تصویر نمبر 3850 اور زورین نظامانی کا ڈیلیٹ شدہ مضمون

دونوں میاں بیوی نے اپنے کیمرے اور ہیلی کاپٹر تیار کیے۔ یہ دونوں ایک بڑے ماحولیاتی پراجیکٹ پر کام کر رہے تھے لیکن انہیں علم نہیں تھا کہ ان کی 12 ہزار تصاویر میں سے تصویر نمبر 3850 مستقبل کے میڈیا سٹڈیز میں ایک تھیوری کی موجد ثابت ہوگی اور انہیں عدالت تک لے جائے گی۔

کینتھ ایڈیلمین اور ان کی اہلیہ گیبریل ایڈلمین آج سے تقریباً 23 سال قبل یعنی 2002 میں امریکی ریاست کیلیفورنیا کے ساحل پر سمندری کٹاؤ کو ریکارڈ کرنے کے لیے فضاء سے تصاویر لے رہے تھے۔ یہ ایک تحقیقی نوعیت کا منصوبہ تھا جس کا مقصد ساحلی تبدیلیوں کو دستاویزی شکل دینا تھا۔ اس پراجیکٹ کے تحت ابتدائی طور پر 2002 تا 2003 تقریباً 12 ہزار تصاویر لی گئیں۔

ان ہزاروں تصاویر میں سے ایک تصویر ایسی بھی تھی جس میں مالیبو کے ساحل پر واقع ایک مکان دور سے نظر آ رہا تھا۔ یہ مکان معروف گلوکارہ اور اداکارہ باربرا سٹریسنڈ کا تھا۔ یہ تصویر کافی دور سے بنائی گئی تھی جس میں گھر کے اندر کا منظر واضح نظر نہیں آرہا تھا۔ ایک سال تک 12 ہزار تصاویر میں سے یہ تصویر(تصویر نمبر 3850) ویب سائٹ پر پڑی رہی۔ اس تصویر کو تقریباً ایک سال میں 6 لوگوں نے ڈاؤنلوڈ کیا جن میں سے دو خود باربرا سٹریسنڈ کے وکلاء تھے۔

باربرا سٹریسنڈ نے اس تصویر کی آڑ لے کر پرائیویسی کی خلاف ورزی کے نام پر فوٹوگرافر پر پچاس ملین ڈالر کا مقدمہ دائر کیا۔ اچانک میڈیا اور عوامی تجسس بیدار ہو گیا۔ وہ تصویر جو اب تک 6 لوگوں نے ڈاؤنلوڈ کی تھی اب پوری دنیا کی نظر میں آگئی۔ لوگوں نے تلاش شروع کی کہ آخر وہ تصویر کونسی ہے جسے اتنا خطرناک سمجھا جا رہا ہے۔ چند ہی دنوں میں وہ تصویر لاکھوں لوگوں تک پہنچ گئی۔ مختلف ویب سائٹس پر دوبارہ اپ لوڈ ہونے لگی اور عالمی میڈیا میں موضوع بحث بن گئی۔ کیس چلا تاہم عدالت نے مقدمہ مسترد کر دیا لیکن اس واقعے نے میڈیا سٹڈیز میں ایک مستقل اصطلاح کو جنم دیا جسے Streisand Effect کہا جاتا ہے۔ یعنی کسی چیز کو چھپانے یا دبانے کی کوشش اکثر اسے مزید پھیلا دیتی ہے۔

دو دہائیاں گزرنے کے بعد یہی منطق ایک مختلف جغرافیے اور مختلف سیاق و سباق کے ساتھ خود کو دہراتی نظر آرہی ہے۔ اس بار تصویر کی جگہ ایک مضمون جبکہ مالیبو کی ساحل کی جگہ پاکستان میں میڈیا کے منظرنامے اور طاقت خے استعمال نے لے لی ہے۔ گزشتہ روز سے یہ مضمون ‘It is over’ موضوع بحث بنا ہوا ہے جو پاکستان کی معروف اداکارہ فضیلہ قاضی اور اداکار قیصر خان نظامانی کے بیٹے زورین نظامانی نے ایکسپریس ٹریبیون کے لیے لکھا ہے۔

زورین نظامانی ایک وکیل، صحافی اور تجزیہ کار ہیں جن کی تحریریں ایکسپریس ٹریبیون سمیت کئی دیگر پلیٹ فارمز پر شائع ہوتی رہی ہیں۔ کراچی سے تعلق رکھنے والے زورین اپنی تحریروں میں پاکستان کی موجودہ سیاسی، سماجی اور معاشی ساخت پر بے لاگ بات کرتے ہیں۔

اپنے حالیہ مضمون “It is Over” میں انہوں نے پاکستان کے طاقت کے پرانے ڈھانچوں پر سوال اٹھایا اور اس ‘ضعیف سیاسی و معاشی طبقے’ پر تنقید کی جو مسلسل نوجوانوں کو مستقبل کے وعدے تو دیتا ہے لیکن حال میں اصلاحات کرنے سے قاصر ہے۔ کالم میں جنریشن زی کی مایوسی، عدم مساوات، تعلیم کے زوال اور برین ڈرین کو طاقت کے بل پر کیے گئے فیصلوں کا نتیجہ قرار دیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ کس طرح ہر ممکن کوشش کے باوجود اب نئی نسل گھسے پٹے بیانیے پر کان کیوں نہیں دھرتی۔

اگر یہ کالم اپنی جگہ پر موجود رہتا تو غالب امکان ہے کہ یہ انگریزی پڑھنے والے ایک محدود طبقے تک بھی شاید نہ پہنچ پاتا لیکن اسے ڈیلیٹ کر کے ‘سٹریسنڈ ایفیکٹ’ مول لیا گیا یعنی جس چیز کو دبانے یا چھپانے کی کوشش کی گئی وہ مزید نمایاں ہوگئی۔

پاکستان میں انگریزی میڈیا تاریخی طور پر اردو میڈیا کے مقابلے میں نسبتاً زیادہ آزادی اس لیے حاصل کرتا رہا ہے کہ اس کے قارئین کا دائرہ اشرافیہ، بیوروکریسی اور تعلیم یافتہ طبقے تک محدود رہا ہے۔ اردو اخبارات اور چینلز تو روایتی طور پر زیادہ کنٹرولڈ رہے ہیں۔ جس ملک کی شرح خواندگی اب تک 60 فیصد کے لگ بھگ ہو اور انگریزی تک رسائی محدود ہو وہاں عام عوام انگریزی کالم نہیں پڑھتے۔ اس لیے انگریزی میڈیا پر ماضی بعید میں دباؤ کم رہا۔ تاہم ڈیجیٹل میڈیا کے پھیلاؤ نے یہ منظر نامہ بھی بدل دیا ہے۔ اب انگریزی مواد کی رسائی آسان ہو گئی ہے اور سوشل میڈیا پر ترجمے، سکرین شاٹس اور شیئرنگ کی وجہ سے یہ عام عوام تک پہنچ جاتا ہے۔ اسی لیے ماضی قریب میں انگریزی میڈیا پر بھی دباؤ بڑھتا ہوا دیکھا گیا۔

شاید اسی ڈر کی وجہ سے اچانک ویب سائٹ سے مضمون غائب کر دیا گیا۔ نہ کوئی وضاحت، نہ کوئی ادارتی نوٹ، نہ کوئی تصحیح! اس ‘خاموش واردات’ نے سٹریسنڈ ایفیکٹ کی یاد دلا دی کہ اگر آپ انٹرنیٹ کے اس دور میں کوئی چیز چھپانے یا دبانے کی کوشش کریں گے تو وہ مزید نمایاں ہو کر سامنے آئے گی۔ اور پھر ثابت بھی ہوگیا۔ زورین نضامانی کا مضمون ختم نہیں ہوا بلکہ نئی زندگی پا گیا۔ مضمون مسلسل اردو میں ترجمہ ہو رہا ہے، سوشل میڈیا پر شئیر ہو رہا ہے اور اس پر خوب بحث چل رہی ہے۔ وہ بات جو شاید چند ہزار قارئین تک محدود رہتی اب لاکھوں لوگوں تک پہنچ رہی ہے۔ سو جناب والا! مالیبو کے ساحل پر لی گئی ایک غیر نمایاں تصویر اور پاکستان میں ویب سائٹ سے ڈیلیٹ کیا گیا مضمون ایک ہی فکری دھارے میں آ مل رہے ہیں۔ یاد رکھیں کہ ڈیجیٹل دور میں ‘طاقت کا استعمال’ کر کے خاموشی پیدا نہیں کی جا سکتی بلکہ اس سے شور جنم لیتا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے