ہم غریبوں کا کوئی نام نہیں ہوتا…

یہ 7 جنوری 2026 کی رات 1:30 بجے کا وقت تھا۔ میں ایک انٹرویو دیکھ رہا تھا جس میں میزبان نے ایک خاتون سےسوال کیا: "آپ کا کیا نام ہے؟” جواب ملا: "ہم غریبوں کا کوئی نام نہیں ہوتا، لوگ ہمیں ‘اوئے’ کہہ کر پکارتے ہیں۔”

یہ الفاظ سنتے ہی میرے سر سے پاؤں تک بدن میں ایک درد کی لہر دوڑ گئی۔ کیا واقعی ایسا ہے؟ کیا معاشرے میں اخلاقیات کا معیار اتنا گر چکا ہے؟ کیا واقعی ایک ہی معاشرے میں ایک "نام والے” اور ایک "بے نام” طبقے کی تقسیم موجود ہے؟

کیا آج کی تعلیم یافتہ سوسائٹی میں بھی ایک نچلا طبقہ موجود ہے جو صبح سے شام تک بالائی طبقے کی خدمت کرتا ہے، اپنی محنت کی مزدوری سے زیادہ کبھی نہیں مانگتا، پھر بھی اس کے دل میں یہ احساس پایا جاتا ہے کہ ہمارا کوئی نام نہیں؟

میں سوچنے لگا اور اپنی زندگی کے بے شمار واقعات یاد آنے لگے، جہاں مالک اپنے ملازم کو، افسر اپنے چپڑاسی کو، بڑی گاڑی والا سائیکل یا ریڑھی والے کو "اوئے” کہہ کر بلاتا تھا۔ یہ لفظ جب ان کے منہ سے سنتا تو مجھے کچھ خاص محسوس نہ ہوتا، مگر جب ایک غریب حلیے والی خاتون کے منہ سے یہ الفاظ سنے تو یہ دکھ اور درد کا وہ تیر تھا جو معاشرے کے ظالمانہ اور تحقیر آمیز رویے کی وجہ سے کانٹوں کی طرح نہ جانے کتنے عرصے سے کتنے دلوں کو زخمی کرتا آ رہا ہے اور آئندہ بھی کرتا رہے گا۔

جب یہ الفاظ میرے کانوں سے ٹکرائے تو میرا وجود لرز اٹھا کہ اسلامی جمہوری نظریے کے ساتھ وجود میں آنے والی ریاست کے حکمرانوں نے اس معاشرے کو اتنا گرنے دیا کہ یہاں ایک طبقہ اپنی کمزور مالی حالت کی وجہ سے اپنا نام بھی نہیں پکارا جا رہا؟

کیا اس غریب کا قصور ہے کہ وہ پاکستان میں پیدا ہوا؟ یا اس امیر کا قصور ہے جو انہیں غریبوں سے ٹیکس لے کر اپنے بچوں کو یورپ میں پڑھا رہا ہے، مگر انہیں غریبوں کے بچوں کو بہتر مقام پر لے جانے کے بجائے ان کی عزتِ نفس کا خیال نہیں رکھتا؟

یہ لفظ "اوئے” کہنا کتنا آسان ہے اور سننا کتنا مشکل ہے۔ میں نے عہد کیا ہے کہ میں یہ لفظ کبھی نہیں کہوں گا، اور اگر پہلے کبھی کہا ہے تو ہاتھ جوڑ کر معافی مانگتا ہوں۔ میں کم از کم اتنی کوشش کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں کہ آئندہ کسی غریب کو "اوئے” کہہ کر اسے تکلیف نہ پہنچاؤں۔ اور آپ؟

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے