وارسا کا دیدار، شفقت کی چھاؤں اور ریگا کی پکار
سفرِ یورپ کی گزشتہ کڑی میں ذکر ہوا تھا کہ کس طرح لٹویا کی ریگا کانفرنس کے لیے میرا مقالہ منتخب ہوا اور غیب سے اسباب بنتے گئے۔ اسلام آباد پھر اوسلو میں اپنے پرانے رفیقِ کار شہریار کی بے مثال میزبانی نے اس سفر کو یادگار بنا دیا۔ وہاں کی پاکستانی کمیونٹی کی جدوجہد کو قریب سے دیکھنے تک، اوسلو نے بہت کچھ سکھایا۔ اب بساطِ سفر لٹویا کی جانب بچھ چکی تھی، مگر قسمت کے فیصلے ہمیں براہِ راست ریگا لے جانے کے بجائے پہلے پولینڈ کے تاریخی شہر وارسا کی گلیوں میں لے آئے۔
اچھا… تو اوسلو میں گزرے دنوں کی آپ بیتی تو آپ نے پڑھ لی ہوگی۔ میں زیادہ تر جتنا بھی سفر کر چکا ہوں، دارالخلافوں سے ہوتا ہوا جاتا ہوں۔ اے جنٹل کیپیٹل سٹیز ٹریولر.. ویسے تو پہاڑوں کے علاوہ اوسلو ہی ایسی جگہ ہے جہاں انسان زیادہ نظر آتے ہیں۔ ایکے برگ، ویٹاکولن اور ہولمین کولن ایسے پہاڑ پہ واقع اسپاٹس ہیں جہاں سے آپ پورے شہر کا نظارہ کر سکتے ہیں۔ مجھے وہاں پہ سائیکلز اور ہائیکنگ والوں کے رش نے متاثر کیا۔ چونکہ یہ مقامات اونچائی پر ہیں، اس لیے سائیکل والوں کے لیے ایک مناسب سپورٹ سسٹم بھی ہے۔ ساتھ میں ہی اسکی کے لیے مخصوص نورے فیل ریزورٹ بھی دیکھنے کی اچھی جگہ ہے۔
بہر حال ہم ٹھہرے مسافر اور رختِ سفر باندھا، چلے ریگا کی طرف۔ مگر حیرت انگیز طور پر بیچ میں وارسا بھی تھا، جس کی وجہ بنی ایک کنیکٹنگ فلائٹ۔ ہمیں یورپ میں بھی کنیکٹنگ فلائٹ لینا پڑی، شاید وارسا دیکھنا ہی نصیب میں لکھا تھا۔ مجھے جلدی میں ٹکٹ سستے دکھے اور بغیر سوچے سمجھے خرید لی، بعد میں پتا چلا کہ ٹھیک ٹھاک کنکشن ٹائم ہے۔ غنیمت جانا اور سوچا ریگا سے پہلے وارسا کے دیدار اور درشن ہوتے چلیں۔
اتفاق سے، دو ایسے جاننے والے وارسا میں تھے جن سے رفاقت تھی اور جان پہچان بھی۔ ایک تھے محترم جناب شفقت علی خان صاحب، جو وہاں پر پاکستان کے سفیر تھے، اور دوسرے سجاد صاحب جو ہمارے قریبی رشتہ دار تھے۔ سجاد بھائی نے بہت محبت سے خوش آمدید کہا اور ان کے گھر جاتے ہی گرم گرم پراٹھوں اور چائے سے استقبال کیا گیا۔ ساتھ مسجد لے کر گئے، باجماعت نماز ادا کی اور شاید ہی کوئی جگہ ہو جہاں وارسا میں انہوں نے گھمایا پھرایا نہ ہو۔
اسی گھومنے پھرنے کے دوران وارسا کا کلاک ٹاور اور اولڈ ٹاؤن خاصے کی جگہیں لگیں۔ اولڈ ٹاؤن میں آپ کو گزرتے ہوئے پرانے یورپ کے لوگوں کے بنائے ہوئے شاہکار اور سدا بہار سڑکیں متاثر کرتی ہیں۔
صدیاں گزر گئی ہیں مگر وہ عمارتیں اور شاہراہیں ابھی تک صحیح سالم گزرگاہوں کے طور پر موجود ہیں۔ یورپ کے لوگوں نے پندرہویں صدی سے جو ترقی کی ہے وہ لازوال ہے۔ اللہ قرآن میں فرماتے ہیں کہ "میں قوموں کے حالات بدلتا رہتا ہوں”۔ واقعی جس قوم نے خود کو پہچانا، انہوں نے اپنا حال اور مستقبل بدل کر رکھ دیا۔
وارسا کی ان پرسکون سڑکوں پر چلتے ہوئے یہ یقین کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ یہ شہر دوسری جنگِ عظیم میں تقریباً پورا تباہ ہو گیا تھا۔ ویسے انٹرنیشنل ریلیشنز میں پڑھے گئے پہلی اور دوسری جنگِ عظیم کے خلاصے اور وارسا کو آنکھوں سے دیکھا حال انسان کو حیرت میں ڈال دیتا ہے۔ انسانی حقوق کے دعویدار کس قدر جنگجو تھے، انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ حالانکہ پہلی جنگِ عظیم کے بعد بننے والی لیگ آف نیشنز بیس سال تک یورپیوں کو لڑنے سے روک پانے میں کامیاب تو ہوئی مگر دوسری جنگِ عظیم نے سب کچھ تہس نہس کر کے رکھ دیا۔
اقوامِ متحدہ بنا مگر کولڈ وار چلتی رہی، حتیٰ کہ برلن جیسا شہر بھی دیوار کے بیچ میں تقسیم ہی رہا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ برلن اور وارسا ایک دوسرے سے زیادہ دور نہیں۔ بس میں بیٹھ کر ایسا احساس ہوتا ہے جیسے پشاور سے اسلام آباد جانا ہو۔ اسی طرح کے لہلہاتے کھیت اور میدانی علاقے، البتہ زیادہ مؤثر انفراسٹرکچر اور وسیع سڑکیں۔ پولش لوگ اپنے مزاج کے حامل ہیں… تھوڑے کھٹے، تھوڑے میٹھے۔ جہاں تک یہاں کی پاکستانی کمیونٹی کا تعلق ہے، تو پولینڈ میں پاکستانیوں کی تعداد ناروے کے مقابلے میں کم ہے لیکن یہ لوگ یہاں کی معیشت، تجارت اور بالخصوص آئی ٹی کے شعبے میں بہت متحرک ہیں۔ وارسا کی گلیوں میں کہیں کہیں حلال کھانوں کی خوشبو اور اپنوں سے ملاقات یہ احساس دلاتی ہے کہ پاکستانی جہاں بھی ہوں، اپنی محنت سے اپنی جگہ بنا ہی لیتے ہیں۔
ہم تو بس وہ پشتو کا ایک شعر ہے کہ ایک شام کے لیے آئے تھے، سو شام گزری اور اگلے دن جانا بنا۔ مگر سجاد بھائی سے اتنے متاثر ہوئے کہ پھر آئے اور وہاں سے بس کے ذریعے برلن بھی دیکھ آئے… وہ کہانی پھر سہی۔ مگر اس سے پہلے ایک اور اہم ملاقات باقی تھی۔
اگلے دن صبح صبح ہم پاکستان کے سفارت خانے پہنچے، جہاں محترم جناب شفقت علی خان صاحب (سفیرِ پاکستان) کے پاس لے جایا گیا۔ بہت محبت سے ریسیو کیا اور بیٹھتے ساتھ ہی پوچھا: "یہ بتائیں کون سی کتاب پڑھ رہے ہیں آج کل؟” میں نے کہا: "سر! کتابیں نہیں پڑھتا، البتہ آپ کے سب آرڈینیٹس میں پہلا افسر ہوں جو آپ کے پاس پولینڈ پہنچ گیا ہوں۔” ان کو اپنے فیوچر اسکالر اور ٹور ڈی یورپ کا بتایا۔
سفارتکارانہ انداز میں مسکرائے، شفقت فرمائی، چائے بسکٹ کے ساتھ اور سب سے بڑھ کر خود سی-آف کرنے باہر آئے۔ کسی بھی ماتحت بندے کے لیے یہ ایک بہت عزت کی بات ہوتی ہے۔ ان سے ملاقات ہمیشہ یاد رہتی ہے کیونکہ انہوں نے جہاں کافی ڈانٹا ہے، وہاں کافی کچھ سکھایا بھی ہے۔ اللہ ان کو مزید ترقیاں دے، آمین۔
لیکن اس سب رونق کے پیچھے ایک تلخ حقیقت بھی چھپی ہوئی تھی۔ ایسا نہیں کہ یورپ میں سب کچھ ٹھیک ہی ہے، کچھ باتیں ایسی ہیں جنہوں نے مجھے یورپ کے لوگوں کی زندگی سے تھوری بیزاری محسوس کرائی اور وہ ہے ‘تنہائی’۔ باوجود اس کے کہ آپ کو لوگ سہولیات سے بھرپور زندگی گزارتے ہوئے نظر آئیں گے، مگر ساتھ ہی ساتھ وہ تنہائی اور اکیلے پن کا شکار نظر آئیں گے۔
ہم نے سوشیالوجی میں پڑھا تھا کہ انسان ایک معاشرتی جانور ہے اور یہ بھی پڑھا تھا کہ معاشرے کا ایک اہم ستون خاندان ہے جہاں انسان کی ابتدائی پرورش ہوتی ہے۔ پولینڈ سمیت بہت سے ان ممالک میں آپ کو لوگ ایک کتے اور بلی کے ساتھ رہتے ہوئے نظر آئیں گے۔ آنحضرت نبی کریم ﷺ نے بھی بلی کو پیٹ کے طور پر رکھا تھا اور مزید یہ کہ جانوروں کے حقوق بھی اہم ہیں، مگر انسان سب کچھ چھوڑ کر جانوروں کے ساتھ رہنے لگ جائے، یہ بات کچھ ہضم نہیں ہوتی۔
بہر حال، جہاں ترقی کے ساتھ انسان نے آسانیوں کے ساتھ جینا سیکھا ہے، وہاں اس طرح کے مسائل بھی جنم لیتے رہے ہیں۔
وارسا کی یادیں سمیٹ کر جب ہم آخر کار ‘ریگا’ (لٹویا) کی سرزمین پر اترے، تو وہاں ایک فیوچر اسکالر کے طور پر ہمارا استقبال کیسا رہا؟ لٹویا، جسے ‘یورپ کا چھپا ہوا ہیرا’ کہا جاتا ہے، اپنے جغرافیائی حسن اور خاموش مزاج کے ساتھ کیسا نظر آتا ہے؟ سب سے اہم موڑ تب آیا جب میری ملاقات لٹویا کے صدر سے ہوئی، وہ کون سے موضوعات تھے جن پر ہماری گفتگو ہوئی اور ایک عالمی فورم پر پاکستان کی نمایندگی کا تجربہ کیسا رہا؟ ریگا کی سرد راتیں، علمی مباحثے اور لٹویا کا وہ سفر جس نے سوچ کے زاویے بدل دیے… یہ سب اور بہت کچھ، اگلی قسط میں!
وارسا کی شامیں ہمیں بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر گئیں، لیکن ریگا کی پکار اب اور بھی توانا ہو رہی تھی جہاں قسمت میرا ایک بالکل نیا امتحان لینے کو تیار کھڑی تھی۔