مجھے ہمیشہ نئی جگہ پہ پہلے دن نے گھر کی بہت یاد دلائی ہے مجھے ہوم سیکنس ہے چاہے وہ بیچلر کے دن ہو یا کوئی ایونٹ یا پھر کوئی جاب میرا دل چاہتا ہے جلدی سے یہ ختم ہو اور میں آڑ کر گھر جاؤں، نہ جانے گھر کی کونسی انرجی اپنی طرف کھینچتی ہے میں زیادہ عرصے باہر نہیں رہ سکتی پھر میں سوچتی ہوں زندگی میں اگر موقع ملا باہر جانے کا تو میں کیسے جاؤں گی ۔۔
لیکن یہ بھی ہے کہ نئی جگوں سے مجھے انسیت بھی ہو جاتی ہے اور پھر جب ان جگہوں کو الوداع کہنا پڑ جائے تو نہیں کہا جاتا، دل پہ پتھر رکھ کر وہاں سے واپسی کا راستہ لیا جاتا ہے
انسان کتنا عجیب ہے اس کی طبیعت میں انس کا مادہ رکھا گیا ہے، اس کو جگہوں سے ،لوگوں سے انسیت ہونی ہے یہ اسکی طبیعت میں شامل ہے لیکن اپنے دل کے اس حصے میں اسکو جگہ دینا جو کسی خاص خاص کے لیے مختص ہو یہ اچھا نہیں لیکن اگر یہ حاوی ہو جائے تو یہ بھی ٹھیک نہیں ہے۔
کیونکہ زندگی کے اس سفر میں ملنا بچھڑنا تو لگے رہے گا اپنی زندگی میں پہلی بار الوداع کی تکلیف دے کیفیت کو میں نے اس وقت محسوس کیا جب میں میٹرک میں تھی ایک جگہ میں آپ کے کتنے سال لگے ہو آپ چھوٹے سے بڑے ہوئے ہو اور پھر بچھڑنے کی تاریخ آپہنچے تو آپ کو نہ چاہتے ہوئے بھی جانا پڑتا ہے مجھے آج بھی یاد ہے میں کتنے عرصے اپنے دوستوں ،اساتذہ اور اس جگہ کو یاد کر کے اداس رہی،بہت مُشکل سے اس نئی جگہ کی عادی ہوئی،وہ پہلی بار تھا اور پھر بچھڑنا اور ملنا تو زندگی کا تو جیسےحصہ ہی بن گیا تو یہ طے ہیں کہ اس زندگی میں مشکل ترین لفظ کسی کو الوداع کہنا ہے چاہے آپ دھاڑیں مار کے رو رہے ہو، آپ بخار میں تپ رہے ہو یا پھر آنکھوں پہ ہاتھ رکھ کے اس حقیقت کو جھٹلانے کی کوشش کررہے ہو
لیکن آپ پہ لازم ہے کہ آپ نے خندہ پیشانی سے آپنے عزیز ترین لوگوں کو رخصت کرنا ہے
شاید کسی اور یونیورس میں کسی کو الوداع کہنا صرف رات کی دوری ہو۔