جنازہ میں تاخیر، حدیثِ ،ایک سنجیدہ فقہی و اخلاقی گزارش

اسلام محض چند احکام کا مجموعہ نہیں، بلکہ حکمت، اعتدال اور حسنِ اخلاق کا مکمل نظام ہے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے دور میں بعض فقہی مسائل کو، خصوصاً جنازہ میں تاخیر جیسے نازک موضوعات کو، اس انداز سے اچھالا جا رہا ہے کہ گویا دین کی بنیادیں ہل گئی ہوں، حالانکہ حقیقت اس شور و غوغا سے کہیں زیادہ متوازن اور سادہ ہے۔

نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے:
«أسرعوا بالجنازة»
“جنازے میں جلدی کرو”
(بخاری، مسلم)

یہ حدیث بالکل حق ہے، مگر حق بات کو بھی اسی فہم کے ساتھ قبول کرنا ضروری ہے جو ائمۂ امت نے بیان کیا ہے۔ حدیث کے چند الفاظ لے کر پورا فقہی فیصلہ صادر کر دینا نہ علم ہے اور نہ دیانت۔

حدیث کا صحیح مفہوم

محدثین اور فقہاء جیسے امام نوویؒ، حافظ ابن حجرؒ، ابن قدامہؒ سب اس بات پر متفق ہیں کہ:
• اس حدیث کا حکم وجوب (فرض یا واجب) کا نہیں
• بلکہ استحباب (سنت و مستحب) کا ہے
• مقصد یہ ہے کہ بلا وجہ، محض سستی یا رسم کے طور پر تاخیر نہ کی جائے

لہٰذا شریعت کی نظر میں:

• جنازہ میں جلدی کرنا سنت اور مستحب ہے
• کسی معقول، شرعی یا انسانی مصلحت کی بنا پر تاخیر جائز ہے
• اور ایسی تاخیر پر نہ کوئی سخت وعید ہے، نہ کبیرہ گناہ کا حکم
فقہی اصطلاحات کو سمجھے بغیر سخت ردِ عمل

فقہ میں اعمال کے واضح درجے ہیں:

• فرض
• واجب
• سنت
• مستحب
• مکروہ
• حرام

اب سنجیدگی سے سوال یہ ہے کہ:

کیا کسی مستحب عمل میں تاخیر کو اس انداز سے اچھالا جائے کہ گویا کسی نے فرض ترک کر دیا ہو؟
یہ طرزِ فکر فقہ کی روح سے بھی بعید ہے اور دین کے مزاج سے بھی۔

حالیہ جنازے اور غیر ضروری تنازع

حضرت مفتی مختارالدین شاہؒ اور حضرت پیر ذوالفقار نقشبندیؒ جیسی شخصیات:
• عمر بھر علم، اصلاح اور خاموش خدمت کی علامت رہیں
• شہرت، میڈیا اور تنازعات سے ہمیشہ دور رہیں

ان حضرات کے جنازوں میں ایک دن کی تاخیر:

• نہ کسی نمود و نمائش کے لیے تھی
• نہ کسی دینی حکم کی مخالفت کے لیے

بلکہ اس کا مقصد:

• دور دراز علاقوں سے آنے والوں کو شرکت کا موقع دینا
• طویل سفر (جیسے اسلام آباد، شفا ہسپتال وغیرہ) کی مجبوری
• اور زیادہ لوگوں کی دعا اور حاضری تھا

فقہاء کے نزدیک ایسی تاخیر:

• بالکل جائز ہے
• بلکہ بعض حالات میں مستحسن (قابلِ تحسین) بھی ہے، کیونکہ دعا کی کثرت میت کے حق میں نفع کا سبب بنتی ہے۔

اکابر امت کا عملی تعامل

یہ کوئی نیا یا انوکھا عمل نہیں:

• امام احمد بن حنبلؒ
• شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ
• شیخ عبدالعزیز ابن بازؒ

ان جیسے جلیل القدر علماء کے جنازے بھی:

• تاخیر سے ادا ہوئے
• تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ شریک ہو سکیں

امت نے کبھی اسے بدعت یا گناہ نہیں کہا، کیونکہ سب جانتے تھے کہ یہ تاخیر مصلحت پر مبنی تھی، نہ کہ غفلت پر۔

اصل مسئلہ کہاں ہے؟

اصل مسئلہ جنازہ لیٹ ہونا نہیں، بلکہ:

• فقہی بصیرت کا فقدان
• اور سوشل میڈیا پر فوری شہرت حاصل کرنے کا رجحان ہے

جب علم کم اور جذبات زیادہ ہوں تو:

• ہر مسئلہ فتنہ بن جاتا ہے
• اور ہر واقعہ اختلاف کا میدان

یہ طرزِ عمل نہ دین کی خدمت ہے، نہ اصلاح کا ذریعہ۔

جنازہ میں جلدی کرنا یقیناً سنت ہے،
مگر سنت کو قانونِ تعزیر بنا دینا، اور جائز عمل کو جرم بنا دینا خود دین کے حسن کے خلاف ہے۔

خصوصاً ان اکابر شخصیات کے بارے میں:

• جنہوں نے اپنی زندگی میں کبھی اختلاف کو ہوا نہیں دی

ان کے انتقال کے بعد:

• انہیں متنازع بنانا
• اور ان کے اہلِ خانہ و متعلقین کو اذیت دینا

کسی طور بھی دینی وقار کے شایانِ شان نہیں۔

دین شور نہیں، شعور کا نام ہے؛
سختی نہیں، حکمت کا نام ہے؛
اور تنقید نہیں، خیر خواہی کا تقاضا کرتا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے