تحریر کا عنوان دو حصوں میں منقسم کیا جا سکتا ہے؛ ڈاکٹر فاروق عادل اور خاکہ نگاری جسے حرفِ جار "کی” نے باہم یکجا کر دیا ہے۔ گویا ڈاکٹر فاروق عادل اور خاکہ نگاری باہم مربوط ہیں۔ بس اسی یکجائی صورت کا اظہاریہ یہ تحریر ہے۔ تاہم بات کی تفہیم اور تسہیل کی غرض سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ ڈاکٹر فاروق عادل موصوف ہیں اور خاکہ نگاری ان کی صفت۔ اس بات کی تصدیق کے لیے اگرچہ ان کے تحریر کردہ خاکے ہی کفایت کرتے ہیں مگر یہاں بھی کچھ کوشش کی گئی ہے۔ لیکن اس سے پہلے کہ اس پر بات ہو ذرا ایک طائرانہ نظر خاکہ نگار پہ بھی ڈال لی جائے کیوں کہ لکھے گئے خاکے پر خاکہ نگار کی گہری چھاپ ہوتی ہے جسے فراموش نہیں کیا جاسکتا۔
ڈاکٹر فاروق عادل صحافت کے پیشے سے وابستہ ہیں۔ سابق صدر پاکستان، جنابِ ممنون حسین کے تقریر نویس رہے۔ عمدہ نثر نگار ہیں کہ سحر انگیز قلم پایا ہے۔ اس کے ثبوت ان کی تصانیف میں جا بجا موجود ہیں۔ تحقیق بھی ان کی شناخت کا اک حوالہ ہے۔ گویا ادیب اور دانش ور کہلانے کے بجا طور پر حق دار ہیں۔ یہ تو اجمالاً کچھ ذکر ہوا موصوف کا یعنی خاکہ نگار کا۔ اب آئیے صفت کی جانب یعنی خاکہ نگاری کی طرف۔
خاکہ نگاری کی عام فہم تعریف ان الفاظ میں کی جا سکتی ہے کہ کسی انسان کو جیسا دیکھا، سمجھا اور پایا بلا کم و کاست ویسا بیان کر دیا جاۓ۔ خاکہ نگاری کی اس تعریف کو مدنظر رکھتے ہوئے اگر ڈاکٹر فاروق عادل صاحب کے خاکے پڑھے جائیں تو دل بے ساختہ گواہی دے گا کہ یہ خاکے اس تعریف پر پورا اترتے ہیں۔
ڈاکٹر فاروق عادل کے تحریر کردہ خاکوں کے دو مجموعے زیورِ طباعت سے آراستہ ہو چکے ہیں اور خوب ہو چکے ہیں۔ "شائع ہو چکے ہیں” دانستہ طور پر استعمال نہیں کیا گیا کہ میرے خیال سے یہ قرینِ انصاف نہیں۔ ” پہلا مجموعہ”جو صورت نظر آئی” کے نام سے 2016 میں جب کہ دوسرا مجموعہ”دیکھا جنھیں پلٹ کے ” کے عنوان سے گزشتہ برس منظر عام پر آیا۔ گو کہ مالِ خاص تھا مگر بازارِ عام میں بھی پذیرائی پا گیا کہ اچھے اچھوں کو یہاں ارزانی کے باعث قدر دانی کا فقط ارمان ہی دل میں لیے لوٹنا پڑا۔ گاہکوں نے مان کر نہ دیا۔ بہر طور 35 خاکے پہلے مجموعے میں شامل ہوۓ جب کہ 67 خاکوں نے دوسرے مجموعے میں جگہ پائی۔ ان خاکوں کا ان مجموعات میں جگہ پا جانا بھی کوئی کم اعزاز تو نہیں کہ خاک دانِ ہستی میں کتنے ہی نفوس ہوں گے جو دائرہء خاکہ نگاری کے سزاوار ہوۓ۔ یہ تعداد محض آٹے میں نمک کے برابر ہے۔
بات کہاں سے کہاں جا پہنچتی ہے اور بھلا کیوں نہ پہنچے کہ” ذکر اُس پری وش کا اور پھر بیاں اپنا "۔ چلیے اس تعلی سے صرفِ نظر کیجیے اور سمندِ نگاہ کا رخ خاکوں کی جانب موڑیے۔ سب سے پہلی بات جو فہرست دیکھنے سے ہی سامنے آتی ہے کہ خاکوں میں تنوع ہے۔ مختلف شخصیات کے تعلق سے لکھے گئے خاکے کتاب میں قاری کی دلچسپی کو برقرار رکھتے ہیں۔ خاکوں کا متنوع ہونا اکتاہٹ سے بچاتا اور پڑھتے چلے جانے پر اُکساتا ہے۔ گویا یہ اکتاہت کا نہیں اکساہٹ کا معاملہ ہے۔ تاہم یہ امر پیشِ نظر رہے کہ یہ خاکے احتیاط سے لکھے گئے ہیں سو انھیں پیار سے پڑھنا پڑے گا۔
ایک اور خوبی جو کتاب اور مصنف دونوں کی خاصیت قرار پاتی ہے کہ کہیں سے پڑھنا شروع کر دیجیے دلچسپی برابر برقرار رہتی ہے اور مجال ہے کہ کہیں ماند پڑتی کسی کو دکھائی بھی دے جاۓ۔ پکڑائی دینا تو پھر دور کا مرحلہ ہے۔ قریب قریب ہر خاکہ ہی اس تاثر کو تقویت فراہم کرتا ہے جو یقیناً خاکہ نگار کی کامرانی ہے اور اس کی تحسین بھی لازم ٹھہرتی ہے۔
خاکہ نگار نے خاکہ نگاری کے وقت خاکہ لکھنے اور خاکہ اڑانے کے فرق کو بھی خوب خوب مدنظر رکھا ہے اور اس سے بحسن وخوبی عہدہ برا ہوۓ۔ دلوں کے نازک آبگینوں کا لحاظ رکھتے ہوئے تلخیاں بھی ملفوف لفظوں کے ساتھ مزاحیہ اور طنزیہ پیرائے میں سپردِ قلم کر دی ہیں۔ مثالیں قارئین خود ہی تلاش کر لیں گے کہ طوالت کا خوف دامن گیر ہے لہٰذا نقلِ اقتباسات سے دانستہ احتراز برتا گیا ہے۔ اور یوں بھی کچھ کام تو قارئین کو اپنے ذمۂ مطالعہ پہ بھی لینا چاہیے کہ معاملہ دونوں طرف سے ہو اور یہ بھی معلوم ہو جائے کہ دونوں طرف آگ برابر لگی ہوئی ہے۔
خاکوں میں شخصیات کو مدح و قدح کے پیمانوں پر تولنے کی بجائے اجمالی جائزہ لیا گیا ہے کہ احسن الخالقین کی ہر تخلیق بامقصد ہے۔ خوبیاں اور خامیاں انسانی شخصیت کا لازمہ ہیں کہ انھی کے مجموعے کا نام انسان ہے۔ برگزیدہ ہستیوں کا معاملہ مختلف ہے جو مذہب کے فکری دائرے کا حصہ ہے اور یہ اس کا محل نہیں۔ ہر خاکہ پڑھتے وقت یہ احساس دامن گیر رہتا ہے کہ کسی شخص سے اتفاق و اختلاف سے قطع نظر رہ کر اور ان معیارات سے اوپر اٹھ کر بھی کسی کا تذکرہ کیا جا سکتا ہے۔ ورنہ ہمارے ہاں تو یہی آموختہ دہرایا جاتا ہے کہ
"اگلے وقتوں کے یہ لوگ انھیں کچھ نہ کہو”
مگر فاروق عادل صاحب نے جو کچھ کہنا تھا کہا ہے’ بجا کہا ہے اور یقیناً خوب کہا ہے۔ ایک اور پہلو انتہائی قابلِ توجہ ہے کہ خاکہ نگار اپنے خاکوں میں یہ باور کروانے میں خاصے کامیاب ہوۓ ہیں کہ کوئی انسان اس سے مختلف بھی ہو سکتا ہے جیسا ہم سوچتے یا سمجھتے ہیں۔ کسی بھی شخص کو اپنے زاویۂ نگاہ سے ہٹ کر بھی دیکھا جاسکتا ہے اور یہ نقطہء نظر برداشت کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ لہذا ہمیں ہر وقت اس حوالے سے گنجائش رکھنی چاہیے مگر اس کا کیا کیجے کہ جو چلن ہمارے ہاں چل نکلا ہے بقولِ شاعر
افسوس ہم نہ چل سکے سلامت روی کی چال
یا بے خودی کی چال چلے یا خودی کی چال
اور یہ "خودی” اقبال کے فلسفہ خودی سے یکسر مختلف ہے سو خلطِ مبحث سے پرہیز لازم ہے۔
مجھے اس امر کا احساس ہے کہ بہت سے پہلو تشنہ رہ گئے۔ ڈاکٹر فاروق عادل کے تحریر کردہ خاکے دلنشیں اسلوب، برجستہ جملے، شائستہ انداز، شخصی محاسن کا اعتراف، وسعتِ قلبی و ظرفی کا اظہار اور اختلافِ رائے کے سلیقے کا بہترین مرقع ہیں۔ یہ خاکے پڑھنے والوں میں یہ احساس اجاگر کرتے ہیں کہ اختلافِ رائے کے کیا اسالیب ہوا کرتے ہیں اور وسعتِ ظرقی کے ساتھ کیسے شخصی اوصاف کا اعتراف اور پھر اظہار کیا جاتا ہے۔ خاکوں میں جھیل جیسی روانی ہے کہ پڑھواۓ چلے جاتے ہیں۔ جبری تردد نہیں کرنا پڑھتا۔ ویسے تو اس عہدِ بے ننگ و نام میں لکھنا ہی کمال ہے مگر اتنا عمدہ لکھنا تو کمال است و کمال است و کمال است والا معاملہ ہے۔ میرا احساس ہے کہ اردو ادب کی خاکہ نگاری کی تاریخ میں یہ خاکے اور خاکہ نگار نمایاں مقام کے حامل رہیں گے اور آئندہ لکھی جانے والی خاکہ نگاری کی تاریخ ان کے ذکر کے بغیر نامکمل رہے گی۔
آخری خاص بات یہ کہ دونوں مجموعوں میں نو برس کا زمانی فاصلہ ہے۔ ان نو برسوں میں ذہنی فکر کس ارتقا سے گزرتی اور کیسے شخصی تفہیم میں اپنا حصہ ڈالتی ہے اس کی مثالیں دونوں مجموعے پڑھنے والوں پر ہی عیاں ہو سکتی ہیں۔ کچھ بین السطور باتیں ہیں جس کی کما حقہ تفہیم کے لیے خوش ذوقی کا حظِ وافر درکار ہے۔ اختتام پر یہی کہا جا سکتا ہے کہ پلٹ کر دیکھنے پر جس کی جو صورت نظر آئی اسے جس شان دار انداز میں ڈاکٹر فاروق عادل نے بیان کیا ہے وہ ان کے اسم با مسمی ہونے پر اظہر من الشمس ہے۔
دلی دعا ہے کہ ذاتِ باری ان کے شجرِ حیات کو ہمیشہ ثمر بار رکھے. آمین