کوانٹم ٹنلنگ: رکاوٹ، امکان اور انسان کی اندرونی طاقت

انسانی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ انسان ہمیشہ رکاوٹوں سے نبرد آزما رہا ہے۔ کبھی فطرت کی سختی کبھی معاشی تنگی، کبھی سماجی جبر اور کبھی اندرونی مایوسی۔ انسان نے ان سب کے سامنے کبھی ہتھیار ڈالے اور کبھی مزاحمت کی۔ سائنس بھی دراصل اسی جدوجہد کا ایک تسلسل ہے۔ جدید سائنس خصوصاً کوانٹم فزکس انسان کو نہ صرف کائنات کے راز بتاتی ہے بلکہ اسے اپنے اندر جھانکنے کا حوصلہ بھی دیتی ہے۔ کوانٹم ٹنلنگ اسی سلسلے کی ایک معنی خیز کڑی ہے۔

کلاسیکل فزکس ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ہر رکاوٹ کو عبور کرنے کے لیے متناسب طاقت درکار ہوتی ہے۔ اگر توانائی کم ہو تو آگے بڑھنا ممکن نہیں۔ یہی سوچ ہم لاشعوری طور پر اپنی زندگی پر بھی لاگو کر لیتے ہیں۔ جب حالات ہمارے بس سے باہر محسوس ہوں تو ہم یہ مان لیتے ہیں کہ اب کوشش بے فائدہ ہے۔ مگر کوانٹم فزکس اس یقین کو چیلنج کرتی ہے۔

کوانٹم ٹنلنگ کے مطابق، ایٹمی سطح پر موجود ذرّات بعض اوقات ایسی رکاوٹ کے پار بھی پہنچ جاتے ہیں جنہیں عبور کرنے کی طاقت وہ بظاہر نہیں رکھتے۔ یہ اس لیے ممکن ہوتا ہے کہ کوانٹم دنیا امکانات کی دنیا ہے۔ وہاں کوئی چیز مکمل طور پر ناممکن نہیں ہوتی، صرف اس کا امکان کم یا زیادہ ہوتا ہے۔ یہی تصور انسانی زندگی کے لیے بھی ایک گہرا پیغام رکھتا ہے۔

اگر اس نکتے کو مذہبی اور فکری تناظر میں دیکھا جائے تو حیرت انگیز مماثلتیں سامنے آتی ہیں۔ اسلام میں قرآن بار بار انسان کو یہ یاد دہانی کراتا ہے کہ “اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو”۔ یہ تعلیم دراصل اسی اصول کی ترجمان ہے کہ بند دروازے کے پیچھے بھی کوئی راستہ موجود ہو سکتا ہے اگر انسان اپنی کوشش اور یقین کو زندہ رکھے۔

عیسائیت میں امید (Hope) کو ایمان کی بنیاد کہا گیا ہے جہاں یہ یقین دیا جاتا ہے کہ مشکل کے بعد آسانی اور اندھیرے کے بعد روشنی ضرور آتی ہے۔

بدھ مت میں بھی یہی تصور مختلف انداز میں ملتا ہے جہاں دکھ کو زندگی کا حصہ مانتے ہوئے اس سے نکلنے کے راستے پر زور دیا گیا ہے۔ وہاں یہ تعلیم دی جاتی ہے کہ رکاوٹ اصل میں انسان کے ذہن میں ہوتی ہے اور جب ذہن حرکت میں آتا ہے تو راستے خود بننے لگتے ہیں۔ ہندو مت میں کرم کا فلسفہ بھی اسی بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ مسلسل عمل اور کوشش بظاہر ناممکن حالات کو بھی بدل سکتی ہے۔

یوں دیکھا جائے تو کوانٹم ٹنلنگ صرف سائنسی مظہر نہیں بلکہ ایک آفاقی فکری اصول بن کر سامنے آتی ہے۔ یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ اگر انسان مکمل طاقت نہ بھی رکھتا ہو تب بھی حرکت میں رہنا ضروری ہے۔
جیسے الیکٹران رکاوٹ کے سامنے ٹھہر کر فنا نہیں ہو جاتا بلکہ اپنی موجودگی برقرار رکھتا ہے ویسے ہی انسان کو بھی حالات کے سامنے خود کو ختم نہیں سمجھنا چاہیے۔

یہ نظریہ انسان کو مایوسی کے خلاف ایک خاموش دلیل فراہم کرتا ہے۔ جب انسان یہ سمجھ لیتا ہے کہ زندگی صرف ظاہری طاقت کا کھیل نہیں بلکہ امکانات کا سفر ہے تو اس کی سوچ میں لچک پیدا ہوتی ہے۔ وہ مسائل کو دیوار نہیں بلکہ ایک ایسے مرحلے کے طور پر دیکھنے لگتا ہے جس کے پار بھی زندگی موجود ہے۔

زندگی میں رکاوٹوں کا مقابلہ صرف علمی یا جسمانی کوشش سے نہیں ہوتا بلکہ روحانی اور عبادتی پہلو بھی انسان کو حوصلہ دیتے ہیں۔ نماز، سجده، مراقبہ یا یوگا کے ذریعے انسان اپنے اندر ایک خاموش توانائی پیدا کرتا ہے جو مایوسی کو کم کرتی ہے اور مشکلات کے سامنے صبر پیدا کرتی ہے۔ جیسے کوانٹم ٹنلنگ میں ذرّات محدود توانائی کے باوجود رکاوٹ پار کر جاتے ہیں ویسے ہی انسان جب اپنے دل و دماغ کو عبادت یا مراقبے کے ذریعے مضبوط کرتا ہے تو وہ ناممکن لگنے والے حالات کو بھی عبور کر سکتا ہے۔ یہ ایک ایسا امتزاج ہے جہاں سائنس اور روحانیت انسان کو نہ صرف عقل بلکہ دل کی قوت بھی فراہم کرتے ہیں

سائنس اور مذہب دونوں اگرچہ اپنے اظہار میں مختلف ہیں مگر اس مقام پر ایک دوسرے کے قریب دکھائی دیتے ہیں۔ دونوں انسان کو یہ سبق دیتے ہیں کہ ناامیدی دراصل لاعلمی کی پیداوار ہے۔ کوانٹم ٹنلنگ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ کائنات کا نظام اتنا سخت نہیں جتنا ہم سمجھتے ہیں اور مذہب ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ انسان اکیلا نہیں۔

آج کے دور میں جہاں ذہنی دباؤ، بے یقینی اور مایوسی تیزی سے پھیل رہی ہے ایسے سائنسی تصورات انسان کے لیے فکری سہارا بن سکتے ہیں۔ یہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ اگر حالات ہمارے حق میں نہ بھی ہوں تب بھی کوشش ترک کرنا دانش مندی نہیں۔ شاید کامیابی فوراً نظر نہ آئے مگر امکان ہمیشہ زندہ رہتا ہے کہ رکاوٹ حتمی نہیں کمزوری دائمی نہیں اور مایوسی کبھی آخری فیصلہ نہیں ہوتی۔ جب تک انسان حرکت میں ہے، تب تک امکان زندہ ہے اور یہی وہ نکتہ ہے جہاں سائنس، مذہب اور انسان ایک دوسرے سے ہم کلام ہو جاتے ہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے