ہم گلگت بلتستان کے وہ باسی ہیں جو پہاڑوں کے دامن میں نہیں، پہاڑوں کے مزاج میں بستے ہیں۔ یہاں کی برفیلی ہوائیں صرف چہرہ نہیں چومتیں، سیدھی انسان کے انگ انگ میں سرایت کر جاتی ہیں۔ دسمبر کا چاند نظر آتے ہی ایک جملہ اجتماعی ذکر بن جاتا ہے۔
"در بند تھے لا!”
یعنی دروازہ بند کریں۔
یہ صدا صرف گھروں کے دروازوں تک محدود نہیں رہتی، یہ تو انسان کے اعصاب، ارادوں اور نیتوں تک قفل ڈال دیتی ہے۔
دسمبر اور جنوری میں گلگت بلتستان کے نشیبی علاقوں میں بھی درجہ حرارت منفی ہی رہتا ہے۔ یعنی سردی یہاں آتی نہیں، یہاں حکومت کرتی ہے، حکومت بھی جمہوری نہیں ڈکٹیٹر شپ والی۔
اب ذرا آپ امیج کیجیے،
ایسے میں، میں اپنی گیارہ سالہ "نئی نویلی” موٹر سائیکل پر گلگت شہر اور اس کے مضافات میں یوں گھومتا رہتا ہوں جیسے برفیلی ہوائیں کوئی افواہ ہو اور سردی محض سوشل میڈیا کی خبر۔
میرے اس "بے پروا” طرز سفر پر بڑے چھوٹے سب مشورہ دیتے نہیں، بلکہ لطیف وار کرتے ہیں۔
"صاحب جی!
یہ بائیک آپ کے اسٹیٹس سے میچ نہیں کرتی، بس چھوٹی سی گاڑی لے لیں!”
اب انہیں کون سمجھائے کہ گلگت کی سردی اور میری موٹر سائیکل کے درمیان کوئی خفیہ معاہدہ ہے۔ میں نے سردی کو قبول کر لیا ہے اور سردی نے مجھے آزمانا چھوڑ دیا ہے… یا شاید دونوں ایک دوسرے کو نظرانداز کر رہے ہیں۔
بہرحال، گلگت کی رگوں اور نسوں تک سرایت کرتی اس سردی میں چالیس پچاس کلومیٹر موٹر سائیکل پر سفر کرنا میرے لیے بیک وقت خوشگوار حیرت بھی ہے اور شدید تکلیف بھی۔ مگر گزشتہ گیارہ سال سے یہ سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ حالات ہی کچھ ایسے پیدا ہو جاتے ہیں کہ موٹر سائیکل پر چلتے رہنا پڑتا ہے، یا شاید موٹر سائیکل مجھے چلائے چلتی جاتی ہے۔
اور پھر وہ لمحہ……
جب آپ منفی درجہ حرارت میں چالیس کلومیٹر سفر کر کے گھر پہنچیں اور سامنے گرما گرم چائے آ جائے،
یقین کریں، اس وقت دماغ کو منجمد کر دینے والی سردی کی کوئی حیثیت نہیں رہتی۔
چائے کی پہلی چسکی کے ساتھ ہی یوں محسوس ہوتا ہے جیسے سردی بھی بیٹھ کر کہہ رہی ہو
"چلو یار حقانی، آج تم جیت گئے!”
یہ جملہ سنتے ہی میں سردی کا منہ چڑانے لگتا ہوں۔
البتہ کبھی کبھار آزمائش کا درجہ بڑھ جاتا ہے۔
چالیس پچاس کلومیٹر کے سفر کے بعد اگر ٹھٹھرتے ہاتھوں میں کوئی مالٹا یا کینو تھما دیا جائے اور بندہ منٹوں میں اسے حلق سے اتار دے، تو اس کے بعد اگلا آدھا گھنٹہ دانت بجتے رہتے ہیں۔
صرف دانت نہیں، لگتا ہے اندرون خانہ جسم بھی سردی سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار شکار سا لگتا ہے۔
بہرحال
موٹر سائیکل اور گلگت کی سردی کا یہ خوبصورت، ظالم، ضدی اور وفادار کمبینیشن گزشتہ گیارہ سال سے سخت ترین سردیوں میں بھی پوری شان سے جاری ہے۔
نہ سردی ہاری، نہ موٹر سائیکل نے ہمت چھوڑی
اور میں؟
میں اب تک اس جنگ کا واحد تماشائی بھی ہوں اور واحد سپاہی بھی۔