وجود خدا کی بحث، کیا عام مذہبی انسان کی ضرورت ہے؟

اگر وجودِ خدا کی بحث سے ہٹ کر بات کی جائے تو یہ عام معاشرتی سطح پر زیادہ مفید معلوم ہوتا ہے، کیونکہ یہ موضوع نہ تو عام مذہبی انسان کی روزمرہ زندگی کا مسئلہ رہا ہے اور نہ ہی اس کی فوری ضرورت۔ تاریخ بتاتی ہے کہ اس موضوع پر زیادہ تر اہلِ علم نے عقائد، منطق، فلسفہ، علمِ کلام اور جدید سائنس کی بنیاد پر جتنی طویل بحثیں کیں، مگر ان کا کوئی حتمی اور متفقہ نتیجہ آج تک سامنے نہیں آ سکا۔

ماضی کی طرح آج بھی کچھ مخصوص حلقے اس طرح کے موضوع کو علمی گفتگو کے بجائے فکری مقابلہ بنا لیتے ہیں، جہاں مقصد، سچ کی تلاش کے بجائے دوسرے نظریے کو شکست دینا یا اپنی برتری ثابت کرنا ہوتا ہے۔ ممکن ہے اسے کسی حد تک علمی سرگرمی کہا جائے، مگر اس کے طریقۂ کار پر خود اہلِ علم کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔

مشاہدہ یہی بتاتا ہے کہ اس نوع کے مباحث میں اکثر فریقین جیتنے اور ہرانے کے جذبے کے تحت گفتگو کرتے ہیں۔ یہ انداز ایک ایسی نفسیات کو جنم دیتا ہے جس میں مقابلہ تو ہوتا ہے، مگر قبولیت نہیں۔ عرفِ عام میں اس طرزِ گفتگو کو مناظرہ کہا جاتا ہے۔ جب نیت ہی فتح اور شکست پر مبنی ہو تو کسی کی بات ماننے یا اپنی غلطی تسلیم کرنے کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ ایسی صورت میں اختلاف، ضد اور ہٹ دھرمی کی شکل اختیار کر لیتا ہے، جس سے گروہی شناخت تو مضبوط ہوتی ہے، مگر مثبت اور تعمیری نتائج سامنے نہیں آتے۔اسی لیے سنجیدہ اہلِ علم مناظرہ اور مکالمہ میں واضح فرق کرتے ہیں۔ مکالمہ وہ طریقہ ہے جس میں وسعتِ قلبی کے ساتھ بات سنی جاتی ہے، غلطی کی اصلاح ممکن ہوتی ہے اور سچ کو قبول کرنے کا حوصلہ موجود ہوتا ہے، جبکہ مناظرانہ اسلوب میں یہ امکانات تقریباً ختم ہو جاتے ہیں۔ لیکن یہ دونوں طریقہ بھی عام مذہبی انسان کی ضرورت نہیں بنتے۔

انسانی تاریخ سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ عام مذہبی انسان کی سوچ، تحقیق اور گہرے غور و فکر کی جستجو عموماً کمزور رہی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ زیادہ تر عام مذہبی لوگ، مذہبی اعمال تقلید کی بنیاد پر ادا کرتے ہیں۔ نہ انہیں فلسفیانہ تعبیرات کی ضرورت محسوس ہوتی ہے اور نہ ہی تحقیق میں خاص دل چسپی ہوتی ہے۔ یوں عام مذہبی انسان کی فکری کیفیت اس سپاہی سے مشابہ ہوتی ہے جو سرحد پر کھڑا ہوتا ہے اور جسے صرف یہ حکم دیا جاتا ہے کہ اس نے سرحد کی حفاظت کرنی ہے اور بس ۔ ایسی ذمہ داریاں عموماً انسان کی صلاحیت اور ذہنی سطح کے مطابق ہی دی جاتی ہیں، اور یہ کسی درجہ میں اپنی جگہ درست بھی ہوتی ہیں۔

عام مذہبی انسان کی ذہنی سطح بھی کچھ اسی نوعیت کی ہے۔ تاہم ایک سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ اسے اپنے مذہب کی بنیادی تعلیمات کا شعور کیوں نہیں دیا جاتا، یا اسے اسی محدود دائرے میں کیوں قید رکھا جاتا ہے؟ بہرحال، جب تک مزاج میں، شعور کی وہ سطح پیدا نہ ہو، اس وقت تک مناظرانہ اور پیچیدہ علمی بحثوں کو عام مذہبی انسان کے سامنے لانا مناسب نہیں لگتا۔ کیونکہ ایسی بحثیں عام فہم سے بہت دور ہوتی ہیں اور انہیں سن کر یا دیکھ کر ،ناپختہ ذہنوں میں مزید الجھن اور فکری انتشار پیدا ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ وجود خدا کی بحث کو سمجھنا تو دور کی بات ہے۔ ایک عام انسان کے لیے یہ بھی مشکل ہے کہ وہ فخر اور کبر، اسراف اور سخاوت، کنجوسی اور قناعت، چاپلوسی اور مخلصی، احترام و خوش آمد، تعدیب اور ترغیب، یا حرص و جستجو، ذہانت و عیاری، عاجزی و ریاکاری جیسے اوصاف کے باریک فرق کو سمجھے۔ اس لیے ایک عام انسان کی سماجی و معاشی ضرورت کو بہتر سے بہتر کی جانب گامزن کرنے کے لیے بھی مثبت معلومات پہنچانا بھی اہل علم کی ذمہ داری ہے۔تاکہ ضرورت کے مطابق عام انسان کی سوچ اور فہم ترقی پذیر رہے اور وہ تعمیری شعور کے حامل بن سکے۔

حقیقت یہ ہے کہ عام مذہبی انسان کے لیے اصل سوالات کچھ اور نوعیت کے ہیں۔ مثلاً مذہبی اور غیر مذہبی انسانوں کی سماجی، معاشی اور معاشرتی ضروریات کیا ہیں؟ اور مذہبی تعلیمات کی روشنی میں ان ضروریات کو کیسے پورا کیا جا سکتا ہے؟ یہی وہ سوال ہیں جن پر معاشرے کے سنجیدہ اہلِ علم اور دانش ور گفتگو کرتے نظر آتے ہیں کہ عام مذہبی انسان کے لیے مذہب کی بنیادی سچائیاں (Fundamental Truths of Religion) ہی اصل اہمیت رکھتی ہیں۔ انہی سچائیوں کی سمجھ بوجھ پیدا کرنا اور ان پر عمل کی ترغیب دینا معاشرے کو مضبوط اور متوازن بنانے کا مؤثر ذریعہ ہے۔

آخر یہ Fundamental Truths کیا ہیں؟ آسان جملوں میں یہ تعریف پیش کی جاسکتی ہے کہ وہ آفاقی، مستقل اور غیر متبدل حقائق ہیں، جو کسی عقیدے، فلسفے، یا اخلاقی نظام کی بنیاد ہوتے ہیں اور وہ سچائیاں عام طور پر یا تو عقل، وحی یا مشترکہ انسانی شعور پر مبنی ہوتی ہیں، جو وقت، جگہ اور حالات کے بدلنے سے بھی تبدیل نہیں ہوتیں۔ جیسا کہ سچ، عدل اور امانت کی اہمیت،نیکی اور بدی کا امتیاز،انسان کی اخلاقی ذمہ داریاں ، معاملات کا شفاف لین دین وغیرہ یہ انسانی وقار کے تحفظ کے لیے ہوتے ہیں اورمعاشرتی انصاف اور توازن قائم کرتے ہیں۔ اکثر قوانین، مذہبی تعلیمات یا عالمی اصولوں میں واضح کیے جاتے ہیں۔

مزید اگر اسے آسان الفاظ میں سمجھا جائے تو وہ سچائیاں جو کسی بھی مہذب معاشرے میں اچھے کردار کی تعمیر ، سچائی، دیانت اور اخلاقی رویّوں پر ہوتی ہے۔ جھوٹ بولنا اور دھوکہ دینا ناپسندیدہ سمجھا جاتا ہے، جبکہ گفتگو میں شائستگی اور رویّوں میں نرمی ہر جگہ قابلِ تعریف ہے۔ خیانت، ملاوٹ اور کسی کا حق غصب کرنا ہر معاشرے میں برا عمل مانا جاتا ہے۔ اسی طرح ظلم و جبر کو انسان فطری طور پر ناپسند کرتا ہے اور عدل و انصاف کی خواہش رکھتا ہے، کیونکہ یہ انسانی فطرت کا حصہ ہے۔

زندگی کے معاملات میں آگے بڑھنے کے لیے اپنی صلاحیتوں کو نکھارنا اور محنت کے ذریعے بہتر نتائج کی امید رکھنا ضروری سمجھا جاتا ہے۔ ہر انسان پر جو بھی اور جتنی ذمہ داری عائد ہو، اس کا پورا کرنا اس کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔ بلاوجہ کسی انسان یا جانور کو تکلیف دینا غلط عمل کہلاتا ہے، اور بغیر تحقیق کے کسی پر الزام لگانا یا انگلی اٹھانا ہمیشہ نامناسب سمجھا جاتا ہے۔ہر انسان کی عزت و احترام کرنا، رشتوں کے حقوق کا خیال رکھنا، ضرورت مندوں کے ساتھ ہمدردی اور خیر خواہی کا جذبہ رکھنا خوبصورت اقدار میں شمار ہوتا ہے۔ خاندانی، سماجی اور معاشی معاملات میں شفافیت کو سراہا جاتا ہے، اور کسی کی صلاحیت، اہلیت اور قابلیت کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

اور خوشی و غم کے احساسات کو سمجھنا ہر انسان کی مشترکہ انسانی صفت ہے۔الغرض، جب تک لوگ مذہب سے وابستہ ہیں، مذاہب کی بنیادی سچائیوں کو بیان کرنا اور ان پر عمل کرنا ہی معاشروں کی بقا اور زندگی کی ضمانت ہے۔ بصورتِ دیگر معاشرے مردہ ہو جاتے ہیں، جہاں حرص و لالچ، نفرت، خود غرضی، دھوکہ اور جعل سازی جیسے رویّے جرائم کی صورت اختیار کر کے امن و سلامتی کو نقصان پہنچاتے رہتے ہیں۔

خلاصہ یہ ہے کہ اچھے اور برے معاشرے دراصل انسان ہی تشکیل دیتے ہیں، چاہے وہ مذہب کے ماننے والے ہوں یا نہ ہوں۔ آج کی دنیا میں، جہاں اربوں انسان بستے ہیں، پرامن معاشرے کی بنیادی سچائیوں اور مسلمہ اصولوں پر مختلف طریقوں سے عمل کیا جاتا ہے۔ کچھ لوگ انہیں مذہبی تعلیمات سمجھ کر اپناتے ہیں، جبکہ کچھ فطری احساس، ذاتی مزاج یا قانونی تقاضوں کے تحت ان پر عمل کرتے ہیں۔

کہیں مذہبی تعلیمات جرم سے بچنے کا خوف پیدا کرتی ہیں، اور کہیں انسان کے بنائے ہوئے قوانین اور ان کا مؤثر نفاذ ،جرائم کی روک تھام کا سبب بنتا ہے۔ بعض جگہ خدا کے خوف کا عنصر غالب ہوتا ہے، اور کہیں انسانی گواہی یا کیمروں کی نگرانی کا ڈر، انسان کو جرم کرنے روکے رکھتا ہے۔ اس کے باوجود حقیقت یہ ہے کہ انسان بعض اوقات جرم سے باز نہیں آتا، کیونکہ وہ جرم کو اپنی ضرورت یا مجبوری بنا لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پوری انسانی تاریخ میں جزا و سزا کے قوانین کو ہمیشہ سے اہمیت دی جاتی رہی ہے۔ تاہم افسوسناک حقیقت یہ بھی ہے کہ کچھ لوگ مذہبی سچائیوں کے باوجود، حتیٰ کہ مرنے کے بعد جواب دہی کے تصور کے ہوتے ہوئے بھی، مذہب اورانسانوں کے بنائے ہوئے قوانین کو پامال کرتے چلے جاتے ہیں۔

یہ بات طے ہے کہ دنیا کا ہر انسان ایک اچھے ساتھی، اچھے پڑوسی، صاف ستھرا خوبصورت ماحول، منصفانہ نظام اور بہتر معاشرت کی خواہش رکھتا ہے۔ اب یہ انسانوں کا اختیار ہے کہ وہ اپنا معاشرہ مذہبی سچائیوں کی بنیاد پر قائم کریں یا انسانی قوانین بنا کر اسے منظم کریں۔ ان دونوں نظریات میں اختلاف اور تقسیم تو ہو سکتی ہے، مگر ان کا مقصد اور نتیجہ بنیادی طور پر ایک ہی ہے۔ہر انسان امن اور سکون کے ماحول میں زندگی گزارنا چاہتا ہے، اطمینان حاصل کرنا چاہتا ہے، اور اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنا اس کی فطری خواہش اور ضرورت ہے۔ یہی مشترکہ تقاضے، تمام معاشروں کو ایک ہی سمت میں لے جانے کی اصل بنیاد بنتے ہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے