نیا سال ، نئے ادبی زاویے

2026 کا آغاز شہر اقتدار میں تواتر سے ہونے والی ادبی تقاریب کے ساتھ ہوا۔ اس سلسلے کی سب سے پہلی تقریب 2 جنوری کو ادبی تنظیم "دیار اردو” نے فیصل آباد سے آئے پروفیسر ڈاکٹر طارق ہاشمی کے اعزاز میں منعقد کی۔ یہ تقریب فضائیہ کلب اسلام آباد کے خوبصورت ہال میں سجائی گئی۔ پروفیسر ڈاکٹر طارق ہاشمی کا تعلق ڈیرہ اسماعیل خان سے ہے تاہم وہ ایک طویل عرصے سے درس وتدریس کے سلسلے سے جی سی یونیورسٹی سے منسلک ہیں۔اس محفل شعر و سخن کے منتظم اور میزبان "دیار اردو” کے روح رواں معروف شاعر محمد منیر قاسم تھے۔اس محفل شعر کی صدارت معروف شاعر انجم سلیمی نے کی۔مشاعرے کے بعد پُرتکلف عشائیے کا بھی اہتمام کیا گیا جس نے فضائیہ کلب کے پر سکون ماحول کو گرمائے رکھا۔

یہ محفل دو حصوں پر مشتمل تھی۔ پہلا حصہ ڈاکٹر طارق ہاشمی کے فن و شخصیت پر گفتگو کے متعلق تھا جس پر ڈاکٹر شیر علی نے پرمغز گفتگو کی جب کہ دوسرا حصہ مشاعرے کے لیے مختص تھا۔ اس مشاعرے میں محمد منیر قاسم ، حمزہ نصیر ، ڈاکٹر فیصل شہزاد، راشدہ ماہین، عمران عامی، خالد مصطفیٰ ، افضل خان اور رحمان حفیظ نے شرکت کی۔ مشاعرے کی نظامت محبوب ظفر کے ذمے تھی جس کو انھوں نے احسن طریقے سے نبھایا۔

دوسری تقریب ایک منقبتی مشاعرہ تھا جس کا اہتمام 2 جنوری کو "کاروان حوا” کے اسلام آباد چیپٹر نے اکادمی ادبیات پاکستان اسلام آباد میں ولادت حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے موقع پر کیا ۔ واضح رہے کہ "کاروان حوا” پشاور کی ایک ادبی تنظیم ہے جس کی بانی چیئرپرسن معروف شاعرہ بشری فرخ ہیں۔

اس محفل منقبت کی صدارت پروفیسر جلیل عالی نے فرمائی۔ مہمانان خصوصی جناب منظر نقوی اور محترمہ بشریٰ فرخ جب کہ مہمانان اعزاز جناب اختر عثمان اور محترمہ عابدہ تقی تھے۔

نظامت کے فرائض عماد قاصر نے انجام دیے۔تقریب کے آغاز میں تابندہ فرخ نے جناب اختر عثمان کی لکھی ہوئی ایک منقبت پیش کی۔ جن شعرائے کرام نے مناقب ہیش کیں ان میں وفا چشتی، علی کمیل قزلباش، خرم خلیق، خالد مصطفیٰ، شمشاد نازلی، شہاب صفدر، شاہد زمان، علی عارف نقوی، نیئر سرحدی، جنید آذر، مظہر عباس رضوی، مظہر اقبال، شمشیر حیدر ، فرح رضوی، نرگس جہانزیب، منیر فیاض، شاہد اقبال، شمسہ نورین، عابدہ تقی، بشریٰ فرخ اور جلیل عالی شامل تھے۔

"کاروانِ حو٘ا” لٹریری فورم خیبر پختونخوا کی بانی چیر پرسن بشریٰ فرخ نے "کاروانِ حو٘ا” کی دس سالہ کارکردگی پر روشنی ڈالی اور اس تنظیم کی شاخ اسلام آباد میں قائم ہونے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "کاروانِ حو٘ا” کا پہلا پروگرام مولائے کائنات مولا علی علیہ السلام کے حوالے سے منعقد ہو رہا ہے اور یہ ایک خوش آئند بات ہے .

محترمہ سلمی قاصر صدر "کاروان حوا” لٹریری فورم(اسلام آباد چیپٹر) نے فورم کی اولین تقریب کے شاندار انعقاد پر تمام حاضرین اور اکادمی ادبیات پاکستان اسلام آباد کا شکریہ ادا کیا۔ اس کے بعد کیک کاٹا گیا اور "کاروانِ حوا” لٹریری فورم کی طرف سے صدر محفل اور سینئر شعراء کو میڈل پیش کیے گئے۔ صدر محفل جناب جلیل عالی نے اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے بشریٰ فرخ سلمی قاصر اور ان کی ٹیم کو مبارکباد دی اور ان کی کارکردگی کو سراہا ۔محفل منقبت میں باذوق حاضرین بھی اچھی تعداد میں شامل ہوئے اور الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے نمائندے بھی اس پروقار تقریب کی کوریج کے لیے موجود رہے۔

تیسری تقریب فرزند علی ہاشمی کی کتاب "اَبَد آباد” کی تقریبِ تقسیم و پذیرائی کا انعقاد تھا جسے ادبی تنظیم "دبستانِ پوٹھوہار” اور ادارۂ فروغِ قومی زبان کے تعاون سے منعقد کیا گیا۔ نوجوان شاعر، ادیب اور محقق جناب فرزند علی ہاشمی کے متصوفانہ کالموں کی کتاب اَبَد آباد کی تقریبِ تقسیم و پذیرائی کا انعقاد کو حضرتِ علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے جشنِ ولادتِ باسعادت سے منسوب کیا گیا۔ تقریب کی صدارت معروف شاعر و دانشور ڈاکٹر مقصود جعفری نے کی۔ معروف ادیب اور نقاد جناب محمد حمید شاہد اور فکشن نگار و ادیب ڈاکٹر حمیرا اشفاق مہمانِ خصوصی کے طور پر شریک ہوئے جب کہ ڈاکٹر فرحت عباس تقریب کے مہمان اعزاز تھے۔ بزرگ شاعر جناب نسیمِ سحر، ڈاکٹر مہناز انجم، جناب حمید عارف کیانی اور سید جمال زیدی نے کتاب کے حوالے سے اظہارِ خیال کیا۔ حلقۂ اربابِ ذوق اسلام آباد کے سیکرٹری، معتبر ادیب جناب منیر فیاض نے نظامت کے فرائض سر انجام دیے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر مقصود جعفری نے کہا کہ فرزند علی ہاشمی عمدہ تخلیق کار ہیں، جن کے ہاں صحافت، ادب اور تصوف کا گہرا امتزاج ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صحافتی صنف میں طبع آزمائی کے باوجود ان کا ہر ایک کالم ایک ادبی فن پارے کے طور پر قاری سے مکالمہ کرتے ہوئے نظر آتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ حضرت علی کرم اللہ وجہ الکریم اور اہل بیت اطہار علیہم السلام کی محبت و مودّت فرزندعلی ہاشمی کا سرمایہ ہے اور اس نسبت سے تحریر کیے گئے کالم ایک الگ کشش اور وجد کے حامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کہ فرزند علی ہاشمی کے متصوفانہ کالم پڑھ کر دل کا آئینہ شفاف تر ہو جاتا ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ مصنف کے صحافتی، روحانی، مذہبی، سماجی اور علمی کالم ادبی چاشنی کی عمدہ مثال ہیں۔ ڈاکٹر مقصود جعفری نے فرزند علی ہاشمی کو ایک باتوفیق کام کی تکمیل اور کتاب کی اشاعت پر دلی مبارک باد پیش کی۔

تقریب کے مہمانِ خصوصی جناب محمد حمید شاہد نے کتاب سے متعلق کہا کہ یہ محض چند کالموں کا تاثراتی تحریریوں کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مسلسل روحانی سفر کی روداد ہے، جس میں عشق، عرفان اور تسلیم کی لہریں ایک ساتھ جلوہ گر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اَبد آباد دراصل ظاہر سے باطن، خبر سے نظر اور عقل سے عشق کی جانب ایک مسلسل اور ارتقائی سفر ہے، جہاں تحریر عبادت کا درجہ پاتی ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ فرزند علی ہاشمی کی نثر میں ایک درویشانہ وقار اور ایک اندرونی سوز ہے، جو قاری کو محض پڑھنے والا نہیں رہنے دیتا بلکہ شریکِ حال بنا دیتا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ فرزند علی ہاشمی کی نثر میں فارسی اور اردو کی کلاسیکی روح کی بازگشت سنائی دیتی ہے مگر بیان میں ایک تازگی اور تجربے کی صداقت جھلکتی ہے۔ یہی امتزاج اس کتاب کو اس دور کے فکری اور روحانی ادب میں ممتاز بناتا ہے۔

تقریب کی مہمانِ خصوصی ڈاکٹر حمیرا اشفاق نے فرزند علی ہاشمی کی کتاب کا تجزیہ کرتے ہوئے اسے تصوف کے ساتھ ساتھ ادبی شاہکار بھی قرار دیا، جس میں کلاسیکی نثر کے نمونے بھی بدرجہ اتم موجود ہیں۔ انھوں نے کہا کہ فرزند علی ہاشمی کے کالم ایک جہانِ کیفیت ہیں، جس میں حاضری و حضوری کا سفر ایک جست میں طے ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ انھوں نے کتاب سے منتخب اقتباسات پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس کتاب میں لفظوں کا دروبست اور جملوں کی بنت و دیگر نثری محاسن فرزند علی ہاشمی کا تعارف ایک برتر ادیب کے طور پر کراتے ہیں۔ انھوں نے کتاب میں شامل مختلف ادبی و متصوفانہ اصطلاحات کی تفہیم کرتے ہوئے مصنف کی ادبی جہات کو سراہا۔

تقریب میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے ڈاکٹر مہناز انجم نے کہا کہ کتاب کیفیت، نیت، تلاش اور رضا کے باہمی امتزاج سے جنم لینے والی تحریروں کا ایسا مرقع ہے، جس میں باطن کی آنکھ بولتی ہے اور دل قلم تھام لیتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اَبَد آباد میں ذکرِ مصطفٰی، ذکرِ مرتضیٰ اور ذکرِ حسین ایک باطنی تسلسل میں جڑے ہوئے نظر آتے ہیں۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ فرزند علی ہاشمی کی نثر میں ایک خاص وصف سپردگی ہے، جہاں دعوی نہیں دعا ہے، اعلان نہیں التجا ہے۔ ان کے نزدیک اسلوب کے اعتبار سے یہ کتاب جدید صحافتی نثر اور کلاسیکی صوفیانہ بیان کے درمیان ایک خوبصورت پل قائم کرتی ہے۔ ان کی زبان میں خطابت نہیں تاثیر ہے، عبارت میں تصنع نہیں ،صداقت ہے۔ اسی طرح دیگر مقررین نے بھی فرزند علی ہاشمی کی کتاب "اَبَد آباد” کو جہانِ تصوف و ادب میں ایک اہم دستاویز قرار دیا۔ اس موقع پر جہانِ موسیقی کے شناور جناب اقدس ہاشمی نے صاحبِ شام فرزند علی ہاشمی کے متصوفانہ کلام کو سوز و ساز کے ساتھ پیش کرتے ہوئے تقریب کو محفل میں بدل دیا۔تقریب کے آخر میں حضرت علی کرم اللہ وجہ الکریم کے یومِ ولادت کی نسبت سے کیک بھی کاٹا گیا۔

راولپنڈی اسلام آباد میں ہونے والی چوتھی تقریب نعتیہ مشاعرہ تھا جس کا انعقاد 3 جنوری کو "ادب سماج انسانیت” فورم پاکستان کی جانب سے ڈاکٹر عبد الرزاق سحر کی رہائش گاہ واقع ویسٹریج تھری راولپنڈی میں کیا گیا۔ اس تقریب کی صدارت بزرگ شاعر جناب نسیم سحر نے کی۔ مہمان خصوصی خالد مصطفیٰ اور ظفر اقبال انجم تھے۔معروف نعت خواں جناب جمیل جمیل نے اس محفل میں خصوصی شرکت کی اور اپنی خوبصورت آواز میں نعتیہ کلام سنا کر حاضرین سے داد وصول کی۔مشاعرے کے بعد ظہرانے کا بھی اہتمام کیا گیا تھا ۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے