اسکالر ڈائریز: ٹور ڈی یورپ (قسط نمبر 2)

ماضی کا عکس اور نئے سفر کی تمہید

پچھلے کالم میں ذکر ہوا تھا کہ کس طرح لٹویا جیسے ملک سے میری ناواقفیت، ایک خوشگوار حیرت اور پھر ‘ریگا کانفرنس’ کے لیے ‘فیوچر اسکالر’ منتخب ہونے کے سفر میں بدل گئی۔ باکو کے ایک ریسٹورنٹ کے باہر چند لٹوینز سے ہونے والی سرسری ملاقات نے مجھے ایک بین الاقوامی مضمون نویسی کے مقابلے تک پہنچایا، جہاں آخری لمحات میں جمع کروائے گئے میرے مقالے نے مجھے دنیا بھر کے 14 بہترین اسکالرز کی فہرست میں شامل کروا دیا۔ ویزا کے مراحل طے ہوئے اور یوں ایک انجان ملک کی جانب میرے سفرِ دانش کا آغاز ہوا۔

سفر کی اس کہانی کو آگے بڑھاتے ہوئے بتاتا چلوں کہ ریگا پہنچنے سے پہلے ابھی دو بڑے مرحلے باقی تھے، ایک سفر کے اخراجات کا بندوبست اور دوسرا اوسلو کا وہ مختصر مگر یادگار قیام جس نے اس سفر میں شاعری کے رنگ بھر دیے۔

اللہ بھلا کرے ایک مخلص دوست کا جنہوں نے مجھے راستہ دکھایا یوتھ ڈائریکٹوریٹ خیبر پختونخوا کا۔ علی الصبح پہنچے سپورٹس ڈائریکٹوریٹ اور وہاں انتظار میں بیٹھے جناب اسفندیار صاحب کے جو ڈائریکٹر تھے۔ ان سے ملے، باقاعدہ درخواست کی اور بتایا کہ جناب میرا مقالہ 14 بہترین عالمی مقالوں میں منتخب ہوا ہے۔انہوں نے پیپر پڑھا، ڈھیر ساری تعریف کی اور بالاآخر یہ فیصلہ ہوا کہ دیر سے تعلق رکھنے کی بنیاد پر آپ کوسفر کے اخراجات, ٹکٹ کی مد میں دیے جائیں گے۔

کہتے ہیں کہ اللہ جب راستے بنانے پر آئے تو جہاں انسان نے سوچا بھی نہیں ہوتا، وہاں سے کوئی نہ کوئی ذریعہ نکل آتا ہے۔ شام کو میرے ایک پرانے دوست کی کال آئی جو آج کل اوسلو (Oslo) میں مقیم ہیں۔ ان کا نام شہریار ہے۔ وہ ‘خیبر ٹی وی’ میں میرے ساتھ بطور NLE ایڈیٹر کام کرتے تھے۔ پھر وہ ناروے چلے گئے اور وہیں کے ہو کر رہ گئے۔ آج کل وہ اوسلو کے پاس ایک چھوٹے سے قصبے ‘حاشم’ (Askim) میں رہائش پذیر ہیں۔

شہریار نے کال پر بتایا کہ وہ اسی رات اسلام آباد سے واپس اوسلو جا رہے ہیں۔ چونکہ کافی وقت سے ملاقات نہیں ہوئی تھی، اس لیے میں انہیں الوداع کہنے اسلام آباد ایئرپورٹ پہنچ گیا۔ ان دنوں شہریار وہاں بے روزگار تھے۔ فون بند کرنے کے بعد میں نے آن لائن ٹکٹس چیک کیں تو اتفاق سے مجھے اوسلو کے لیے کویت یا قطر ایئر ویز کی بہت ہی مناسب ٹکٹ مل گئی۔ وہیں ایئرپورٹ پر شہریار سے ملاقات کے دوران میں نے کہا کہ "دوست! میں بھی پرسوں آ رہا ہوں”۔ شہریار اپنی تیکھی طبیعت کا مالک ہے، کہنے لگا "بھائی میں خود بے روزگار ہوں، ابھی مت آؤ”۔ مگر محبت کا عالم یہ تھا کہ جب میں دو دن بعد اوسلو ایئرپورٹ پہنچا، تو وہی شہریار بانہیں کھولے میرے استقبال کے لیے کھڑا تھا۔

اوسلو پہنچنے پر اس نے اپنی بے روزگاری کے باوجود میری ایسی مہمان نوازی کی کہ میں دنگ رہ گیا۔ یہاں مجھے احساس ہوا کہ غربت دسترخوان کو تو شاید چھوٹا کر سکتی ہے مگر مخلص انسان کے دل اور اس کی مہمان نوازی کو کبھی کم نہیں ہونے دیتی۔ سچ تو یہ ہے کہ صحافت کے پیشے کی ایک خوبصورتی یہ ہے کہ اس شعبے کے دوست مرتے دم تک ساتھ نبھاتے ہیں۔ آپ ان سے سالوں بعد ملیں، وہ آپ کو اسی تپاک اور اپنائیت سے ملیں گے جیسے آپ آج بھی کولیگز ہوں۔ نہ کوئی بناوٹ، نہ کوئی تکلف۔ شہریار کے ساتھ میری بے تکلفی کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ خیبر ٹی وی میں وہ اکثر میرا سپورٹس پروگرام ایڈٹ کیا کرتے تھے۔ ان کی مہارت کی بہت ڈیمانڈ تھی، مگر وہ میرے کام کے لیے وقت نکال ہی لیتے۔ ان کے بنائے ہوئے پروموز اور میرے وہ سپورٹس پروگرام شاید آج بھی خیبر ٹی وی کے ریکارڈ میں محفوظ ہوں گے۔

اوسلو میں گزرے وہ دو دن بہت شاندار تھے۔ شہریار اب وہاں اسکول بس چلاتے ہیں اور نارویجین نیشنل ہیں، مگر NLE ایڈیٹنگ کا صحافیانہ شوق اب بھی یوٹیوب چینل "خان فیکٹر” (Khan Factor) کے ذریعے پورا کرتے ہیں۔ باتوں باتوں میں انہوں نے مشورہ دیا کہ "یہاں نزدیک ہی سویڈن اور ناروے کے بارڈر پر ایک حسین علاقہ ہے۔ اگر آپ اپنی شاعری کریں اور میں اسے فلمبند کروں، تو ہم 5 منٹ کا ایک اچھا پشتو مونتاج (Montage) بنا سکتے ہیں”۔

میں پہلے ہچکچایا، کیونکہ 2011 میں خیبر ٹی وی چھوڑنے کے بعد میں نے کبھی کیمرے کا سامنا پروفیشنلی نہیں کیا تھا۔ مگر جب شہریار کیمرہ کے پیچھے ہو، تو پروفیشنلزم خود بخود جاگ اٹھتا ہے۔ سارا دن سردی اور بھوک کی پروا کیے بغیر ہم نے ریکارڈنگ کی، اور پھر واپس ‘حاشم’ پہنچ کر 15 سال بعد دوبارہ ایک ساتھ بیٹھ کر ایڈیٹنگ کی۔ شہریار کے پاس کچھ ڈرون شاٹس تھے، جنہیں میری شاعری کے ساتھ جوڑ کر ہم نے صحافت کے پرانے دنوں کی پیاس بجھائی۔ شاید اس وقت ہم دونوں ہی اپنی اپنی پریشانیوں سے دور بھاگنا چاہتا تھا اور میں بھی۔

اس سفر کے دوران مجھے ناروے میں پاکستانی کمیونٹی کو قریب سے دیکھنے کا موقع بھی ملا۔ وہاں "اوورسیز پاکستانیز گلوبل فاؤنڈیشن” ایک ادارہ ہے جو پاکستانیوں نے خود سے بنایا ہے۔ ناروے میں ان کے سرپرستِ اعلیٰ کا نام عباس ہے۔ محمد عباس ایک پڑھے لکھے اور سنجیدہ انسان ہیں۔ ان کے ساتھ اوسلو میں وہاں کی پاکستانی کمیونٹی کے حوالے سے سیر حاصل گفتگو ہوئی اور ہوتی رہتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ناروے میں تقریباً 40 سے 50 ہزار پاکستانی مقیم ہیں، جو وہاں کی سب سے بڑی غیر یورپی کمیونٹیز میں سے ایک ہے۔ یہ لوگ وہاں ٹیکسی ڈرائیونگ اور بس ٹرانسپورٹ سے لے کر طب (Doctors)، انجینئرنگ، آئی ٹی اور سیاست جیسے معتبر شعبوں میں اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔

ناروے یورپ کے بالکل آخری حصے پر ہے، جہاں سے آگے یا تو سمندر ہے یا برف، بلکہ ایسا مقام بھی ہے جس کو زمین کا آخری کونا کہا جاتا ہے۔ شدید سردی کے باوجود وہاں کے لوگوں نے جو ترقی کی ہے، وہ حیران کن ہے۔ گرمیوں کے دنوں میں بڑے میدانوں میں پھیلے ہوئے کھیت اور ان میں اگے ہوئے گھاس کی خوبصورت کٹائیاں انسانی نظر اور دل کو اپنی طرف بہت کھینچتی رہتی ہیں۔ انتہائی صاف، جگہ جگہ ہسپتال، شاپنگ مالز اور ہر طرح کی سہولیات سے آراستہ ملک ہے۔ یہ ملک رقبے کے لحاظ سے تو خاصا وسیع ہے لیکن اس کی آبادی محض 55 لاکھ کے قریب ہے، جس کی وجہ سے یہاں ہر طرف سکون اور کشادگی کا احساس ہوتا ہے۔ یہ ملک پائیدار ترقی (Sustainable Development) کی ایک بہترین مثال ہے جہاں تعلیم اور صحت سب کے لیے مفت اور معیاری ہے۔

اوسلو کی ان ٹرینوں میں سفر کرتے ہوئے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے سوات کے پہاڑوں میں جدید ترین اسپیڈ ٹرینیں رواں دواں ہوں۔ تب یہ احساس شدت سے ہوتا ہے کہ ہمارے ہاں بھی وسائل اور خوبصورتی کی کمی نہیں، بس ذرا سے نظام اور سچی نیت کی ضرورت ہے۔ اللہ کرے ہمارا ملک بھی کبھی ایسی ہی ترقی دیکھے، آمین۔

قصہ مختصر، یہ سفر ابھی جاری ہے۔ اگلی قسط میں ذکر ہوگا کہ "فاختہ” کی چال چلتے ہوئے ہم ریگا براستہ پولینڈ (وارسا) کیسے پہنچے، اور وہاں ہمارے پرانے باس اور پولینڈ میں پاکستان کے سفیر محترم شفقت علی خان صاحب سے ملاقات کا احوال کیا رہا۔ وارسا میں کس نے خوش آمدید کہا، کیا دیکھا اور کیا سیکھا۔۔۔ سب اگلی قسط میں!

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے