ایک کہانی جس سے کہانی کار آنکھیں نہیں ملاپاتا

ایک ساٹھ سالہ شخص، بوسیدہ اخبارات تھامے، فدا شہید چوک پر ٹریفک سائبان کے پاس آ کر کھڑا ہو گیا۔
ٹریفک کی روانی کے بیچ وہ نادیدہ ناظرین سے مخاطب ہوا:

“اَے خاک نشینو!

سلاطینِ وقت نے اب یہ اپنا وطیرہ بنا لیا ہے کہ
جب چاہیں سڑکیں بند کر دیں،
جب چاہیں لاکھوں لوگوں کے روزگار کا ذریعہ بننے والی سرحدیں سیل کر دیں۔

لیکن عوام آج ایک ایسی صورتحال سے دوچار ہیں جہاں
نہ مال محفوظ ہے،
نہ کاروبار،
نہ عزت و آبرو،
اور نہ ہی جان۔

2010–11 میں جس لاقانونیت اور غیر دستوری نظام کا ہم نے سامنا کیا تھا،
وہی اب ایک خونخوار عفریت بن کر دوبارہ لوٹ آیا ہے۔

اَے میرے ہمنوا!
کیا آپ جانتے ہیں کہ
یکم دسمبر 2025 کی شام مُلّائی بازار سے
معروف کاروباری شخصیت، ٹھیکیدار گلجان رند کے فرزند
شہنواز گلجان رند کو نامعلوم افراد نے اسلحے کے زور پر اغوا کیا؟
اور صرف چھ دن بعد
معروف سیاسی و کاروباری شخصیت، حاجی یاسین کے فرزند
حسیب یاسین کو گن پوائنٹ پر اغوا کر لیا گیا؟

اَے عظیم تہذیب کے وارثو!

اغوا نما انسان فروشی کے اس انسانیت سوز اور گھناؤنے کاروبار کے خلاف
فوراً اُٹھ کھڑے ہو جائیے۔
اور جب جب اس لاقانونیت کے خلاف احتجاج کا اعلان ہو،
خود کو نئے عزم اور تازہ حوصلے کے ساتھ
اُن صفوں میں شامل کیجیے۔

اَے پُرعزم فرزندو!

جبر اور ظلم کے تانوں سے بُنا گیا نظام
محض دُکھ اور درد بانٹتا ہے۔
لہٰذا سیاست کو اپنے حقوق کے حصول کا ذریعہ
اور انسان دوستی کے فلسفے کو اپنا ضابطۂ حیات بنانے کے لیے
بلا تفریقِ جنس
ہمیں انصاف کے لیے اُٹھنے والی آوازوں کے ساتھ
اپنی آواز ملانا ہو گی،
تاکہ بلا خوف و تردّد
اس معاشرے کو
اپنے لیے اور آنے والی نسلوں کے لیے
محفوظ بنا سکیں۔

اَے دیدہ ورو!

ہم ایک پوری نسل گمشدگی کی دھند میں کھو چکے ہیں۔
ہماری عزتیں، ہماری چادریں،
حتیٰ کہ ہماری خاموشیاں بھی اغوا کر لی گئیں،
اور ہم خاموشی کے قلعوں میں بند رہے۔

مگر اب
اس انسان فروشی کے دھندے
اور کرب بانٹنے والی قوتوں کے خلاف
ہمیں صف آرا ہونا ہو گا۔
خاموشی اور لاتعلقی
ان سفّاک طاقتوں کو مزید مضبوط کرے گی،
جو لاقانونیت کو دستور بنا کر
معاشرے پر مسلط کر دیں گی
اور پھر…
اور پھر سب آوازیں سلب کر لی جائیں گی…”

اُس کی آواز بھرا گئی۔
وہ اپنے زانوؤں پر گر پڑا۔
ٹریفک کی قطاروں کے لیے وہ ایک نادیدہ وجود بن چکا تھا۔

لیکن چند لمحوں بعد
بھاری بستے لادے
اسکول کی چند بچیاں اس کے پاس آ بیٹھیں۔
ایک بچی نے بستے سے واٹر کین نکالا
اور اس کے اوندھے منہ کے قریب لے گئی
اور اُس نحیف وجود میں
آہستہ آہستہ
حرکت پیدا ہونے لگی…

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے