2025 دو پہلوؤں سے منفرد اور معروف رہ جائے گا۔
ایک تو یہی مصنوعی ذہانت یعنی AI۔ اس کو اگلی نشست پر اٹھا رکھتے ہیں۔ اس سال کا دوسرا حوالہ جنریشن زی (Gen Z) کا زومبیز کی طرح ظہور پذیر ہونا تھا۔ جیسے قربِ قیامت ہو اور یہ اس کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہو، یہ نسل فسانہ یاجوج ماجوج کی یاد تازہ کرتی رہی۔ گزشتہ کچھ سالوں میں یہ ایک بھر پور قوت اور تعداد کے ساتھ سامنے آئی ہے۔ نیٹ اور نیٹ کے استعمال کی وجہ سے ہی تو یہ جانی جاتی ہے، اس کا بھرپور استعمال رہا ایک طرف، یہ شوریدہ سر مخلوق سربکف سڑکوں پر نکلی ہوئی ہے۔ سیاسی بساط لپیٹی جا رہی ہے۔ احتجاج رنگ لا رہا ہے۔ یہ مر کٹ رہے ہیں۔ جواں خون ہے۔ سر پھرے ہیں۔ خون جوش مار رہا ہے۔
جین زی ہے کیا؟
1997 سے 2012 کے درمیان پیدا ہونے والی نسل کو جنریشن زی کہا جاتا ہے۔ اس وقت ان کی عمریں 12 سے 28 سال کے بیچ ہیں۔ اس سے پہلی والی نسل یعنی 1981 سے 1996 میں پیدا ہونے والوں کو Millennials کہا جاتا ہے۔ یہ 29 سے 44سال کے درمیان کے پختہ عمر لوگ ہیں۔ پھر Gen X کا نمبر آتا ہے۔ ان کی پیدائیش 1965 اور 1980 کے درمیان ہوئی ہے اور عمریں 45 تا 60 سال ہیں۔ تین نسلیں تو یہ ہو گئیں۔ ان کے بعد دو نسلوں کو "بوڑھی نسلیں” کہا جاتا ہے۔ Boomers II کا جنم 1955 تا 1964 ہے۔
یہ بابے 61 سے 70 کی پیڑی میں ہیں اور اس سے پچھلی نسل Boomers I کے زمرے میں آتی ہے جن کی پیدائیش 1946 اور 1954 میں ہوئی اور ایج گروپ 71 سے 79 ہے۔ باقی کی نسلوں کو جنگوں کے حوالے سے یاد کیا جاتا ہے۔ یعنی دو عالمی جنگوں کے بعد یا پہلے پروان چڑھنے والی نسل۔
جین زی کی خصوصیات کیا ہیں؟
یہ نوجوانوں کی ایک فورس ہے۔ یہ فورس دنیا کی 30 فیصد ورک فورس کی نمائندگی کرتی ہے۔ اس کی ایک خاصیت digital natives ہونا ہے۔ یعنی ڈیجیٹیل دنیا، ان کی جائے پیدائش ہے۔ اس نسل کو سوشل میڈیا وراثت میں ملا ہے اور اب خیر سے مصنوعی ذہانت کا اُسترا بھی ہاتھ میں آچکا ہے۔ جین زی نے اپنے سابقین کی طرح دو بڑے واقعات دیکھے۔ عظیم کساد بازاری یعنی Great Recession کے بعد کورونا وائرس کی وبا کو جھیلا۔ علاوہ ازیں مختلف ممالک کے اپنے مسائل ہیں۔ ان مسائل نے بھی ان کے لاشعور اور شعور کو متحرک کیا۔ نفسیات کی زبان میں بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ فرائڈ کا لاشعور بیدار ہوا اور اس نے شعور کو حرکت دی اور اس شعور نے کارل جونگ کےمشترکہ یا اجتماعی شعور کی صورت اختیار کی۔ یوں ایک خاص ایج گروپ اپنا اثر چھوڑ گیا۔
اس نسل نے ٹک ٹاک، انسٹا، اور دوسرے سماجی رابطوں کے ذرائع کو بروئے کار لا کر ہنگامہ بپا کیے رکھا ہے۔ مین اسٹریم میڈیا ان کو کیا توجہ دیتا۔ اس کو انہوں نے بھی بائی پاس کیا اور جدید ساز و سامان سے لیس نظر آئے۔
جین زی نے کیا ہنگامے بپا کیا؟
2024 سے 2025 کے آخر تک یہ نسل لاطینی امریکہ سے تا بخاکِ ایشیا و افریقہ، بری طرح چھائی رہی اور چھا رہی ہے۔ بنگلہ دیش کی آئرن لیڈی اسی نسل کے ہاتھوں ہندوستان میں پناہ لینے پر مجبور ہوئی۔ نیپال میں تخت گرائے گئے اور اقتدار کے ایوانوں کو نذرِ آتش کیا گیا۔ یورپ کے بلجیریا میں تاج اچھالے گئے اور وزیر اعظم کو گھر کی راہ دکھائی گئی۔ امریکہ میں بھی یہ نسل ایک متحدہ شکل میں اپنی قوتِ بازو دکھاتی رہی۔
ممکنہ طور پر پاکستان میں اس کا ظہور ایک الگ صورت میں ہوا ہے، تاہم یہ اس طرح کی قوت بن کر سامنے نہیں آئی جس طرح باقی دنیا میں وقوع پذیر ہوئی۔ شاید حالات سازگار نہ ہوں، شاید اپنے ہاں کے ففتھ جنریشن وار والے لڑکے، جنریشن زی کے باغی لڑکوں سے زیادہ چوکنے (Vigilant) ہوں۔ شاید ممکنہ طور پر اس کا ظہور الگ صورت میں ہوا ہو مگر حقیقی مسائل کے بجائے ایک شخص کو ناگزیر سمجھ لیا ہو اور کلٹ لیڈر کے کلٹ پیروکار بن گئے ہوں؛ یوں وہ نظریاتی اساس کھو بیٹھے ہوں جس کی کوکھ سے انقلاب جنم لے سکتا تھا۔
جنریشن زی کیوں سر بکف ہے؟ اور یہ نسل کس چیز کے لیے برسرِ پیکار ہے؟
یہ نسل نا اہل حکمرانوں کی بیڈ گورننس سے تنگ آئی ہوئی ہے۔ یہ کرپشن، انسانی آزادی پر قدغنوں اور بے یقینی کی دیوارِ گریہ کو آخری دھکا دے رہے ہیں۔ وہ دھڑام سے گر جاتی ہے۔ خدا کے لہجے میں بولنے والے تخت نشینوں کو جان کے لالے پڑ جاتے ہیں۔
ان کے دُکھ درد مشترکہ ہیں۔ یہ نسل انصاف مانگتی ہے۔ برابری والا انصاف۔ آپ محض اس بنیاد پر کسی ہم عصر ساتھی کو نہیں نواز سکتے کہ اس کے والد نے 1971 میں جنگ جیتی تھی۔ یہ دوسرا پوچھتا ہے کہ میرا والد جو بنگال کی کھیتی بو رہا تھا اور سپاہی لوگوں کا پیٹ پال رہا تھا، اس کا اتنا بڑا قصور کہ بیٹا بھی سزا پائے؟ یہ کہاں کا انصاف ہے۔
کامیابی اور ناکامی
اس نسل کو بعض فرنٹ پر کامیابیوں اور بعض پر ناکامیوں کا سامنا ہے۔ ایک چیز یقینی ہے کہ ان کے ہاتھوں میں انقلاب کا پرچم ہے اور یہ انقلاب کا باعث بن رہے ہیں۔ یہ سوال کہ کیا انقلاب سے مطلوبہ نتائج حاصل ہوئے یا انقلاب کی کوکھ سے کسی بہتر اور مستحکم صورتِ حال نے جنم لیا یا نہیں؟ اس پر بات ہو سکتی ہے اور کسی حد تک جواب نفی میں ہے۔ لگتا یوں ہے کہ لڑکوں کے اس کھیل نے طاقتور حکمرانوں کا دھڑن تختہ تو کر دیا ہے مگر افغان طالبوں کی طرح کارِ جہاں بانی سے نا آشنا ہیں۔ منظر یہ بن رہا ہے کہ باغیوں نے ٹرین کو ہائی جیک کر لیا ہے اور ڈرائیور کو پچھلی سیٹ پر باندھ دیا ہے مگر یہ کسی کو سمجھ نہیں آ رہا کہ اب ٹرین کو سواریوں سمیت منزلِ مقصود تک کیسے پہنچایا جائے۔ لڑکے سواریوں کو لے کر دشتِ بے اماں میں سر پیٹ رہے ہیں۔
کامیابی اور ناکامی سے قطعِ نظر، جین زی ایک ابھرتی ہوئی تحریک ہے اور تحریک اپنی فطرت میں ناری ہوتی ہے۔ یہ انقلاب بپا کرتی ہے۔ status quo ٹوٹتا ہے اور اس کے بطن سے تبدیلی پھوٹتی ہے۔ تبدیلی صلائے عام کے لیے پیش ہے۔