مسئلہ موبائل نہیں سمت کا ہے

یہ منظر کوئی نیا نہیں
یہ تقریباً ہر محلے ہر گھر اور ہر اس کمرے میں دہرایا جاتا ہے جہاں چند لڑکے بیٹھے ہوں، ہاتھوں میں موبائل ہو اور وقت آہستہ آہستہ سرک رہا ہو۔ سال بدلتے رہتے ہیں کیلنڈر کے ہندسے آگے پیچھے ہوتے رہتے ہیں، مگر یہ منظر وہیں کا وہیں رہتا ہے۔ 2025 گزر گیا 2026 بھی گزر جائے گا اور ممکن ہے کسی کو احساس بھی نہ ہو کہ وقت ہاتھ سے کب پھسل گیا۔

عموماً ایسے ہی کسی لمحے میں کچن سے آواز آتی ہے، ذرا اونچی، ذرا تھکی ہوئی، اور پوری یقین دہانی کے ساتھ
یہ موبائل رکھ دو، اسی نے بچوں کو کہیں کا نہیں چھوڑا۔

لڑکوں کے گروہ میں ایک لمحے کو خاموشی چھا جاتی ہے۔ کسی کی انگلی اسکرین پر رک جاتی ہے کسی کی نظر جھک جاتی ہے، اور کوئی ہلکی سی مسکراہٹ دبا لیتا ہے بات نئی نہیں ہوتی، اس لیے حیرت بھی نہیں ہوتی یہ جملہ نسل در نسل منتقل ہوتا آیا ہے جیسے کوئی خاندانی ورثہ ہو۔

اکثر تھوڑی دیر بعد ایک اور آواز شامل ہو جاتی ہے، ذرا سنجیدہ، ذرا باوقار
پہلے میٹرک، پھر یہ سب شوق
یوں لگتا ہے جیسے میٹرک کوئی دروازہ ہے، جس کے اُس پار پہنچتے ہی زندگی کے سارے راز خودبخود کھل جاتے ہیں لڑکے ایک دوسرے کی طرف دیکھتے ہیں۔ کوئی دل ہی دل میں ہنستا ہے، کوئی خاموش رہتا ہے، اور کوئی سوچتا ہے کہ کاش عقل واقعی کسی امتحان کے ساتھ ملتی۔

یہی وہ مقام ہے جہاں کہانی اصل میں شروع ہوتی ہے، مگر کسی کو خبر نہیں ہوتی
کیونکہ ہم نے برسوں سے ایک ہی سبق پڑھایا ہے نمبر گریڈ، پوزیشن جیسے زندگی ایک سیدھی لکیر ہو، اور جو اس لکیر سے ذرا سا بھی ہٹ جائے، وہ گم ہو جاتا ہے اسکولوں میں تختیاں بدلتی رہیں، نصاب نئے آئے، مگر سوچ وہی رہی۔ جو آگے ہے وہ کامیاب جو پیچھے ہے، وہ ناکام

وقت کے ساتھ عجیب منظر سامنے آنے لگے وہ بچے جن کے رزلٹ پر پورا محلہ جمع ہوتا تھا، جن کے لیے تصویریں کھنچتی تھیں اور دعائیں دی جاتی تھیں وہ بڑے ہو کر فائلیں بغل میں دبائے قطاروں میں کھڑے نظر آنے لگے اور وہی لڑکے، جنہیں کبھی نالائق کہہ کر خاموش کرا دیا جاتا تھا آہستہ آہستہ کہیں اور مصروف ہو گئے۔ کسی کے موبائل پر غیر ملکی نمبرز آنے لگے کسی کے اکاؤنٹ میں وہ رقم آنے لگی جس کا نام پہلے صرف خبروں میں سنا تھا
تب بھی مسئلہ موبائل ہی ٹھہرا

کہا گیا کہ موبائل بچوں کو بگاڑ دیتا ہے۔
کسی نے یہ نہیں پوچھا کہ اگر موبائل ہی بگاڑنے کی جڑ ہے تو پھر یہی موبائل کسی کے لیے روزگار کیسے بن جاتا ہے؟
اصل سوال یہ تھا کہ فرق کہاں سے آیا مگر اس سوال سے اکثر لوگ نظریں چرا لیتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ موبائل نہ اچھا ہے نہ برا یہ تو بس ایک آئینہ ہے۔ جو اس کے سامنے بیٹھتا ہے، وہ اپنی ترجیح دیکھتا ہے اگر سمت نہ دی جائے اگر بات نہ کی جائے، اگر سمجھایا نہ جائے تو پھر ہر چیز نقصان دہ لگنے لگتی ہے۔ اور اگر رہنمائی ہو، تو وہی چیز راستہ بن جاتی ہے

مزید دلچسپ بات یہ ہے کہ اصول بھی سب کے لیے ایک جیسے نہیں ہوتے۔ کہیں کہا جاتا ہے کہ فلاں ایپ خراب ہے کہیں کوئی اور ایپ قابلِ اعتراض ٹھہرتی ہے منطق اکثر موقع کے حساب سے بدل جاتی ہے نتیجہ اگر پسند آ جائے تو طریقہ درست، اور اگر نتیجہ پسند نہ آئے تو سارا الزام ٹیکنالوجی کے سر۔
لڑکوں کے انہی گروہوں میں یہ بات بھی اکثر دہرائی جاتی ہے کہ لوگ کیا کہیں گے؟
لوگوں کا یہ کردار عجیب ہے۔ وہ آج نصیحت دیتے ہیں، کل تنقید کرتے ہیں، اور پرسوں اسی نوجوان سے پوچھتے ہیں کہ کوئی آن لائن کام ہو تو بتانا۔ وقت کے ساتھ ان کے جملے بدل جاتے ہیں مگر یادداشت کمزور رہتی ہے۔

حالانکہ سچ تو یہ ہے کہ یہی موبائل، جسے محض ایک کھلونا سمجھا جاتا ہے، ایک پوری دنیا سمیٹے ہوئے ہے۔ کہیں کوئی بغیر چہرہ دکھائے مواد بنا رہا ہے کہیں کوئی سسٹمز اور ایپس ترتیب دے رہا ہے کہیں کوئی ویب پر کاروبار کھڑا کر رہا ہے اور کہیں کوئی آنے والے وقت کی زبان، یعنی نئی ٹیکنالوجیز، سیکھ رہا ہے مسئلہ سہولت کا نہیں مسئلہ اعتماد کا ہے۔

جب بچوں سے صرف چیزیں چھینی جائیں اور راستہ نہ دکھایا جائے، تو خلا پیدا ہوتا ہ اور خلا کبھی خالی نہیں رہتا اسے کوئی نہ کوئی چیز بھر ہی دیتی ہے۔ اس لیے اصل کام ڈیوائس چھیننا نہیں سمت دینا ہے سوال روکنا نہیں، جواب دینا ہے۔ ڈرانا نہیں سمجھانا ہے۔

آخرکار بات وہیں آ کر ٹھہرتی ہے جہاں سے اکثر لوگ نظریں چرا لیتے ہیں
وقت رکنے والا نہیں سال کسی کا انتظار نہیں کرتے، اور دنیا اپنی رفتار سے آگے بڑھتی رہتی ہےایسے میں سب سے بڑا نقصان یہ نہیں کہ بچے کے ہاتھ میں موبائل ہے، بلکہ یہ ہے کہ اُس ہاتھ میں سمت نہیں۔

اگر ٹیکنالوجی کو دشمن سمجھ کر دور رکھا جائے تو یہ خلا بناتی ہے اور اگر سمجھداری سے تھما دی جائے تو یہی ٹیکنالوجی راستہ بن جاتی ہے۔ اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ گھروں میں موبائل پر پابندی نہیں مقصد پر بات ہو یہ پوچھا جائے کہ وقت کہاں صرف ہو رہا ہے، کیوں ہو رہا ہے اور اس سے کیا حاصل ہو رہا ہے

آج سیکھنے کے لیے دروازے بند نہیں دیواریں بھی نہیں رہیں ایک عام سا موبائل تھوڑا سا انٹرنیٹ اور سیکھنے کی نیت یہ تین چیزیں مل جائیں تو آغاز ہو جاتا ہے۔ ابتدا میں کسی بڑے خواب کی ضرورت نہیں۔ بس یہ طے کر لینا کافی ہے کہ خالی اسکرولنگ نہیں کرنی، کچھ نہ کچھ سیکھنا ہے۔ کوئی زبان، کوئی ہنر، کوئی سادہ سا آن لائن کام، جو آہستہ آہستہ سمجھ میں آتا جائے

سیکھنے کا پہلا اصول یہ ہے کہ سب کچھ ایک ساتھ نہیں سیکھا جاتا ایک راستہ چنا جاتا ہےاسی پر قدم رکھا جاتا ہے، اور کچھ عرصہ اسی پر جمے رہنے کا حوصلہ کیا جاتا ہے۔ ابتدا میں سمجھ کم آتی ہے غلطیاں ہوتی ہیں، دل بھی اُکتا جاتا ہے، مگر یہی وہ مرحلہ ہوتا ہے جہاں اکثر لوگ ہار مان لیتے ہیں جو یہاں ٹھہر جاتا ہے، وہی آگے نکلتا ہے۔

گھروں میں اگر سوال یہ بدل جائے کہ موبائل کیوں پکڑا ہوا ہے؟
اور اس کی جگہ یہ سوال آ جائے کہ کیا سیکھا جا رہا ہے؟
تو آدھی لڑائی وہیں ختم ہو جاتی ہے

نہ ہر بچہ ایک جیسا ہوتا ہے، نہ ہر راستہ سب کے لیے ایک ہوتا ہے کسی کا ذہن لکھنے میں لگتا ہے، کسی کا ڈیزائن میں، کسی کا سسٹمز میں کسی کا تجزیے میں۔ کام یہ نہیں کہ سب کو ایک ہی سانچے میں ڈھالا جائے، کام یہ ہے کہ جس کا رجحان جہاں ہو، وہاں اس کا ہاتھ تھام لیا جائے

آخر میں بات بہت سادہ ہے، مگر اثر بہت گہرا رکھتی ہے
ٹیکنالوجی سے ڈرنے کا وقت گزر چکا ہے
اب وقت اس کو سمجھنے، سیکھنے اور استعمال کرنے کا ہے۔
جو نسل یہ فرق سمجھ لے گی، وہ صرف زمانے کے ساتھ نہیں چلے گی
بلکہ زمانے کو سمت بھی دے گی

اور یہی وہ موڑ ہے
جہاں کہانی شکایت پر نہیں
امید پر ختم ہونی چاہیے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے