وینیزویلا کے صدر کی گرفتاری کا ڈرامہ اور ابیٹ آباد مشن سے مماثلت

امریکی ڈیلٹا فورس نے وینیزویلا کے صدر نکولس مادورو کو ان کے ہی دارالحکومت کے مرکز میں واقع ایک انتہائی محفوظ فوجی قلعے سے گرفتار کر کے امریکہ منتقل کر دیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس مشن کو "شاندار آپریشن” قرار دیا ہے، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ واقعی ایک فوجی کارروائی تھی یا پس پردہ طے شدہ ڈرامہ؟

آئیے پہلے وینیزویلا کے فوجی نظام کا جائزہ لیتے ہیں۔ وینیزویلا کی سیکیورٹی کا پورا نظام اس طرح ترتیب دیا گیا تھا کہ وہ نہ صرف اندرونی خطرات بلکہ کسی بھی غیر ملکی مداخلت کا مقابلہ کر سکے۔ بولیویرین نیشنل آرمڈ فورسز (FANB) کو نظریاتی طور پر چاویسمو کے اصولوں پر ڈھالا گیا تھا تاکہ فوج کی وفاداری ریاست اور صدر سے کبھی منحرف نہ ہو سکے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، وینیزویلا کی فوج تقریباً 200,000 فعال فوجیوں اور اتنی ہی تعداد غیر فوجی مسلح اہلکاروں پر مشتمل ہے۔ جنہیں چار مختلف کمانڈز میں تقسیم کیا گیا ہے: آرمی، نیوی، ایئر فورس، نیشنل گارڈ، اس کے علاوہ وینیزویلا کی اصل طاقت بولیویرین ملیشیا سمجھی جاتی ہے۔ وینیزویلا حکومت کا دعویٰ تھا کہ ملیشیا کے ارکان کی تعداد 4.5 ملین سے تجاوز کر چکی ہے، جو کسی بھی غیر ملکی حملے کی صورت میں گوریلا جنگ کے لیے تیار ہیں۔

وینیزویلا آرمی میں تقریباً 63,000 ریگولر فوجی شامل ہیں جن کے پاس T-72B1V ٹینکس اور BMP-3 انفنٹری فائٹنگ وہیکلز جیسے جدید ہتھیار تھے۔ بولیویرین نیشنل گارڈ کے 23,000 اہلکار اندرونی سیکیورٹی اور کریک ڈاؤن کے ذمہ دار ہیں۔ بحریہ اور میرینز کے 15,000 اہلکار ساحلی دفاع اور لینڈنگ آپریشنز کے لیے تیار تھے۔ فضائیہ کے تقریباً 10,000 اہلکار ہیں، یہ جدید ترین Su-30MK2 فائٹر جیٹس اور F-16 طیاروں کو استعمال کرتے ہیں۔ ان سب کے علاوہ صدارتی اعزازی گارڈ کے 2,000 اہلکار صدر کی براہ راست حفاظت پر مامور ہوتے ہیں۔

صدر نکولس مادورو کی حفاظت کی پہلی اور سب سے اہم لائن صدارتی اعزازی گارڈ تھی، جو کہ ایک بریگیڈ سائز کا یونٹ ہے۔ یہ یونٹ براہ راست صدارتی دفتر کو جوابدہ ہوتا ہے۔

اس بریگیڈ میں فوج کے پانچوں شعبوں کے بہترین جوانوں کے علاوہ بولیویرین نیشنل انٹیلی جنس سروس کے خصوصی ارکان بھی شامل ہوتے ہیں۔ صدارتی اعزازی گارڈ کا بنیادی کام صدر اور ان کے خاندان کی جسمانی سالمیت کی ضمانت دینا تھا، اور وہ میرا فلورس پیلس اور صدارتی رہائش گاہوں کی حفاظت کے ذمہ دار ہیں۔ آپریشن سے قبل کے مہینوں میں ان محافظوں کو "دی پیپل گو ٹو دی بیرکس” منصوبے کے تحت خصوصی تربیت دی گئی تھی تاکہ وہ کسی بھی "غیر معمولی دشمن” کا مقابلہ کر سکیں۔ تاہم، 3 جنوری کی رات یہ 2000 اشرافیہ کے سپاہی نہ صرف دشمن کو روکنے میں ناکام رہے بلکہ امریکی فورسز کے لیے ایک معمولی سی رکاوٹ تک نہ بن سکے۔

جس مقام سے صدر مادورو کو گرفتار کیا گیا، وہ فورٹ ٹیونا کہلاتا ہے، جو وینیزویلا کا سب سے بڑا اور اہم ترین عسکری کمپلیکس ہے۔ یہ محض ایک فوجی اڈہ نہیں بلکہ ایک چھوٹا شہر ہے جہاں وزارت دفاع، فوج کی جنرل کمانڈ، اور صدر کی سرکاری رہائش گاہ "لا وی نیٹا” واقع ہے۔ فورٹ ٹیونا کی جغرافیائی پوزیشن اسے قدرتی تحفظ فراہم کرتی ہے کیونکہ یہ پہاڑوں کے ساتھ جڑا ہوا ہے جہاں متعدد بنکرز اور سرنگیں تعمیر کی گئی ہیں۔ صدر مادورو کی رہائش ایک انتہائی جدید پانچ منزلہ زیر زمین بنکر میں تھی، جو 40 میٹر گہرائی میں واقع ہے، 15,000 مربع میٹر پر محیط اس بنکر میں 150 افراد کے لیے چار ماہ کا راشن، آزاد آکسیجن سسٹم، اور صدارتی ہینگر تک براہ راست رسائی موجود ہے۔ اس رہائش گاہ کے ارد گرد ٹھوس اسٹیل کی دیواریں بنائیں گئیں تھیں، تاکہ اس میں نقب لگا کر گھسنے کا امکان نہ رہے۔

اس قلعہ نما گھر کی حفاظت کے لیے الگ سے کیوبا کے سیکیورٹی اہلکار بھی موجود تھے۔ تاکہ وہ مقامی سیاسی حالات سے متاثر ہوئے بغیر صدر کی حفاظت کر سکیں۔

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس قدر سخت سیکیورٹی اور "اسٹیل کے ناقابل تسخیر قلعے” کے باوجود، امریکی ڈیلٹا فورس کے ارکان صدر مادورو کے بیڈروم تک پہنچ گئے اور انہیں سوتے ہوئے گرفتار کر کے امریکہ لے گئے۔
وینزویلا کے صدر کی گرفتاری کے لیے کیے جانے والے "آپریشن سدرن سپیئر” کی کامیابی کو امریکہ کی جانب سے ایک "عسکری معجزہ” قرار دیا جا رہا ہے، لیکن اس کی تفصیلات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ایک "طے شدہ ڈرامہ” تھا۔

رپورٹس کے مطابق، امریکی ڈیلٹا فورس کے ارکان 160ویں اسپیشل آپریشنز ایوی ایشن ریجمنٹ کے ہیلی کاپٹروں پر سوار ہو کر آئے۔ ان میں MH-47G چنوک اور MH-60 بلیک ہاکس شامل تھے۔ چنوک ایک بھاری بھرکم اور نسبتاً سست رفتار ٹرانسپورٹ ہیلی کاپٹر ہے جس کی زیادہ سے زیادہ رفتار 315 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے۔ یہ ہیلی کپنٹر امریکی بحری بیڑے USS Iwo Jima سے روانہ ہوئے جو وینیزویلا کے ساحل سے تقریباً 200 کلومیٹر دور لنگرانداز تھا۔ چنوک جیسے بڑے اور سست رفتار ہیلی کاپٹر کا اتنے طویل فاصلے سے اڑ کر آنا، ایک گنجان آباد دارالحکومت کی فضائی حدود میں ایک گھنٹے سے زائد وقت تک منڈلاتے رہنا، اور اس دوران وینیزویلا کے کسی بھی جنگی جہاز یا میزائل سسٹم کا حرکت میں نہ آنا انتہائی مشکوک ہے۔

واضع رہے کہ وینیزویلا کے پاس لاطینی امریکہ کا سب سے جدید فضائی دفاعی نظام موجود ہے، جس میں روسی ساختہ S-300VM اور Buk-M2 میزائل بیٹریاں شامل ہیں۔ S-300VM سسٹم 200 کلومیٹر کے فاصلے تک کسی بھی طیارے یا میزائل کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ روس نے حال ہی میں (مارچ 2025 کے قریب) اپنے ماہرین کو ان سسٹمز کی اوور ہالنگ اور آپریشنل تیاری کے لیے وینیزویلا بھیجا تھا۔

3 جنوری کی رات کو یہ امریکی آپریشن صرف اسی صورت میں ممکن تھا جب ان خود کار سسٹمز کو جان بوجھ کر بند رکھا گیا ہو۔ اگرچہ امریکہ نے دارلحکومت کے کچھ مقامات پر بظاہر فضائی حملے بھی کیے تاکہ دفاعی نظام کو مفلوج کیا جا سکے، لیکن فورٹ ٹیونا جیسے حساس ترین مقام پر چنوک جیسے بڑے ہیلی کاپٹروں پر کوئی بھی جوابی کارروائی نہ ہونا بتاتا ہے کہ یہ "فکسڈ میچ”تھا۔ وینیزویلا کی فوج کے اعلیٰ حکام نے صدر مادورو کو ہٹانے کے لیے امریکہ کے ساتھ سمجھوتہ کر رکھا تھا۔

کیوں کہ رپورٹس کے مطابق S-300VM سسٹم اس آپریشن کے دوران غیر فعال رہا۔ Buk-M2E درمیانی فاصلے کا SAM سسٹم جو لا کارلوٹا ایئر بیس پر تعینات تھا، امریکی فضائی حملوں میں اس کی ایک بیٹری تباہ ہوئی، باقی نے کوئی رد عمل نہیں دیا۔ Igla-S پورٹیبل SAM سسٹم جو گوریلا دفاع کے لیے ہزاروں کی تعداد میں موجود تھے، ان کی طرف سے کوئی کارروائی رپورٹ نہیں ہوئی۔

وینیزویلا میں ہونے والا یہ واقعہ مئی 2011 میں پاکستان کے شہر ابیٹ آباد میں ہونے والے امریکی آپریشن (آپریشن نیپچون سپیئر) کی یاد دلاتا ہے، جو القـائدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی گرفتاری کے لیے کیا گیا تھا۔ دونوں کارروائیوں میں کچھ ایسے پہلو ہیں جو یہ ثابت کرتے ہیں کہ جب امریکہ کسی ہدف کو نشانہ بناتا ہے، تو وہ اکثر میزبان ملک کے سیکیورٹی اداروں کے ساتھ "ملی بھگت” یا "خاموش رضامندی” کے سائے میں کام کرتا ہے۔

ابیٹ آباد آپریشن کے بارے میں الجزیرہ میں آنے والی لیک رپورٹ میں یہ انکشافات سامنے آئے تھے کہ امریکی ہیلی کاپٹروں (اسٹیلتھ بلیک ہاکس اور چنوک) نے پاکستانی فضائی حدود میں طویل وقت گزارا۔ اس دوران پاکستان ایئر فورس کے ریڈار "پیس ٹائم ڈپلائمنٹ” پر تھے اور انہوں نے اس دراندازی کو مکمل نظر انداز کیے رکھا، کوئی الرٹ تک جاری نہیں کیا۔

اس مشن کے دوران، دو MH-47 چنوک ہیلی کاپٹروں نے پاکستان کے 400 کلومیٹر اندر "کالا ڈھاکہ” (ضلع تور غر) کے علاقے میں ایک عارضی ری فیولنگ پوائنٹ بھی قائم کیا تھا۔ تاکہ واپسی پر نیوی سیلز کے ہیلی کاپٹروں کو ایندھن فراہم کیا جا سکے۔ ظاہر ہے کالا ڈھاکہ میں ایک امریکی فوجی اڈے کا قیام اور وہاں سے ری فیولنگ کی فراہمی اس وقت تک ممکن نہیں تھی جب تک کہ مقامی سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے کچھ عناصر اس سے باخبر نہ ہوں۔

البتہ اسـامہ بن لادن کے کمپاونڈ کے اندر موجود صرف تین افراد کی مزاحمت میں ایک امریکی ہیلی کپٹر تباہ اور کئی امریکی میرینز ہلاک/ زخمی ہوئے تھے۔

ابیٹ آباد کمیشن رپورٹ نے اسے "ریاستی ناکامی” قرار دیا تھا، بالکل ویسے ہی جیسے وینیزویلا کے وزیر دفاع پادرینو لوپیز نے حالیہ حملے کو "ناقابلِ برداشت اشتعال انگیزی” تو کہا ہے، لیکن وہ یہ نہیں بتا سکے کہ ان کی فوج اس وقت کہاں تھی جب صدر کو ان کے گھر سے اٹھایا جا رہا تھا۔

آپریشنل پیرامیٹرز کے موازنے میں، ابیٹ آباد آپریشن 2011 میں سیل ٹیم سکس نے حصہ لیا تھا جبکہ کاراکاس آپریشن 2026 میں ڈیلٹا فورس نے۔ دونوں آپریشنز میں 160th SOAR کے ہیلی کاپٹروں نے سپورٹ کی۔

اندرونی رسائی کے لیے ابیٹ آباد میں کالا ڈھاکہ میں ری فیولنگ اسٹیشن استعمال کیا گیا جبکہ کاراکاس میں USS Iwo Jima اور ٹرینیڈاڈ ایئرپورٹس استعمال ہوئے۔ مقامی ردعمل میں ابیٹ آباد میں "پیس ٹائم ریڈار” کا عذر پیش کیا گیا جبکہ کاراکاس میں "فوجی صلاحیتیں مفلوج” ہونے کا دعویٰ کیا گیا۔ ہدف کی کیفیت میں ابیٹ آباد میں ہدف رہائشی کمپاؤنڈ میں روپوش تھا جبکہ کاراکاس میں ہدف عسکری قلعے (Fort Tiuna) میں مقیم تھا۔ دورانیہ میں ابیٹ آباد آپریشن 36 منٹ جبکہ کاراکاس آپریشن 30 منٹ سے کم رہا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جیسے ابیٹ آباد میں امریکی ہیلی کاپٹروں کو سہولت فراہم کی گئی تھی، ویسے ہی وینیزویلا میں میرا فلورس اور فورٹ ٹیونا کے ارد گرد موجود دفاعی حصار کو "غیر مرئی” طریقے سے ہٹا دیا گیا تھا۔ یہ محض ایک فوجی کارروائی نہیں بلکہ ایک "سیاسی تھیٹر” پر پرفارم کیا جانے والا "اسکرپٹڈ ڈرامہ” تھا۔

وینیزویلا کے اپوزیشن ذرائع اور بین الاقوامی میڈیا کے حلقوں نے بھی صدر مادورو کی گرفتاری کو ایک "نیگوشی ایٹڈ ایگزٹ” یا طے شدہ انخلاء قرار دیا ہے۔ اس نظریے کو کئی شواہد تقویت دیتے ہیں:

دسمبر 2025 کے مذاکرات: آپریشن سے چند ہفتے قبل ایسی اطلاعات گردش کر رہی تھیں کہ مادورو روس میں پناہ لینے کے بدلے اقتدار چھوڑنے پر راضی ہو سکتے ہیں۔

چینی وفد کی موجودگی: گرفتاری سے چند گھنٹے قبل مادورو نے کاراکاس میں ایک چینی وفد سے ملاقات کی تھی، جو ظاہر کرتا ہے کہ وہ اپنے مستقبل کی ضمانتیں حاصل کر رہے تھے۔

ٹرمپ کا صلح جویانہ لہجہ: حملے سے دو دن قبل مادورو نے صدر ٹرمپ کے ساتھ منشیات اور امیگریشن پر تعاون کی پیشکش کی تھی، جس کے جواب میں امریکی صدر نے کہا تھا کہ مادورو کے لیے "عقلمندی” اسی میں ہے کہ وہ ایک طرف ہو جائیں۔

فوری امریکی کنٹرول: گرفتاری کے فوراً بعد صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکہ وینیزویلا کو "عارضی بنیادوں” پر چلائے گا اور تیل کی صنعت میں "بھرپور طریقے سے شامل” ہوگا۔

یہ تمام اشارے بتاتے ہیں کہ امریکی انٹیلی جنس ایجنسی CIA نے صدر مادورو کے قریبی حلقوں اور فوج کے اعلیٰ افسران کے ساتھ پہلے ہی معاملات طے کر لیے تھے۔ وینیزویلا کی فوج، جسے دہائیوں سے امریکہ دشمنی کی تربیت دی گئی تھی، اس کا خاموش تماشائی بنے رہنا اس بات کی دلیل ہے کہ "سودا” ہو چکا تھا۔ اب بھی ویزویلا کی فوج کوئی جوابی اقدام نہیں کرے گی۔

یاد رہے کہ وینیزویلا دنیا کے سب سے بڑے ثابت شدہ تیل کے ذخائر کا مالک ہے۔ یہ آپریشن محض ایک ڈکٹیٹر کو ہٹانے یا منشیات فروشی روکنے کے لیے نہیں تھا، بلکہ وینیزویلا کے وسائل پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کی ایک تزویراتی کوشش ہے۔

وینیزویلا اب ایک نئے عہد میں داخل ہو چکا ہے جہاں اس کی خودمختاری کے دعوے خاک میں مل چکے ہیں اور اس کے وسائل کا مستقبل اب واشنگٹن کے ہاتھوں میں ہے۔ مادورو کی گرفتاری نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ عصری جغرافیائی سیاست میں بنکرز کی دیواریں اور اسٹیل کے قلعے اس وقت تک بے معنی ہیں جب تک کہ ان کی حفاظت کرنے والے دلوں میں وفاداری موجود نہ ہو۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے