سایہ نہیں شیشہ دیکھ کر فیصلہ کریں

ایک تصویر اپ کے سامنے ہے جو محض تصویر نہیں بلکہ ضمیر پہ دستک ہے کہ کیا ہم جو اپنی ذات، مال اور دولت اور طاقت کے نشے میں وہ خود کو اس مقام پر فائز سمجھتے ہیں کہ دوسرے ہمیں جاہل،کمزور اور چھوٹے لگنے لگتے ہیں مگر سائے کی طرح وہ ہمارا خیالی پلاؤ ہوتا ہے نہ کہ حقیقت۔ حقیقت اس سے کوسوں دور ہوتی ہے جسکو دیکھنے کے لیے ہمیں تذکیہ نفس کی ضرورت ہے۔

یہ مال اور طاقت فرعون کے پاس آئی تو وہ اس حد تک بڑھ گیا کہ خدائی کا دعوٰی کر گیا مگر جب پالا سمندر کی موجوں سے پڑا تو وہ خود کو بھی غرق ہونے سے نہیں بچا سکا۔ اسکا خدائی کا دعوٰی اور اسکی حقیقت بالکل متضاد تھے۔اسی طرح وقت تاریخ ایسے کرداروں سے بھری پڑی ہے جو اپنے اقتدار ،سرداری یا مال و دولت یا طاقت کے نشے میں لت عام انسانوں کا جینا حرام کر رکھا تھا مگر ایک روح نکلنے کی دیر تھی سب کچھ خاک میں مل گیا اور بندہ اپنے کپڑے بدلنے کی اوقات بھی کھو بیٹھے۔اقتدار، سرداری، دولت یا طاقت کچھ کام نہیں آئی۔

اکثر دیکھا جاتا ہے کہ جب انسان کو اقتدار حاصل ہو جائے یا مال اور دولت ہاتھ لگ جائے تو وہ اوقات بھول جاتا ہے۔اسکا لہجہ اور انداز متکبرانہ ہو جاتا ہے اور رویہ جارہانہ۔ مخلوق خدا کے لیے ہمدردی اسکے وجود سے نکل جاتی ہے۔ انسان یہ بھول جاتا ہے کہ وہ اس دنیا میں آزمائے جانے کے لیے مختصر وقت کے لیے بھجا گیا ہے جیسے سورہ ملک میں اللہ پاک فرماتے ہیں کہ ہم نے موت اور حیات کو اس لیے پیدا فرمایا تا کہ جان لیں کہ تم میں سے کون سب سے بہترین اعمال لے کر آتا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ انسان دھوکہ کیوں کھاتا ہے اور اپنی حثیت کیوں بھول جاتا ہے؟ تو جواب یہ ہے کہ انسان کا نفس اسکو اقتدار، مال اور دولت میں ایک عارضی لذت محسوس کرواتا ہے اور اس لذت میں انسان اپنی حثیت اور دنیا میں آنے کے مقصد کو بھول جاتا ہے۔ انسان کو رب العزت نے اپنے وجود پہ غور کرنے کی تلقین کی ہے جس سے انسان اپنی حثیت سمجھ سکتا ہے کہ جسطرح بچپن میں ننگا پیدا ہوا تھا اور اسکو کپڑے پہننے کی سکت نہیں تھی، وہ بولنے کے قابل تک نہیں تھا نہ قدم بھر چلنے کے۔ نبی کریم صل اللہ علیہ والہ وسلم نے لذتوں کو توڑنے والی چیز موت کو بار بار یاد کرنے کی تلقین فرمائی ہے جسکو اگر بندہ مومن اگر یاد کرتا رہے تو نہ اسکے اندر تکبر نظر آئے گا نہ اخلاق میں بےرخی۔ بلکہ وہ ایک عاجز اور اخلاق اور نیک کردار والا شخص ہو گا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے