چترال کے پہاڑ برف کی لپیٹ میں

چترال کے پہاڑ برف کی لپیٹ میں آ چکے ہیں۔ دسمبر کی آخری رات ہے۔ کل نئے سال کا سورج طلوع ہوگا۔ کل تک میدانی علاقے بھی برف کی لپیٹ میں آ چکے ہوں گے۔ موسم مزید سرد پڑ جائے گا۔ ہوا میں ایک اور طرح کی ٹھنڈ در آئے گی۔ سانس منجمد ہوتی محسوس ہوگی۔

شمالی علاقہ جات میں جاڑے کی برفباری دو تین دفعہ اور کبھی کبھی چار دفعہ ہو جاتی ہے۔ ہماری عمر تیس سال کے آس پاس ہے۔ ہم نے بچپن میں زیادہ برف باری دیکھی تھی۔ ہمارے بڑوں نے جو دیکھی ہے، ان کے بقول اب کہ برف باری آدھی رہ گئی ہے۔ اس باقی آدھی کون اڑا لے گیا؟ آب و ہوا والے، ماحولیات والے بہتر گائڈ کر سکتے ہیں۔ یہاں کے ماحول میں جو ہم نے تبدیلی دیکھی، وہ یہ کہ جنگلات کٹ کر رہ گئے ہیں۔ یہاں جنگلاتی لکڑی کے متنوع نام ہیں۔ سرکاری لکڑی، سوختی لکڑی، عمارتی لکڑی۔ سرکار نے جنگلات کاٹ دیے۔ مقامی لوگوں نے گھریلو استعمال کے لیے کٹائی کی۔ عمارتیں کھڑی کیں۔ جنگلات کو کاٹ کر راستہ بنایا گیا اور اس نو تراشیدہ راستوں پر لکڑیوں لایا گیا۔ ایک دفعہ راستہ بن جائے تو وہ کبھی بھرتا نہیں۔ بارش کے پانی کو راستہ مل جاتا ہے اور اس کو سیلاب ایک نالہ سا بنا دیتا ہے۔ پس۔ سیلاب زیادہ آنے لگے ہیں۔ بارش اور برف باری کم پڑنے لگی ہے۔

جب چترال میں برف پڑتی ہے تو یہ کافی عرصہ برقرار رہتی ہے۔ یوں نہیں کہ کل پڑی اور پرسوں اُڑ گئی۔ یہاں سورج کی تپش کم ہے اور بہت سارے علاقے چار پانچ ماہ تک سورج کی کرنیں نہیں دیکھ پاتے۔ یوں ایک عرصے تک برف پڑی رہے گی۔

زندگی مشکل ہو کر رہ جاتی ہے۔ موسمِ سرما کی چھُٹیاں ہوتے ہی بہت سارے لوگ ڈاؤن کنٹری چلے جاتے ہیں اور سخت سردی کے دو ماہ گزار آتے ہیں۔ جن کو یہاں مجبوریوں نے قیام پر مجبور کیا ہے، ان کی زندگیاں مشکل ہو کر رہ جاتی ہیں۔

مال مویشی والے اور بکروال طبقہ سردیوں میں چترال ہی کے ان علاقوں میں جا بستا ہے جہاں برف کم پڑتی ہے۔ جن کی بھیڑ بکریاں کم ہوں یا وہ ہجرت ایفورڈ نہیں کر سکتے، ان کی اور ان کی بھیڑ بکریوں کی قسمت میں ٹپکتا آسمان اور منجمد فرش ہوتا ہے۔ برف دو تین دن پڑتی ہے مگر پورے جاڑے میں پڑی رہتی ہے۔

موسمِ سرما میں چرواہے knights (سورماؤں) کے اوتار میں ہوتے ہیں۔ فائٹنگ موڈ میں پوری طرح ساز و سامان سے لیس نظر آتے ہیں۔ ہر چند ان کی رسائی جدید ساز و سامان تک نہیں جو سردی سے بچا سکے مگر اپنے طور پر وہ بھیڑ بکریوں کی کھال سے زرہ بناتے ہیں اور ان کو پیروں اور ٹانگوں پر چڑھاتے ہیں، پرانی سویٹر پھاڑ کر جرابیں بُنتے ہیں، اپنی کلہاڑیاں تیز رکھتے ہیں۔ ریوڑ کی شکم سیری ہوتی ہے اور برفیلے موسم میں ریوڑ میں سے ایک کو کاٹ کھاتے ہیں۔

چترال کی سڑکیں زیادہ تر کچی ہیں۔ خشک موسم میں گرد و غبار اڑاتی ہیں اور بارشوں میں دلدل سے لدی رہتی ہیں۔ مین رابطہ سڑک لواری ٹنل کی وجہ سے اگرچہ زیادہ تر کھُلی ہوتی ہے مگر یہ ہدایت مسلسل رہتی ہے کہ انتہائی ایمرجنسی کے علاوہ سفر سے گریز کیا جائے اور ایمرجنسی میں بھی سنو چین کا استعمال کیا جائے۔ یہ ہدایت نہ بھی رہے تو پہاڑی علاقوں کی سڑکیں خود یہی خطرے کی گھنٹی بجاتی ہیں۔ میدانی علاقوں کے برعکس، یہاں جب گاڑی سلپ کرتی ہے تو اگلی منزل نشیب میں پڑی کوئی کھائی ہوتی ہے۔

برفباری میں شمال کے پہاڑی علاقہ جات میں حیات سُکڑ کر رہ جاتی ہے۔ زندگی دشوار تر ہوتی جاتی ہے۔ امیر طبقہ جس طرح جھلسا دینے والی گرمی میں اے سی چلا لیتا ہے، یہاں بھی امیروں کی انگیٹھیاں گرم رہتی ہیں۔ بندہء مزدور پر حیات تنگ ہو جاتی ہے۔ بکروال طبقہ بے چین ہو جاتا ہے۔ پالتو جانور باڑوں میں نظر بند ہو جاتے ہیں۔ جنگلی حیات غاروں میں جا چھپتی ہے۔ انسان گھر تک محدود ہو جاتا ہے۔

رات کے گیارہ بج گئے ہیں۔ نیا سال داخل ہونے میں ایک گھنٹہ رہ گیا ہے۔ جب لکھنا شروع کیا تو دور پہاڑوں پر برف تھی مگر وادیوں تک نہیں پہنچی تھی۔ اب کہ باہر نکلا تو برفباری نے اک بساط بچھائی ہے اور فضا میں آگ سی دہکائی ہے۔ پیڑوں کی ٹہنیاں برف سے جھُکی جا رہی ہیں۔ زمین پر بساط بچھ چکی ہے۔ یہ برف باری سالِ گزشتہ اور سالِ نو کے سنگم پر پڑی ہے۔ الوداع اور مرحبا، ایک ساتھ کہنے آئی ہے۔
سب کو نئے سال کی بہت ساری شبھ کامنائیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے