ہے۔ چار ٹاپکس دیے گئے تھے جن میں سے کسی ایک پر لکھنے کا پوچھا گیا تھا۔ ساتھ ہی ساتھ چنے گئے بہترین پیپرز کے لکھاریوں کو ریگا آنے کی دعوت دی جائے گی۔ دعوت بھی لٹویا کی حکومت اور لاٹو (لٹوین ٹرانس اٹلانٹک آرگنائزیشن) کی طرف سے ہوگی۔ ناچیز تو ہر وقت ایسے مقابلوں کی تاک میں ہوتا ہے۔ اگست 2018 میں لٹویا کا سنا گیا نام ستمبر 2018 میں خوابوں کی تعبیر بننے والا تھا۔

امتحان کی گھڑی تب آئی جب عین اسی دن رات 10 بجے پیپر سبمٹ کرنا تھا۔ میں نے ٹاپک چنا تھا: "کین ڈیموکریسی ون دی ماڈرن بیٹل؟” لے جی پھر کیا، کمپیوٹر کی بورڈ میرے سامنے، انگلیاں بٹنز پہ ٹک ٹک میرے کانوں میں اور اسکرین پہ بیٹھا میں آنکھیں چار کیے ہوئے! شام تک جو سمجھ میں آیا لکھ ڈالا اور ڈیڈ لائن سے قریباً 10 منٹ پہلے ای میل کر دیا آرگنائزیشنز کو۔

میری سوچ کا محور یہ ہے کہ مجھے فیل ہونے سے اتنی ہی محبت ہے جتنی جیت اور کامیابی سمیٹنے سے۔ انسان زندگی میں کبھی نہیں ہارتا، سیکھتا رہتا ہے۔ اگر ایک جگہ جانے کے لیے آپ 99 راستے بدلیں جو وہاں تک لے جانے والے نہ ہوں اور 100ویں راستے پہ آپ پہنچ جائیں تو وہ 99 راستے غلط نہیں بلکہ 99 مرتبہ آپ کی رہنمائی کے لیے بنے ہوتے ہیں۔

بالآخر وہ خوشخبری آ ہی گئی کہ ہفتے بھر کی بے چینی اور تذبذب کا شکار رہنے کے بعد پیغامِ محبت و آشنائی و کامیابی موصول ہوا۔۔۔ ملا سجن کا خط۔۔۔ لکھا تھا آپ کا پیپر 14 بہترین پیپرز میں چنا گیا ہے اور آپ کو دعوت ہے حکومتِ لٹویا کی طرف سے بطور فیوچر اسکالر 2018 ریگا، لٹویا میں۔ دے مار ساڑھے چار۔۔۔ جھوم اٹھے ہم۔۔۔ اور پکڑ لی تیاری ٹور ڈی یورپ کی۔ کوئی بھی چیز حاصل کرنے کے لیے محنت ضروری ہے۔

اب باری آئی ویزا کی۔ جرمن ایمبیسی اسلام آباد بنیادی طور پر لٹویا کے ویزوں کو ہینڈل کرتی ہے۔ آسان الفاظ میں، لٹویا ویزا کے لیے انہوں نے ایکریڈیٹیشن جرمن ایمبیسی کے ساتھ کی ہوئی ہے۔ کبھی وقت ملا تو پاکستان کے یورپ کے لیے ویزا مسائل یا ایجنٹوں کے فراڈ پر پوری تفصیل سے بات کروں گا۔ البتہ مجھے کوئی خاص مشکل پیش نہیں آئی کیونکہ مجھے دعوت نامہ موصول ہوا تھا ایک بین الاقوامی تعلقات والے ادارے اور حکومتِ لٹویا سے۔

یہاں صرف اتنا تذکرہ کرنا چاہتا ہوں کہ اگر قانونی راستے اختیار کیے جائیں تو دنیا کا کوئی ملک آپ کو روک نہیں سکتا بلکہ خوش آمدید ہی کہتا ہے۔ اب یہاں سے شروع ہوگا قارئین کے لیے میرے سفرِ یورپ کا سلسلہ، جس میں جن جن ملکوں سے میں گزرا اور میں نے کیا سیکھا، دیکھا اور پڑھا، اس پر جہاں دیدہ کرتے ہوئے آگے بڑھیں گے۔

اگلی قسط میں دیکھیے گیا کہ لٹویا کا ویزہ تو مل گیا لیکن سفر کی مشکلات ابھی باقی تھیں۔ پاکستان سے ریگا تک کوئی ڈائریکٹ فلائٹ نہ تھی، مگر تقدیر نے پہلا پڑاؤ اوسلو (ناروے) میں رکھا تھا۔ اس تعلیمی سفر میں میرا حوصلہ کس نے بڑھایا؟ خیبر پختونخوا یوتھ ڈائریکٹوریٹ نے کس طرح میرے پیپر کو سراہتے ہوئے دو لاکھ روپے کی مالی معاونت سے میرے خوابوں کو پر دیے؟

اور پھر اوسلو کی برفانی ہواؤں میں، ‘خان فیکٹر’ کے کیمرے کی آنکھ نے میری نظموں اور غزلوں کو کن حسین لوکیشنز پر قید کیا؟ ایک اسکالر جب شاعر بن کر ناروے کی سڑکوں پر نکلا تو کیا بیتی؟

یہ سب اور بہت کچھ… اگلی قسط میں!”

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے