ملکۂ ترنم، میڈم نورجہاں ایک گیت میں فرما گئی تھیں کہ رات کا جاگنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ رات کو یا تو پروردگار جاگتا ہے یا چوکیدار، یا عشق کی گہری چوٹ کھایا ہوا کوئی بندہ، یا کوئی دکھیا بیمار۔ رات صرف اندھیرا نہیں بلکہ محبتوں، رازوں اور جاگتے دلوں کی دنیا ہے؛ دعا، موقع، ڈیوٹی اور دیوانگی کا ایک مرکب۔ اگرچہ رات سکون دیتی ہے لیکن کچھ دل ایسے ہوتے ہیں جو رات میں بھی جاگتے ہیں۔ نہیں جناب! یہ بے خوابی نہیں بلکہ عشق کی چار شاخیں ہیں، چار کردار، چار کہانیاں اور ایک ہی رات کا جادو۔
یہ کہانی بھی ایک شاطر چور کی ہے۔ چور طبقہ، جو رات کو اپنا "کاروبار” چمکانے نکلتا ہے۔ وہ سوچتے ہیں: "چلو آج کسی غافل کا فائدہ اٹھایا جائے۔”
ایک ماہر چور کے برے دن چل رہے تھے۔ ایک دن کا فاقہ، دوسرے دن کا فاقہ۔ تبدیلی کے کوئی آثار نہ تھے، صورتِ حال جوں کی توں برقرار رہنے کی توقع تھی۔ فاقوں کی شدت کے باعث چور کا صبر جواب دینے لگا، لیکن وہ خود کو تسلی دیتا رہا: "میں کوئی عام چور یا اُٹھائی گیرا نہیں ہوں، میں ایک آرٹسٹ ہوں، میں ٹائمنگ کا استاد ہوں۔ موقع ملتے ہی ایسا تاک کر نشانہ لگاؤں گا کہ چھ مہینے کا راشن پکا سمجھو۔”
کئی دن کی "بے روزگاری” کے بعد جب صبر کا پیمانہ لبریز ہوا تو چھوٹا موٹا ہاتھ مارنے کے بجائے محلے کی چھتوں پر تاک جھانک کرتے ہوئے ایک پُرسکون، چمکتے دمکتے گھر کو تاڑ لیتا ہے۔ جاسوسی فلم کے کردار کی طرح مکمل پیشہ ورانہ طریقے سے ریسرچ کرتا ہے، مکینوں کے معاملات کا بغور مشاہدہ کرتا ہے: کس وقت جاگتے ہیں، صبح کے وقت کون دفتر جاتا ہے، شام کو بچوں کی کتنی چیخیں نکلتی ہیں، دادی کب رضائی اوڑھتی ہے، اور سب سے بڑھ کر تہجد؟ ارے بھئی چھوڑو! وہ تو توکّلِ الٰہی والے لوگ پڑھتے ہیں۔
مگر عشق میں بھی قسمت کا بڑا عمل دخل ہوتا ہے۔
مقررہ رات، عین اس لمحے جب چور گھر کی دیوار کے باہر کھڑا اردگرد کا جائزہ لے رہا تھا، سب کچھ پلان کے مطابق چل رہا تھا۔ تبھی مالکِ مکان رب سے ملاقات کے لیے بیدار ہو چکا تھا۔ وضو کیا، مسواک کی، پرفیوم چھڑکا، مصلّے پر کھڑا ہو کر "اللہ اکبر” کی صدا لگائی۔ بیچارے چور کی قسمت ماری کہ جس لمحے اس نے دیوار پھلانگی، زمین کانپ گئی؟ ارے نہیں! وہ چور کی دھپ سے گرنے والی پاپی چپل تھی۔ "تکبیر اور دھپ” کی آوازیں آپس میں مکس ہو گئیں۔ چور زمین پر، دل آسمان پر، اور مصلّے پر کھڑا بندہ حیران و پریشان۔ چور کے ارمانوں کا جنازہ نکل گیا: "ہائے اوئے! آج بھی قسمت بے وفا نکلی۔ یا اللہ! اگر آج یہ جاگ نہ رہا ہوتا تو اپنا ٹارگٹ پورا ہو جاتا۔” لیکن یہاں خود بھی پکڑے جانے کے امکانات پیدا ہو چکے تھے۔
مالکِ مکان نے فوراً سیکیورٹی موڈ آن کر دیا۔ نماز ترک کر کے مشکوک آواز کی طرف بڑھا، لیکن چور خود کو چھپانے میں کامیاب رہا۔ ایک دو مرتبہ بلی کی آوازیں نکال کر مالکِ مکان کو گمراہ کرنے کی کوشش کی۔ مالکِ مکان اپنے تئیں مطمئن ہو کر دوبارہ مصلّے کی طرف بڑھا۔ چور اگر سمجھ دار ہوتا تو فوراً پلان منسوخ کر کے دیوار پھلانگ کر نکل جاتا، مگر فاقوں کے مارے نے قسمت آزمائی کا فیصلہ کیا۔ کچھ لمحے ایک کونے میں دبکا رہا، نگاہیں مالکِ مکان پر رکھتے ہوئے بے دھیانی میں دیکھے بغیر جونہی ایک پاؤں ہلایا، وہ فرش پر پڑے خالی برتن سے جا ٹکرایا۔ خالی برتن کے لڑھکنے کی آواز خطرے کا الارم تھی۔ مالکِ مکان کا شک یقین میں بدل چکا تھا۔ اس نے شور مچا دیا: "چور! چور! پکڑو، پکڑو!”
بیچارا چور گھبراہٹ میں پینک موڈ میں چلا گیا۔ چھپنے کی کوشش ناکام ہوئی تو چھت والی سیڑھیوں کی طرف دھیان گیا: "بس چھت پر پہنچ جاؤں تو ہوا میں اُڑ جاؤں گا۔” قسمت نے پھر ایک قلابازی لی۔ سیڑھیوں والا دروازہ بند تھا! یوں چور پکڑا گیا، اور پھر جو عوامی عدالت لگی، اس میں پہلے گھر والوں نے "ابتدائی تفتیش” کی—”جوتوں” سے سلامیاں دیں—پھر محلے والوں نے خوب "پیار” دیا۔ "محبتیں” لاتوں سے برسیں اور آخرکار پولیس والے چمکتی ہوئی وین میں "مہمان” بنا کر سحری کروانے کے لیے تھانے لے گئے۔
تھانے میں جو منظر بنا، وہ کسی مزاحیہ ڈرامے سے کم نہ تھا۔ چور کو مار کھانے کے بعد ہوش سنبھالنا چاہیے تھا، لیکن وہ اُلٹا حوصلے میں آ گیا۔ عام حالات میں شرمندہ ہو کر کونے میں دبک جاتا، مگر مار کھانے کے بعد بھی اتنا پُرجوش تھا جیسے اولمپک گولڈ میڈل جیت کر آیا ہو۔ یہاں تو وہ بالکل نئی توانائی کے ساتھ میدانِ خطابت میں اُترا اور جذباتی تقریر جھاڑ دی:
"جناب! چوری کی نیت تھی، مگر سامنے بیٹھا دوزخی مالکِ مکان تہجدی نکل آیا! میرے سپنوں کی قبر کھود دی اس نے! میں تو صرف رزقِ حلال کے متبادل ذرائع تلاش کر رہا تھا!”
ایس ایچ او کچھ لمحوں کے لیے واقعی شاعر بن گیا، پھر گہری سوچ میں بولا: "پرچہ چوری کا بنائیں یا تہجد کی غیر متوقع بیداری کا؟” پورا تھانہ قہقہوں سے گونج اٹھا۔ کسی کو سمجھ ہی نہ آیا کہ یہاں قصوروار کون ہے۔ محرّر نے فائل کی بجائے چھوٹی نوٹ بک پر لطیفے لکھنا شروع کر دیے۔ چور اب بھی سراپا احتجاج تھا: "ہم چور ہیں، پر جذبات بھی رکھتے ہیں۔ ہم بھی انسان ہیں، کچھ حقوق ہمارے بھی ہوتے ہیں! قانون صرف امیروں کے لیے نہیں!”
اب یہ چوری تھی یا مظلومیت کی تحریک سب قہقہے لگا کر ہنس رہے تھے، ماسوائے چور کے، جو اب بھی "انسانی حقوق کا علم” تھامے کھڑا تھا۔ اس دن پولیس کو ایک چور کم اور ایک کامیڈین زیادہ ملا، جس نے سب کی ڈیوٹی میں ایک خوش گوار وقفہ ڈال دیا۔
چور متواتر واویلا کر رہا تھا: "بس رب کا بندہ سجدے میں نہ ہوتا تو آج میرا ٹارگٹ پورا تھا!” اب یہ بھی بھلا کوئی بات ہوئی؟
آج کی رات کیسی گزرے گی؟ یہ فیصلہ ہم خود کرتے ہیں۔ کسی کے لیے رات وصال کی گھڑی ہے، کسی کے لیے موقع کی تاک، اور کسی کے لیے کمبل تلے خوابوں کی چوری۔ فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے: چور، عاشق یا سونے والے۔ مگر ایک بات یاد رکھیں رب جاگ رہا ہے اور دیکھ بھی رہا ہے۔