2020 کا ماڈل، 2026 میں نافذ

ضلع کیچ ایک بار پھر ایک ایسے خطرناک دور میں داخل ہوتا دکھائی دے رہا ہے، جہاں خوف، عدم تحفظ اور بے یقینی شہری زندگی پر غالب آتی جا رہی ہے۔ اغوا برائے تاوان کے بڑھتے ہوئے واقعات نے نہ صرف عوام کو پریشان کر دیا ہے بلکہ پورے سماج کو ایک اجتماعی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ اسی پس منظر میں آل پارٹیز کیچ، انجمن تاجران، ڈاکٹرز ایسوسی ایشن اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کے زیرِ اہتمام ایک بڑا مشترکہ احتجاجی مظاہرہ منعقد ہوا، جس میں سینکڑوں افراد نے شرکت کر کے یہ واضح پیغام دیا کہ کیچ کے عوام مزید خاموش رہنے کو تیار نہیں۔

احتجاجی ریلی آپسر بازار سے شروع ہو کر شہر کے مختلف راستوں سے گزرتی ہوئی پریس کلب اور پھر شہید فدا چوک پہنچی، جہاں یہ ریلی ایک احتجاجی جلسے میں تبدیل ہو گئی۔

اس اجتماع کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ اس میں سیاسی، سماجی، قانونی اور مذہبی حلقوں سے تعلق رکھنے والے افراد ایک ہی نکتے پر متفق نظر آئے یعنی کیچ کو بدامنی کے حوالے نہیں کیا جائے گا۔

جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیرِ اعلیٰ بلوچستان اور نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ کیچ میں امن و امان کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہو چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاستی اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ اغوا شدہ نوجوانوں حسیب حاجی یاسین اور شاہ نواز گل جان کو بحفاظت بازیاب کرایا جائے۔ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا کہ ایک بار پھر کیچ کو بدامنی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے، تاہم کیچ کے عوام ایسی سازشوں کو ناکام بنائیں گے۔

یہ بات محض ایک سیاسی مؤقف نہیں بلکہ حالیہ تاریخ کے تلخ تجربات کی بازگشت ہے۔ ضلع کیچ میں 2020 کے دوران جس طرح بدامنی، ٹارگٹ کلنگ اور خوف کی فضا قائم کی گئی، اس کے اثرات آج بھی اجتماعی یادداشت میں زندہ ہیں۔ اس وقت بھی یہی تاثر دیا گیا تھا کہ ریاست شہریوں کو تحفظ دینے سے قاصر ہے، اور نتیجتاً عوام کو غیر ریاستی، مسلح عناصر کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا۔ آج ایک بار پھر وہی ماحول پیدا کرنے کی کوشش محسوس کی جا رہی ہے۔

ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے اپنے خطاب میں یہ بھی کہا کہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران متاثرہ خاندانوں کے ساتھ مل کر تمام متعلقہ اداروں سے رجوع کیا گیا، مگر ہر ادارہ ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈال رہا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف افسوسناک ہے بلکہ ریاستی رٹ پر بھی ایک سنگین سوال ہے۔ عوام کی جان و مال کا تحفظ کوئی احسان نہیں بلکہ آئینی ذمہ داری ہے۔

آل پارٹیز کیچ کے کنوینر نواب خان شمبیزئی نے اپنے خطاب میں خبردار کیا کہ اگر مغوی نوجوانوں کو فوری طور پر بازیاب نہ کرایا گیا تو 7 جنوری کو شٹر ڈاؤن ہڑتال کی جائے گی۔ یہ اعلان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عوامی صبر اب جواب دے رہا ہے۔

کیچ بار ایسوسی ایشن کے صدر ایڈووکیٹ سید مجید شاہ نے بتایا کہ وکلاء برادری نے بطور احتجاج عدالتی کارروائیوں کا بائیکاٹ کیا۔ وکلاء کا اس طرح سڑکوں پر آنا اس بات کا ثبوت ہے کہ مسئلہ صرف چند خاندانوں تک محدود نہیں رہا بلکہ پورا ضلع عدم تحفظ کا شکار ہے۔

یہ صورتحال ہمیں کیچ کے علاقے ڈنوک میں پیش آنے والے اس المناک سانحے کی یاد بھی دلاتی ہے، جب ایک کارروائی کے دوران ملک ناز نامی بلوچ خاتون شہید ہوئیں اور ان کی کمسن بیٹی برمش شدید زخمی ہوئی۔ یہ واقعہ محض ایک سانحہ نہیں تھا بلکہ اسی کے بعد برمش یکجہتی کمیٹی وجود میں آئی، جو بعد ازاں بلوچ یکجہتی کمیٹی کی صورت میں ایک منظم عوامی آواز بن گئی۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جب ریاست تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہوتی ہے تو عوام خود منظم ہو کر مزاحمت کی نئی شکلیں پیدا کرتے ہیں۔

سابق نگران وزیر میر غفور احمد بزنجو اور سابق سینیٹر اسماعیل بلیدی نے بھی بدامنی کو عوام کے لیے شدید خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کاروبار بند، روزگار محدود اور اب عوام کو جینے کے حق سے بھی محروم کیا جا رہا ہے۔ اغوا برائے تاوان جیسے جرائم کسی بھی معاشرے کو اندر سے کھوکھلا کر دیتے ہیں۔

احتجاجی جلسے میں مختلف سیاسی جماعتوں، وکلاء، پیرا میڈیکل اسٹاف، سول سوسائٹی اور دور دراز علاقوں بلیدہ، زامران، مند اور تمپ سے آنے والے عوام کی شرکت اس بات کی دلیل ہے کہ کیچ کے عوام ایک بار پھر اجتماعی مزاحمت کی راہ پر گامزن ہو رہے ہیں۔

آج سوال یہ نہیں کہ کیچ میں بدامنی کیوں بڑھ رہی ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا عوام کو دانستہ طور پر چند بندوق برداروں کے حوالے کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے؟ اگر ریاست نے بروقت اور سنجیدہ اقدامات نہ کیے تو 2020 جیسی صورتحال دوبارہ جنم لے سکتی ہے، جس کے نتائج نہ صرف کیچ بلکہ پورے مکران کے لیے خطرناک ثابت ہوں گے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے