اسکالر ڈائریز: ٹور ڈی یورپ (قسط نمبر 4)

ریگا کی پکار: قومی لباس میں صدارتی ملاقات اور علمی سفر

سفرِ یورپ کی گزشتہ کڑی وارسا کے گرد گھومتی رہی، جہاں دوسری جنگِ عظیم کی تباہ کاریوں سے دوبارہ جی اٹھنے والے پولینڈ نے اپنی تاریخ اور جدیدیت سے ہمیں حیران کر دیا۔ سفیرِ پاکستان شفقت علی خان صاحب کی راہنمائی، سجاد بھائی کی یادگار میزبانی اور اولڈ ٹاؤن کے سحر نے اس سفر کو ایک نئی جہت عطا کی۔ وہاں ہم نے جہاں ترقی دیکھی، وہیں یورپی معاشرت میں چھپے ‘تنہائی’ کے تلخ حقائق کا مشاہدہ بھی کیا۔ اب وارسا کا یہ باب ایک حسین یاد بن کر بند ہو رہا تھا اور قسمت ہمیں لٹویا کے دارالخلافہ ‘ریگا’ کی جانب لے جا رہی تھی جہاں ایک عالمی علمی محاذ میرا منتظر تھا۔

سجاد بھائی سے رخصت لینے کے بعد ہم نے رختِ سفر باندھا لٹویا کی طرف اور اترے ریگا میں۔ ریگا میں موجود ایک پی ایچ ڈی اسکالر جن سے آذربائیجان باکو میں ملاقات ہوئی تھی، استقبال کے لیے براجمان تھے۔

انہوں نے وہاں پہلے سے میرے لیے ریگا کی نیشنل لائبریری کے پاس ہی ایک اپارٹمنٹ میں رہنے کا بندوبست کیا تھا، مزید یہ کہ حلال کھانے کے لیے بھی وہاں پر انتظام کیا ہوا تھا۔ دریائے ڈاؤگاوا کے پاس واقع لٹویا کا دارالخلافہ ریگا مجھے بہت بھایا۔ ریگا میں جو بات مجھے اچھی لگی وہ یہ کہ اس میں پرانے سوویت یونین کا اثر بھی ملتا ہے۔ سردی کی وجہ سے خاموشی بھی رہتی ہے اور اس میں نت نئی ٹرینیں اور عمارتیں بھی ہیں۔

ریگا زیادہ بڑا شہر نہ ہونے کی وجہ سے آپ کو ڈاؤن ٹاؤن اور اولڈ ٹاؤن تقریباً نزدیک ہی ملتے ہیں جہاں آپ پرانے چرچز، ہاؤس آف دی بلیک ہیڈز، سینٹ پیٹرز چرچ اور بالخصوص البرٹا ایلا جہاں یورپ کے بہترین آرٹ کلیکشنز مل جاتے ہیں، دیکھ سکتے ہیں۔ نزدیک ہی جورمالا کے پاس بالٹک سمندر بھی ہے جہاں آپ سمندر کی موجوں سے لطف اندوز ہوتے ہوئے چہل قدمی کر سکتے ہیں۔

وہاں دو پاکستانی پشتون طلبہ سے ملاقات بھی ہوئی اور انہوں نے دیکھنے کی مخصوص جگہوں کا بھی بتایا۔ لٹویا اصل میں روس کے زیرِ انتظام تھا اور سابقہ سوویت یونین کا حصہ تھا، جس طرح تاجکستان اور ازبکستان وغیرہ نے سوویت یونین سے ٹوٹنے کے بعد آزادی حاصل کی، یہی حال لٹویا کا ہے۔ البتہ شینگن میں شامل ہونے کی وجہ سے یہ ایک خاصا تبدیل شدہ مگر اب بھی روس کے اثرات سے بھرپور ملک نظر آتا ہے۔ بالٹک سمندر کے پاس واقع یہ ملک لیتھوانیا اور اسٹونیا کے پڑوس میں موجود ہے۔ آبادی زیادہ نہیں ہے اور نہ ہی پاکستانی زیادہ تعداد میں، مگر میرے لیے تو سونے سے کم ملک نہیں تھا کیونکہ اس دن اگر میں لٹویا گوگل نہ کرتا تو مجھے ریگا کانفرنس اور فیوچر اسکالر پروگرام کا پتا نہ چلتا۔

بہر حال اپارٹمنٹ میں سیٹل ہونے کے بعد اگلے دن پورے نو بجے میں نیشنل لائبریری کانفرنس کے صدر مقام پہنچا۔ پہلے سے بنا ہوا میرا کارڈ اور اس پہ فیوچر اسکالر کا ٹیگ دل کو اور طبیعت کو خوشی بخشتا ہوا محسوس ہوا۔ کارڈ پہنا اور آگے بڑھے۔ میں نے بابا کا واسکٹ، سفید شلوار قمیض اور سر پر بابا کی پٹھانوں والی پکول پہنے ہوئے تھے۔ زیادہ تر لوگ سیاست، ملٹری اور ایجوکیشن سے تعلق رکھتے ہوئے نظر آئے۔ منتظمین نے نہایت ہی زبردست مضامین کا انتخاب کیا ہوا تھا۔ بہت سارے موضوعات لٹویا، لیتھوانیا، اسٹونیا اور یورپ کے حوالے سے تھے۔ کچھ احباب روس کا تذکرہ کرتے ہوئے تھکتے نظر نہیں آ رہے تھے۔ میں بھی وقتاً فوقتاً کھڑے ہو کر پاکستان کا ذکر کرتا۔ اسٹیج پہ بیٹھے لوگ میرا سوال کے لیے کھڑا ہاتھ دیکھ کر کہتے "جی پاکستانی پکول پہنے والے اسٹوڈنٹ! پوچھیے کیا پوچھنا ہے؟” کبھی قہقہے لگتے کبھی سنجیدہ سوال پہ حیرت کا مظاہرہ کرتے۔ میرا تو ایک ہی مقصد تھا کہ لوگوں کو پتا چلے کہ پاکستان بھی ایک ملک ہے اور جب تک ہم زندہ ہیں ملک کا نام لیتے رہیں گے چاہے بات کسی بھی موضوع کی ہو۔
کانفرنس میں آئے چینی وفد سے ملاقات خوشگوار رہی، چینی جب بھی پاکستانیوں کو دیکھتے ہیں مسکراتے ہیں اور خوش ہوتے ہیں۔

میرے لیے البتہ سب سے اہم موقع کانفرنس کے دوران لٹویا کے صدر کے ساتھ اپنا تعارف اور رسمی بات چیت تھی۔ وہ مہمانِ خصوصی تھے اور ایک سیشن کے اختتام پر حاضرین سے گھل مل گئے۔ وہ لٹویا کے صدر رائمنڈز ویجونس تھے، وہ لٹویا کے نویں صدر تھے اور انہوں نے 2015 سے 2019 تک اپنی خدمات انجام دیں۔ وہ اپنی صدارت کے دوران خاص طور پر ماحولیاتی مسائل اور قومی سلامتی پر توجہ دینے کے لیے جانے جاتے تھے۔

ملاقات کے بعد ان کے ساتھ تصویر کھنچوائی اور آگے چلتے بنے۔ ان دنوں میں مجھے ریگا سمیت مزید لٹویا کے شہروں کا تفصیل سے جائزہ اور سیر کرنے کا موقع ملا۔

لٹوین اسکالر نے جس انداز میں میری مہمان نوازی کا حق ادا کیا وہ پاکستان میں بھی مثال نہیں ملتی۔ ہم جورمالا گئے جہاں ان کا گھر تھا اور ان کے آبائی قصبے میں بھی گئے۔ کیا خوبصورت علاقے تھے اور سردی کا موسم، اچانک ایسی برف باری ہوئی کہ پورے جورمالا نے سفید چادر اوڑھ لی اور ہم لطف اندوز ہوتے رہے۔ یہی نہیں مجھے تو ایک اور موقع پر اسٹونیا کے ساتھ لٹویا کے بارڈر پہ 3 دن میڈیٹیشن ریٹریٹ کا موقع ملا۔ ساتھ ہی ساتھ سیگولڈا دیکھنے کا بھی موقع ملا جہاں سرسبز جنگلات اور دریا آپ کا استقبال کرتے نظر آتے ہیں۔ سردی کے موسم میں یہ جگہیں چھوٹے چھوٹے اسکی ریزورٹس میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔

یہ سلسلہ ابھی رکا نہیں مگر وہ پیپر میں کیا لکھا تھا میں نے جس کی بنیاد پر مجھے یہ اسکالرشپ ملی؟ اور کانفرنس کی چھٹیوں والے دنوں میں ہم پراگ مشعل ریڈیو یورپ کیسے پہنچے؟ جہاں خیبر ٹی وی کے پرانے رفقاء کے ساتھ وقت گزرا۔ مزید یہ کہ واپسی پر کنیکٹنگ فلائٹ بیلجیئم میں گزارا وقت کیسا تھا اور ریگا میں مزید کیا دیکھا؟ سب اگلی نشست میں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے