ذہنی کمزوری یا ادارہ جاتی تشدد؟ یونیورسٹیوں میں خودکشیوں کا پس منظر

یونیورسٹیوں میں ہونے والی خودکشیاں اکثر ایک “ذاتی المیہ” یا “ذہنی کمزوری” کے طور پر پیش کی جاتی ہیں۔کہیں طلبہ اساتذہ کو الزام دے رہے ہیں، کہیں اساتذہ طلبہ کو غیر سنجیدہ، ناسمجھ یا نالائق قرار دے رہے ہیں۔ مگر یہ معاملہ اتنا سادہ نہیں ۔

پچھلی دو دہایوں سے دنیا بھر میں طلبہ اور نوجوانوں کی خود کشیوں کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہوا ہے ۔ جاپان، جنوبی کوریا ،آسٹریلیا، امریکا اور بھارت جیسے ممالک میں ہونے والی بے شمار تحقیقات اس نتیجے پر پہنچ چکی ہیں کہ خودکشیوں کے پیچھے ایک مشترک ساختی منطق (structural logic) کام کر رہی ہے، اور وہ ہے نیولبرل، کارپوریٹ نظام، جو تعلیم سمیت ہر شعبے میں انسان کو ایک معاشی اکائی بنا دیتا ہے۔ ان تحقیقات میں بار بار یہ بات سامنے آتی ہے کہ جب تعلیم کو منڈی، مقابلے اور منافع کے اصولوں پر استوار کیا جاتا ہے تو اس کے لازمی نتائج alienation، شدید تنہائی اور ذہنی دباؤ ، عدم تحفظ ، مسلسل ناکافی ہونے کا احساس اور وجودی بے معنویت کی صورت میں نکلتے ہیں۔

جاپان اور کوریا میں محققین نے دکھایا کہ وہاں کی سخت، غیر لچکدار اور درجہ بند تعلیمی و ادارہ جاتی ساخت میں فرد مکمل طور پر اتھارٹی کے سامنے بے بس ہو جاتا ہے۔ استاد، سپروائزر یا ادارہ صرف ایک طاقت نہیں بلکہ ایک مقدس، ناقابلِ سوال ادارہ بن جاتا ہے، اور طالب علم یا جونئیر کو اپنی تکلیف، خوف، یا ذہنی ٹوٹ پھوٹ بیان کرنے کی اجازت ہی نہیں ہوتی۔ اسکے علاوہ مسابقتی فضا ، مقابلہ کی دوڑ ، سیمسٹر کی ڈیڈ لائنز اور پروجیکٹس، بھاری فیسیں اور اخراجات ، مستقبل کی بے یقینی ۔۔۔

مسلسل دباؤ میں رکھتے ہیں ۔جاپان میں کئی خودکشیوں کے نوٹس اس بات کی علامت ہیں کہ لوگ براہِ راست شکایت کرنے کے بجائے گانے، اشعار یا مبہم جملوں میں اپنی اذیت بیان کرتے ہیں، کیونکہ نظام میں جذبات اور احساسات کے لیے کوئی زبان، کوئی جگہ اور کوئی سماعت موجود نہیں۔ محققین اسے emotional suppression اور institutional silence کہتے ہیں، جو بالآخر انسان کو اندر ہی اندر توڑ دیتا ہے۔

امریکا اور آسٹریلیا میں کی گئی تحقیقات بھی یہی دکھاتی ہیں کہ جب یونیورسٹیاں کارپوریٹ اداروں میں بدل جاتی ہیں تو استاد اور طالب علم دونوں شدید دباؤ، غیر یقینی مستقبل، قرض، پبلیکیشن، فنڈنگ اور کارکردگی کے جبر میں آ جاتے ہیں۔ یہاں hyper-hierarchy اس حد تک سخت ہوتی ہے کہ جونئیر یا طالب علم کے پاس طاقت، آواز یا تحفظ نہیں رہتا، اور شکایت کرنے کا مطلب اپنے کیریئر کو خطرے میں ڈالنا ہوتا ہے۔جب نظام سخت، غیر لچکدار اور درجہ بند ہو، تو وہاں ہراسانی، بُلِیئنگ اور طاقت کے غلط استعمال کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ جیسے کچھ عرصہ قبل یو کے میں ایک پی ایچ ڈی سٹوڈنٹ نے اپنے سپر وائزر کے رویہ سے دل برداشتہ ہو کر خوشی کر لی تھی ۔

پاکستانی تناظر میں رکھ کر دیکھے جائیں تو تصویر اور بھی سنگین ہو جاتی ہے۔ بھارت کی طرح یہاں بھی نیولبرل تعلیمی ڈھانچے کے ساتھ طبقاتی فرق، سماجی حیثیت، زبان، صنف اور علاقائی پس منظر کی کئی تہیں جڑی ہوئی ہیں، جن کے اندر طالب علم اور استاد دونوں دبے ہوئے ہیں۔ ہماری جامعات بھی محض تعلیمی ادارے نہیں رہیں بلکہ ایک سخت، غیر لچکدار درجہ بند نظام بن چکی ہیں جہاں انسان نہیں، قوانین، قواعد، فائلیں اور نمبرز بولتے ہیں۔ یہاں دلت اور آدیواسی کی جگہ غریب، مڈل کلاس، سرکاری اسکول سے آئے ہوئے، یا کمزور سماجی نیٹ ورک رکھنے والے طلبہ آ جاتے ہیں، جنہیں بالواسطہ طور پر “کم معیار”، “غیر فِٹ” یا “مسئلہ” سمجھا جاتا ہے۔

شکایات کا نظام رسمی ہے، انصاف تاخیری ہے، اور انتظامیہ کی بے حسی اس حد تک ہے کہ انسان اندر ہی اندر ٹوٹ جائے تو بھی ادارہ اسے محض ایک ڈیٹا پوائنٹ سمجھتا ہے۔ طالب علم گریڈز، رینکنگ، سمسٹر سسٹم اور مستقبل کی ملازمت کے خوف میں جیتے ہیں، جبکہ استاد پبلیکیشن کاؤنٹس، فنڈنگ، ایویلیوایشن فارمز اور ادارہ جاتی اہداف کے غلام بن چکے ہیں۔ ناکامی کو سیکھنے کا مرحلہ نہیں بلکہ ایک وجودی جرم سمجھا جاتا ہے، ایسا جرم جس کی سزا شرمندگی، خاموشی اور تنہائی ہے۔

یہی وہ ماحول ہے جسے جاپانی مفکرین Performance-induced despair اور کوریائی نقاد Educational suffocation کہتے ہیں، اور یہی فضا اب پاکستان میں بھی جڑ پکڑ چکی ہے، جہاں تعلیم ایک انسانی تجربہ نہیں بلکہ مسابقتی فیکٹری بن چکی ہے۔ اس فیکٹری میں طلبہ نمبرز، ڈیٹا اور منافع کی اکائیاں ہیں، اساتذہ پیداواری مشینیں، اور اگر کوئی انسان اس دباؤ میں سسک سسک کر مر بھی جائے تو نظام کے لیے وہ محض ایک “کیس فائل” ہوتا ہے، کوئی خبر، کوئی سوال، کوئی احتساب نہیں۔

اس کارپوریٹ تعلیمی ڈھانچے کی سب سے خوفناک خصوصیت اس کا غیر انسانی ہونا ہے۔ انسانیت ایک رکاوٹ بن جاتی ہے۔ ہمدردی، دیکھ بھال، مکالمہ اور تعلق داری کو “غیر پیشہ ورانہ” یا “غیر پیداواری” سمجھا جاتا ہے۔

طالب علم کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ کسی مرحلے پر کمزور ہو، رُک جائے یا سوال کرے، اور استاد کو یہ اجازت نہیں کہ وہ محض ایک رہنما، ایک سننے والا یا ایک انسان بن کر موجود ہو۔ ہر کوئی ڈیڈ لائنز، پروجیکٹس، سمسٹر سسٹم، گریڈنگ، ایویلیوایشن اور رپورٹس کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ یہ نظام نہ طالب علم کو سانس لینے دیتا ہے، نہ استاد کو۔ دونوں ایک ایسی مشین کے پرزے بن چکے ہیں جو مسلسل چلتی رہتی ہے، چاہے اس کے نیچے انسان کچلے جاتے رہیں۔

اسی غیر انسانی فضا میں استاد اور طالب علم کے درمیان وہ رشتہ ختم ہو جاتا ہے جو کسی بھی تعلیمی ادارے کی روح ہوتا ہے۔ استاد اب مربی نہیں بلکہ منیجر بن جاتا ہے، اور طالب علم سیکھنے والا نہیں بلکہ ایک “ڈیلیورایبل مشین ”۔ دونوں سے مسلسل پیداوار مانگی جاتی ہے، اور دونوں کو اس بنیاد پر پرکھا جاتا ہے کہ وہ کتنے کارآمد، کتنے مؤثر اور کتنے منافع بخش ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر ہونے والی تحقیق یہ کہتی ہے کہ خودکشیوں میں اضافہ کسی ایک فرد کی ناکامی نہیں، بلکہ ایک ایسے غیر انسانی، بیوروکریٹک اور کارپوریٹ نظام کی پیداوار ہے جو انسان کو سننے، محسوس کرنے اور انسان ہونے کی اجازت ہی نہیں دیتا۔ اس کے باوجود ہمارے ہاں اب بھی آسانی سے ذمہ داری استاد یا طالب علم پر ڈال دی جاتی ہے، جبکہ اصل مجرم….یعنی یہ dehumanizing نظام…..ہر بار احتساب سے بچ نکلتا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے