سنہ 2020 سے لے کر سنہ 2025 تک مکران کی سیاست ایک ایسے بھنور میں گھری رہی جس میں ریاستی رِٹ، عوامی تحفظ اور سیاسی قیادت، تینوں کمزور دکھائی دیتے رہے۔ اس پانچ سالہ عرصے میں ایک طرف ڈرگ مافیا نے اپنے پنجے مضبوط کیے تو دوسری جانب اغواء برائے تاوان کے منظم نیٹ ورکس نے سماج کو یرغمال بنا لیا۔ عام آدمی، بالخصوص غریب اور متوسط طبقہ، بے یار و مددگار رہا۔
اس دوران بلوچستان سے تعلق رکھنے والی پارلیمانی سیاست کی علمبردار جماعتیں عوام کو درپیش ان سنگین مسائل سے عملاً چشم پوشی اختیار کیے رہیں۔ ان جماعتوں کی سیاست کا دائرہ کار انتخابات سے قبل جلسوں، نعروں اور وعدوں تک محدود رہا، جبکہ کامیابی کے بعد اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھ کر عوامی دکھ درد سے لاتعلقی اختیار کرلی گئی۔ یہی وہ رویہ تھا جس نے بلوچستان، خصوصاً مکران میں ایک گہرا سیاسی خلا پیدا کیا۔
یہ خلا محض قیادت کی عدم موجودگی کا نہیں تھا بلکہ اعتماد، نمائندگی اور اجتماعی احساس کا خلا تھا۔ عوام کے پاس کوئی ایسا سیاسی پلیٹ فارم موجود نہیں تھا جو ان کے روزمرہ مسائل، منشیات، اغواء، بدامنی اور سماجی ٹوٹ پھوٹ، پر کھل کر بات کرے اور عملی مزاحمت منظم کرے۔ یہی وجہ تھی کہ لوگ کبھی خود کو “سول سوسائٹی” کے نام پر مجتمع کرتے رہے اور کبھی کسی “کمیٹی” کے جھنڈے تلے اکٹھے ہوتے رہے۔ ان غیر رسمی مگر عوامی پلیٹ فارمز نے وہ کردار ادا کیا جو باقاعدہ سیاسی جماعتوں کو کرنا چاہیے تھا۔
اگست 2020 میں بلیدہ سے اٹھنے والی انسدادِ منشیات تحریک اسی عوامی مزاحمت کی پہلی واضح مثال تھی۔ یہ تحریک کسی سیاسی جماعت کے منشور سے نہیں نکلی بلکہ ان خواتین کی چیخ بن کر ابھری جن کے گھر منشیات کی لعنت نے اجاڑ دیے تھے۔ وہ مائیں، بہنیں اور بیویاں، جن کے بیٹے، بھائی اور شوہر نشے کے عادی ہوچکے تھے، پہلی بار سڑکوں پر آئیں۔ ان خواتین کا کہنا تھا کہ ان کے گھروں میں فاقے ہیں، بچے بھوک سے نڈھال ہیں اور گھر کے کفیل نشے کی دنیا میں گم ہوچکے ہیں۔ جب ان مظلوم خواتین کی آہ و زاری کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں تو اس نے پورے معاشرے کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔
بلیدہ سے تربت تک نکالی جانے والی ریلی اور “انسداد منشیات کمیٹی بلیدہ زامران” کا قیام اس بات کا اعلان تھا کہ عوام اب خاموش تماشائی نہیں رہیں گے۔ دیکھتے ہی دیکھتے تربت، دشت، گوادر، پسنی اور مکران کے دیگر علاقوں میں عوام منشیات فروشوں کے خلاف سڑکوں پر آگئے۔ ایک سال تک جاری رہنے والی اس عوامی تحریک نے بالآخر ڈرگ مافیا کو پسپائی پر مجبور کیا، پولیس اور انتظامیہ کو اپنی خاموش سرپرستی ختم کرنا پڑی اور متعدد جرائم پیشہ عناصر گرفتار ہوئے۔ یہ سب کچھ پارلیمانی سیاست کے بغیر، بلکہ اس کی غیر موجودگی میں ممکن ہوا۔
اسی سال مئی 2020 میں ضلع کیچ کے علاقے ڈنُک میں پیش آنے والا واقعہ مکران کی تاریخ کا ایک اور فیصلہ کن موڑ ثابت ہوا۔ مسلح افراد کی ڈکیتی کی کوشش کے دوران ایک بلوچ ماں، ملک ناز، نے مزاحمت کی اور شہید ہوگئیں، جبکہ ان کی کمسن بیٹی برمش شدید زخمی ہوئی۔ یہ وہ وقت تھا جب پورا مکران ڈاکو راج کی لپیٹ میں تھا، مسلح افراد کھلے عام گھومتے تھے، اسلحے کی نمائش معمول بن چکی تھی اور چادر و چار دیواری کا تقدس پامال ہو رہا تھا۔ ریاست کے اندر ایک غیر اعلانیہ ریاست قائم تھی، مگر پارلیمانی جماعتیں اس سب پر خاموش تھیں۔
اس خاموشی کو پہلی بار اس وقت چیلنج کیا گیا جب ڈنُک واقعے کے خلاف گوادر میں ایک چھوٹا سا احتجاج ہوا، جس کی قیادت کامریڈ حسین واڈیلہ، شاہ داد بلوچ اور بالاچ قادر نے کی۔ یہ احتجاج محض ایک مظاہرہ نہیں تھا بلکہ خوف کے خلاف اعلانِ بغاوت تھا۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی تقاریر نے پورے مکران سمیت بلوچستان، سندھ اور کوہِ سلیمان تک لوگوں کو یہ احساس دلایا کہ خوف مصنوعی ہے اور عوامی طاقت اصل قوت ہے۔ اسی احساس نے “برمش یکجہتی کمیٹی” کو جنم دیا۔
برمش یکجہتی کمیٹی نے ڈیتھ اسکواڈز کے خلاف وہ مزاحمت منظم کی جس کی مثال ماضی میں کم ملتی ہے۔
بلوچستان، سندھ اور جنوبی پنجاب میں عوام سڑکوں پر نکل آئے۔ بالآخر نامزد ملزمان کو جیل جانا پڑا۔ یہ کامیابی اس بات کا ثبوت تھی کہ عوامی طاقت، اگر منظم ہو، تو ریاستی سرپرستی یافتہ عناصر کو بھی شکست دے سکتی ہے۔ اسی پس منظر میں برمش یکجہتی کمیٹی کو بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) میں تبدیل کیا گیا، جس کی بنیاد کراچی میں پڑی اور پھر یہ تحریک پورے بلوچستان میں پھیل گئی۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کی سب سے بڑی کامیابی تربت سے اسلام آباد تک لانگ مارچ تھا، جس نے قومی سطح پر بلوچ عوام کے مسائل کو اجاگر کیا۔ اس تحریک کو نئی روح اس وقت ملی جب شہید بالاچ بلوچ کی بہن نجمہ بلوچ نے سرکاری دباؤ، لالچ اور مراعات کو ٹھکرا کر اپنے بھائی کی لاش کو شہید فدا چوک میں رکھ دیا اور اسے بلوچ قوم کے نام کر دیا۔ ملک ناز کے خون سے جنم لینے والی تحریک کو نجمہ بلوچ کی جرات نے ناقابلِ شکست بنا دیا۔
یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ یہ تحریک بلوچ خواتین کی مرہونِ منت ہے۔ بلوچ ماؤں اور بہنوں نے قیادت کی اور بلوچ قوم نے ان کی آواز پر لبیک کہا۔ لاکھوں لوگ سڑکوں پر نکل آئے، ہڑتالیں ہوئیں، ایسے مظاہرے دیکھنے میں آئے جو پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتیں بھی منظم نہ کر سکیں۔
ان تمام تاریخی اور فیصلہ کن واقعات میں پارلیمانی سیاست کا کردار تقریباً نہ ہونے کے برابر رہا۔ چاہے نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر مالک بلوچ ہوں یا بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے قائد سردار اختر مینگل، عوامی سطح پر وہ اس پورے منظرنامے میں کہیں دکھائی نہیں دیے۔ جب مکران منشیات، اغواء برائے تاوان اور مسلح جتھوں کے نرغے میں تھا، اس وقت پارلیمانی قیادت ایوانوں کی سیاست تک محدود رہی۔ نتیجتاً عوام نے روایتی سیاسی ڈھانچوں سے ہٹ کر، "بغیر بیلٹ پیپر” کے اپنی قیادت خود چن لی، یہ ایک خاموش مگر فیصلہ کن عوامی ریفرنڈم تھا، جس میں عوام نے پارلیمانی سیاست پر عدم اعتماد کی مہر ثبت کر دی۔
اسی پس منظر میں جب سنہ 2026 کے آغاز پر اغواء برائے تاوان کے خلاف ڈاکٹر مالک بلوچ اور دیگر پارلیمان پسند سیاستدان عوام کے درمیان نمودار ہوئے تو یہ اقدام عوام کو بروقت سیاسی قیادت کے بجائے ایک دیر سے آنے والا ردِعمل محسوس ہوا۔ اب صورتِ حال یہ ہے کہ پارلیمانی نمائندوں کو عوامی اعتماد کی بحالی کے لیے غیر معمولی محنت کرنا ہوگی۔ انہیں ریاستی اقتدار کے ساتھ "سیاسی مصلحت پسندی” اور "مفاہمت کی روایت” سے باہر نکلنا پڑے گا، کیونکہ اب محض بیانات یا وقتی احتجاج عوام کو قائل نہیں کر سکتے۔ پارلیمانی سیاست کے پاس اب ایک ہی واضح انتخاب رہ گیا ہے۔ یا تو وہ مستقل طور پر عوام کے درمیان کھڑی ہو، یا پھر اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھ کر عوام سے کٹ جانے کی قیمت ادا کرتی رہے۔