یہ کالم دو دن قبل لکھ چکا ہوتا، لیکن اس موضوع پر قلم اٹھانے سے پہلے بارہا سوچنا پڑا کہ کہیں کوئی لفظ یا جملہ جین زی کے انوکھے ورژن کو برا نہ لگے، اور اس کے نتیجے میں ٹرولنگ کو ناجائز لکھنا الٹا نہ پڑ جائے۔ آخرکار میں نے یہ سوچ کر لکھنا ضروری سمجھا کہ اگر جین زی کا یہ انوکھا ورژن برائی (جیسے گالم گلوچ، اشتعال انگیزی، طعنہ زنی، الزام تراشی، کردار کشی) ترک کرنے پر آمادہ نہیں، تو ہم کیوں نار نمرود پر چونچ میں ایک قطرہ پانی لا کر پھینک کر بجانے کی کوشش سے باز رہیں؟
دو دن قبل مانسہرہ سے پاکستان تحریک انصاف کے دو کارکنان کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی نے گرفتار کیا۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے سوشل میڈیا پر اشتعال انگیزی، الزام تراشی، گالم گلوچ اور خاتون ایم پی اے سیدہ سونیا شاہ کی تحقیر کی ہے۔ ان کے ساتھ ملوث تحریک انصاف کے دیگر کارکنان تاحال روپوش ہیں، جن کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
معاملہ کچھ یوں ہے کہ سیدہ سونیا شاہ (ایم پی اے) نے خیبر پختونخواہ اسمبلی میں اپنی تقریر کے دوران کہا:
"مرنا ہی ہے تو اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کے لیے مرو، عمران خان کے لیے مر کر کیا ملے گا؟”
یہ جملہ انہوں نے نو منتخب وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے حوالے سے کہا، کیونکہ انہی دنوں سہیل آفریدی نے ایک جلسے میں کہا تھا:
"ہم خان کے لیے مر جائیں گے۔”
خاتون ایم پی اے کا یہ جملہ فوری طور پر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا، اور پھر وہ سب کچھ ہوا جس کی توقع کسی تربیت یافتہ سیاسی کارکن سے نہیں کی جا سکتی۔
مخصوص نشست کو خیراتی سیٹ کہہ کر آئین و قانون کی دھجیاں اڑائی گئیں، خاتون ایم پی اے کی ذاتی زندگی کے حساس پہلوؤں کو عوامی سطح پر زیر بحث لایا گیا، ان کے خاوند مرحوم سید شبیر حسین شاہ کے قتل کا مذاق اڑایا گیا، اور ان پر نازیبا الزامات لگائے گئے۔ فون کالز اور وٹس ایپ کے ذریعے بھی گالیاں اور دھمکیاں دی گئیں۔
اس دوران تحریک انصاف کے بعض کارکن خاموش تماشائی بنے رہے، تالیاں بجاتے رہے، خوش ہوتے رہے، اور طعنہ دیتے رہے۔ لیکن جیسے ہی قانونی کارروائی شروع ہوئی، وہی افراد امن و امان، بھائی چارے، صبر و تحمل اور برداشت کے بھاشن دینے لگے۔
کچھ تو یہ بھی کہتے ہیں کہ سیاسی ٹرولنگ کے بدلے میں اداروں کو استعمال کرنا قابل مذمت ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے: اگر سیاسی ٹرولنگ جائز ہے تو پھر ’’ عمران خان پر تنقید برداشت نہیں کریں گے ‘‘ اس حیرت انگیز موقف کی ویلیو کیا رہ جاتی ہے؟
ٹرولنگ کیا ہے؟
یہ وہ عمل ہے جس میں کسی کی شخصیت، کردار یا ذاتی زندگی پر حملہ کیا جائے، نفرت انگیز زبان استعمال کی جائے، طعنہ زنی کی جائے اور الزام تراشی کی جائے۔ ہر باشعور فرد یہ بات جانتا ہے، سوائے ان بددماغ کارکنوں کے جو تنقید برداشت نہیں کر سکتے، مگر دوسروں کی زندگی اجیرن بنا دینا اور تحقیر کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں۔
یہ واقعہ صرف سوشل میڈیا یا سیاسی ٹرولنگ کا نہیں، بلکہ وسیع تر معاشرتی مسئلہ بھی ہے: ہماری سیاسی ثقافت میں دوہرا معیار۔ اپنے لیڈر یا پارٹی پر تنقید برداشت نہیں کی جاتی، لیکن دوسروں کی عزت مجروح کرنا جائز سمجھا جاتا ہے۔ اگر یہی اصول جاری رہیں تو کوئی بھی عزت دار انسان ملک و قوم کی خدمت کے لیے سیاسی شاہراہ پر قدم رکھنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرے گا۔
یہ رویہ نہ صرف فرد کی ذاتی آزادی پر حملہ ہے بلکہ جمہوری اقدار کے لیے خطرہ بھی ہے۔
ٹرولنگ اور ذاتی حملے سیاست میں شفافیت اور تنقید کی صحت مند روایت کو ختم کر دیتے ہیں۔
ایک سماج میں جہاں اختلاف رائے کا احترام نہ ہو، وہاں عقل مند اور تعلیم یافتہ لوگ سیاسی میدان سے دور ہو جائیں گے، اور صرف انتہا پسند یا جذباتی عناصر رہ جائیں گے۔
اگر ہم اپنی سیاسی اور سماجی تربیت میں اخلاقیات، برداشت اور اختلاف رائے کا احترام نہ اپنائیں، تو پھر یہ صرف فرد کی بدنامی کا مسئلہ نہیں رہتا، بلکہ پورے نظام اور قوم کی ترقی پر اثر ڈالنے والا زہر بن جائے گا۔ اگر اختلاف رائے اور اخلاقیات کی قدر نہ کی گئی، تو نہ صرف افراد کی عزت مجروح ہوگی بلکہ جمہوریت اور قوم کی ترقی بھی متاثر ہوگی۔