پروفیسر ڈاکٹر محمد ضیاء الحق یونیورسٹی آف نارووال کے وائس چانسلر مقرر

پروفیسر ڈاکٹر محمد ضیاٗ الحق

پروفیسر ڈاکٹر محمد ضیاء الحق کو یونیورسٹی آف نارووال کا وائس چانسلر مقرر کر دیا گیا ہے۔ وہ اس سے قبل اسلامک ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر جنرل اور انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد میں شعبہ شریعہ اینڈ اسلامک لا کے پروفیسر کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔

پروفیسر ڈاکٹر محمد ضیاء الحق دو ادوار میں فیکلٹی آف شریعہ اینڈ لا کے ڈین بھی رہ چکے ہیں جبکہ اسلامک ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے تحقیقی جرائد کے چیف ایڈیٹر کی حیثیت سے بھی ان کی خدمات نمایاں رہیں۔ وہ 2013 سے 2014 تک امریکہ کی زیویئر یونیورسٹی، سنسناٹی میں سینئر فل برائٹ فیلو اور پروفیسر بھی رہے۔

انہوں نے 1998 میں جامعہ الزیتونہ، تیونس سے تقابلی فقہ میں پی ایچ ڈی کی، جو دنیا کی قدیم ترین جامعات میں شمار ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے برطانیہ، پولینڈ، اسپین اور آسٹریا کی معروف جامعات اور تحقیقی اداروں سے پوسٹ ڈاکٹریٹ فیلوشپس بھی مکمل کیں۔

پروفیسر ڈاکٹر محمد ضیاء الحق کے 60 سے زائد تحقیقی مقالے عالمی سطح کے مستند جرائد میں شائع ہو چکے ہیں جبکہ وہ 30 سے زائد کتب کے مصنف بھی ہیں۔ انہوں نے دنیا بھر میں مختلف کانفرنسوں اور علمی فورمز پر تقریباً 550 تحقیقی مقالات اور لیکچرز پیش کیے۔

انہوں نے مختلف تعلیمی اداروں میں متعدد تحقیقی مراکز اور تعلیمی پروگرامز متعارف کرائے۔ حالیہ عرصے میں انہوں نے ہائر ایجوکیشن کمیشن اور انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کے اشتراک سے لاہور میں نثار فاطمہ انسٹی ٹیوٹ فار سیرت اینڈ ویمن اسٹڈیز کے قیام میں اہم کردار ادا کیا۔ اسی طرح پاکستان اور قازقستان کے مشترکہ منصوبے کے تحت احمد یسوی سینٹر فار اسلامک تھاٹ، کلچر اینڈ سولائزیشن کے قیام کو بھی پایہ تکمیل تک پہنچایا گیا۔

وہ حکومتِ پاکستان کے قومی بیانیے سے متعلق منصوبوں، جن میں پیغامِ پاکستان اور سائبانِ پاکستان شامل ہیں، میں بھی قائدانہ کردار ادا کر رہے ہیں۔ بین المذاہب مکالمہ، امن مطالعات اور انسانی حقوق ان کی خصوصی دلچسپی کے شعبے ہیں۔

پروفیسر ڈاکٹر محمد ضیاء الحق کو متعدد قومی اور بین الاقوامی اعزازات سے نوازا جا چکا ہے، جن میں 2024 میں دیا جانے والا تمغہ امتیاز بھی شامل ہے۔ وہ اختلاف کے اخلاقیات اور مثبت مکالمے کے فروغ پر یقین رکھتے ہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے