ایلیٹ کلاس کے مفادات اور ہم

ایلیٹ کلاس یا اشرافیہ کے مفادات پر تفصیل سے لکھنے کی ضرورت ہے۔ گلگت بلتستان میں ایلیٹ کلاس کئی شکلوں میں موجود ہے۔ کبھی کھبار سوچتا ہوں کہ اس مفاداتی اشرافیہ کے متعلق تفصیل سے لکھوں، ان کا چہرہ بے نقاب کروں، دفعتاً خیال آتا ہے کہ خدانخواستہ اگر پوری ایلیٹ کلاس مخالف ہوگئی تو جینا دوبھر ہو جائے گا۔ ویسے بھی قلم کی زہرناکیوں نے کہیں کا نہیں چھوڑا، تو پھر مزید دنیا بھر کی مخاصمت چہ دارد۔

بہرحال، سیاست، تجارت، مذہب، مقتدرہ اور بیوروکریسی غرض ایلیٹ کلاس ہر جگہ موجود ہے، اور اس سے بھی سچی بات یہی ہے کہ ان کا نہ کوئی مذہب ہوتا ہے، نہ انہیں جمہوریت و انسانی حقوق سے کوئی غرض، نہ ہم جیسے عام انسان سے۔ ان کا پہلا اور آخری ہدف صرف اور صرف ان کا اپنا مفاد ہوتا ہے، اور بس۔

یہ ایلیٹ کلاس کبھی سیاست کے نام پر عوامی جذبات کو ایندھن بناتی ہے، کبھی مذہب کی آڑ میں تقدس کے قلعے تعمیر کرتی ہے، کبھی تجارت کے پردے میں منافع کو عبادت بنا دیتی ہے، اور کبھی بیوروکریسی کی میزوں پر بیٹھ کر قانون کو اپنی مرضی کے سانچوں میں ڈھال لیتی ہے۔ ان کے نعروں میں ہمیشہ "عوام”، "قوم”، "مذہب” اور "ملک”ہوتے ہیں، مگر ان نعروں کے پیچھے جو فہرست ہوتی ہے، اس میں سب سے اوپر صرف "ہم” لکھا ہوتا ہے،یعنی وہ خود۔

گلگت بلتستان جیسے پسماندہ خطے میں اس اشرافیہ کی طاقت اور بھی خطرناک ہو جاتی ہے، کیونکہ یہاں وسائل کم ہیں، مواقع محدود ہیں، اور عام آدمی پہلے ہی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے۔ ایسے میں ایلیٹ کلاس کا ہر فیصلہ، ہر منصوبہ، اور ہر سودے بازی براہ راست عام انسان کی زندگی پر اثر انداز ہوتی ہے۔ مگر المیہ یہ ہے کہ نقصان ہمیشہ عوام کا ہوتا ہے اور فائدہ ہمیشہ مخصوص طبقات سمیٹ لیتے ہیں۔

ہم میں سے اکثر لوگ اس خوش فہمی میں مبتلا رہتے ہیں کہ شاید کوئی لیڈر، کوئی مذہبی شخصیت، یا کوئی افسر ہمارے دکھوں کا مداوا کرے گا۔ مگر تلخ سچ یہ ہے کہ جب تک ہمارے مفادات ان کے مفادات سے ہم آہنگ رہتے ہیں، ہم عزیز ہیں، اور جیسے ہی ہم سوال اٹھاتے ہیں، ہم غیر ضروری، باغی اور قابل نفرت ٹھہرتے ہیں۔

لہٰذا، غریبو اور نوجوانو!

ان کے مفادات کے لیے ایندھن بننے کی بجائے اپنی اور اپنی فیملی کی سروائیول کے لیے خود غرض بن کر زندگی کی ترتیب پلان کیجیے، تاکہ آپ زندہ جی سکیں۔ اپنے بچوں کی تعلیم، اپنی معاشی خودمختاری، اپنی فکری آزادی اور اپنی ذاتی صلاحیتوں پر سرمایہ کاری کیجیے۔ جذباتی نعروں، مقدس وعدوں اور خوابوں کی فروخت سے خود کو بچائیے، کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ ایلیٹ کلاس کبھی کسی کی نہیں ہوتی، سوائے اپنے مفاد کے۔

یہ خود غرضی کوئی اخلاقی جرم نہیں، بلکہ اس سماج میں زندہ رہنے کی بنیادی شرط ہے، جہاں نظام خود غرضی پر کھڑا ہو۔ اگر آپ نے اپنے لیے نہیں سوچا، تو یقین کیجیے، ایلیٹ کلاس آپ کے لیے کبھی نہیں سوچے گی۔
لہذا ، پلیز
اپنے اور اپنی فیملی کے لیے سوچنا شروع کیجے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے