پاکستان میں آج ایک ایسی نسل جوان ہو رہی ہے جسے ہم سہولت کے لیے جنریشن زی کہتے ہیں۔ یہ وہ نسل ہے جو انٹرنیٹ، موبائل فون، سوشل میڈیا اور عالمی بیانیوں کے درمیان پلی بڑھی ہے۔ یہ نسل نہ صرف اپنے والدین سے بلکہ اس سے پہلے کی دو نسلوں سے بھی مختلف سوچتی، محسوس کرتی اور ردِعمل دیتی ہے۔ مسئلہ صرف یہ نہیں کہ جن زی مختلف ہے، اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم اس فرق کو سمجھنے کے بجائے اس سے لڑ رہے ہیں۔میں جرنلزم کے ساتھ ساتھ اسلام آباد کی ایک معروف یونیورسٹی میں تدریسی سرگرمیوں سے بھی منسلک ہوں . مجھے ان سے بات کرنے کا اور ان کے سوچنے کے انداز کا جائزہ لینے کا بھرپور موقع ملتا ہے.
جن زی کے شکوے معمولی نہیں۔ ان کا سب سے بڑا شکوہ یہ ہے کہ انہیں سنا نہیں جاتا۔ گھروں میں انہیں نافرمان کہا جاتا ہے، تعلیمی اداروں میں نالائق اور دفاتر میں غیر سنجیدہ۔ ان کے نزدیک والدین اور اساتذہ کی اکثریت ایک ایسے زمانے کے اصول ان پر لاگو کرنا چاہتی ہے جو اب بدل چکا ہے۔ وہ سوال کرتے ہیں کہ جب دنیا بدل گئی ہے تو سوچ کیوں نہیں بدلتی۔
تعلیم جن زی کا پہلا بڑا مسئلہ ہے۔ ہمارے تعلیمی ادارے اب بھی رٹہ، نمبر، ڈگری اور ملازمت کے گرد گھومتے ہیں، جبکہ جن زی اس سوال سے شروع کرتی ہے کہ میں یہ کیوں پڑھوں۔ وہ ہنر، تخلیق، اظہار اور مقصد تلاش کرتی ہے، مگر نظام اسے فائل نمبر اور رول نمبر تک محدود کر دیتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نوجوان یا تو بے دل ہو جاتے ہیں یا باغی۔
روزگار دوسرا بڑا بحران ہے۔ جن زی ایک ایسی معیشت میں جوان ہو رہی ہے جہاں ڈگری نوکری کی ضمانت نہیں، سفارش قابلیت پر غالب ہے اور محنت کا صلہ اکثر مایوسی کی صورت میں ملتا ہے۔ وہ دیکھتی ہے کہ والدین نے ساری عمر کام کیا مگر ریٹائرمنٹ کے بعد بھی مسائل ختم نہیں ہوئے۔ اس لیے وہ روایتی کیریئر سے خوفزدہ اور متبادل راستوں کی تلاش میں ہے، چاہے وہ فری لانسنگ ہو، یوٹیوب ہو یا ملک سے باہر جانے کا خواب۔ انہیں یہاں انٹرنیٹ کی بندشوں ، لوڈ شیڈنگ اور آزادی اظہار جیسے اہم مسائل کا سامنا ہے .
جن زی پر اکثر الزام دیا جاتا ہے کہ ان کا مبلغ علم سوشل میڈیا ہے ، یہ بات کسی حد تک درست ہے مگر یہ تصویر کا صرف ایک رخ ہے۔ سوشل میڈیا نے جن زی کو آواز دی ہے۔ وہ بول رہی ہے، سوال کر رہی ہے، اپنی شناخت خود بنا رہی ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ وہ بولتی ہے، مسئلہ یہ ہے کہ ہم سننے کے عادی نہیں۔ والدین جس خاموش اطاعت کو ادب سمجھتے تھے، جن زی اسے گھٹن کہتی ہے۔
رویہ جاتی سطح پر بھی جن زی حساس ہے۔ ذہنی دباؤ، انزائٹی اور ڈپریشن اس نسل کے عام مسائل ہیں، مگر ہمارے معاشرے میں ذہنی صحت اب بھی کمزوری سمجھی جاتی ہے۔ نوجوان جب اپنی تکلیف بیان کرتا ہے تو اسے نصیحت، موازنہ یا طعنہ ملتا ہے۔ نتیجتاً وہ خاموش ہو جاتا ہے یا مزید بکھر جاتا ہے۔ حالیہ دنوں میں چھوٹی چھوٹی باتوں پر خود کشیوں کے واقعات پر کڑھنے یا غصہ ہونے کے بجائے ان کا گہرائی کے ساتھ تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے .
دوسری طرف یہ ماننا بھی ضروری ہے کہ جن زی میں برداشت کم ہے۔ فوری تسکین، جلد نتائج اور کم صبر اس نسل کی کمزوریاں ہیں۔ اختلافِ رائے برداشت نہ کرنا، ہر تنقید کو ذاتی حملہ سمجھنا اور مایوسی میں جلدی ہار مان لینا ایسے رویے ہیں جن پر خود جن زی کو بھی غور کرنا ہوگا۔ ہر مسئلے کی ذمہ داری صرف پچھلی نسل پر ڈال دینا بھی انصاف نہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ نسلی خلیج کم کیسے کی جائے؟
سب سے پہلا قدم مکالمہ ہے، وعظ نہیں۔ والدین کو چاہیے کہ وہ جن زی سے بات کریں، لیکچر نہ دیں۔ سوال پوچھیں، فیصلے مسلط نہ کریں۔ اگر بچہ اختلاف کرے تو اسے بغاوت نہ سمجھیں بلکہ اعتماد کی علامت سمجھیں۔
دوسرا قدم تعلیمی اصلاح ہے۔ ہمیں تعلیم کو نوکری کی فیکٹری کے بجائے انسان سازی کا ذریعہ بنانا ہوگا۔ تنقیدی سوچ، اخلاقی تربیت، اور ہنر کو نصاب کا حصہ بنانا ہوگا تاکہ نوجوان صرف کمانے کے قابل نہیں بلکہ جینے کے قابل بھی ہو۔
تیسرا قدم حکومت کا کردار ہے۔ نوجوانوں کے لیے روزگار، انٹرن شپ، ذہنی صحت کی سہولتیں اور محفوظ اظہار کے پلیٹ فارم فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ نوجوان اگر سڑکوں یا سوشل میڈیا پر غصہ نکالتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ادارے خاموش ہیں۔
چوتھا اور سب سے اہم قدم یہ ہے کہ جن زی کو ذمہ داری دی جائے۔ اعتماد دیا جائے۔ انہیں فیصلوں میں شامل کیا جائے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ نوجوان نسل کو دیوار سے لگانے کے نتائج ہمیشہ خطرناک نکلے ہیں۔
مستقبل کے پاکستان کا انحصار جن زی پر ہے۔ یہ نسل اگر ٹوٹ گئی تو ملک کمزور ہوگا، اور اگر سنبھل گئی تو ملک سنبھل جائے گا۔ سوال یہ نہیں کہ جن زی کیسی ہے، سوال یہ ہے کہ ہم اس کے ساتھ کیسا برتاؤ کر رہے ہیں۔
نسلوں کے درمیان فاصلہ قدرتی ہے، مگر نفرت ضروری نہیں۔ اگر ہم نے سننا سیکھ لیا، اور جن زی نے سمجھنا سیکھ لیا، تو یہی فاصلہ ایک مضبوط پل میں بدل سکتا ہے.
بشکریہ ایچ ٹی این