اسکالر ڈائریز: ٹور ڈی یورپ (قسط نمبر 5)

پراگ کا سفر: صحافتی رفاقتوں اور پرانی یادوں کے سنگ

سفرِ یورپ کے پچھلے پڑاؤ میں ہم نے پولینڈ کے شہر وارسا سے لٹویا کے دارالخلافہ ریگا کا رخ کیا۔ ریگا کی نیشنل لائبریری میں منعقدہ "فیوچر اسکالر پروگرام” میں قومی لباس (سفید شلوار قمیض، واسکٹ اور پکول) میں شرکت کی، جہاں لٹویا کے صدر رائمنڈز ویجونس سے ملاقات ایک یادگار لمحہ رہی۔ ریگا کی سردی، وہاں کے تاریخی چرچز اور بالٹک سمندر کے ساحل جورمالا کی برف باری نے اس سفر کو سحر انگیز بنا دیا تھا۔ اب قصہ وہاں سے آگے کا ہے جب ریگا سے ہمارا رخ جمہوریہ چیک کے خوبصورت شہر پراگ کی جانب ہوا۔ گو کہ اب میں ایک سرکاری ملازم ہوں مگر وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ دو قسم کی دوستیاں کبھی تا مرگ دم نہیں توڑتیں۔ ایک وہ جب غربت کا وقت کسی کے ساتھ گزرا ہو اور دوستی بن جائے، اور دوسرا جب آپ صحافت کے دوران اپنے رفقاء کے ساتھ ہم ذہن بن جائیں۔

میرے کولیگز (سرکاری ملازم) اس بات پر اکثر حیران بھی رہتے ہیں کہ میں اتنا سفر کیسے کر پاتا ہوں؟ میں ان کو ایک ہی وجہ بتاتا ہوں: "میرے صحافت کے دور کے دوست”۔ ان سے دوستی نہیں بلکہ بھائی چارہ ہے جو واللہ کسی تکلف کا محتاج نہیں۔ میری خوش قسمتی یہ ہے کہ میرے سارے صحافتی دوست جو خیبر ٹی وی میں ہمارے ساتھ کام کرتے تھے، ان میں سے 90 فیصد اس وقت یورپ اور امریکہ میں بہت عزت کی زندگی گزار رہے ہیں۔

ان دنوں خیبر ٹی وی کا بہت چرچا تھا اور اچانک دو ریڈیو اسٹیشنز نے بھرتیاں شروع کر دیں؛ ایک "وائس آف امریکہ” کی پشتو سروس اور دوسرا "ریڈیو مشال”۔ اب جب یورپ جانا ہو تو وہاں مشال ریڈیو کے دوستوں سے رابطہ ہوتا ہے اور اگر امریکہ جانا پڑ جائے تو وائس آف امریکہ کی پشتو سروس میں پرانے یاروں سے ملاقات نہ ہو، یہ ممکن ہی نہیں۔

اب چونکہ یورپ کے سفر پہ تھا، اس لیے اپنے ان سینئرز اور جونیئرز سے تو ملنا ضروری تھا جن سے نہ صرف خیبر ٹی وی میں غربت کے دنوں کا تعلق تھا بلکہ صحافتی بھائی چارہ بھی تھا۔ میں نے پہلے سوچا کس کو بتاؤں؟ جونیئرز کو یا سینئرز کو؟ پھر خیال آیا کہ سینئرز ٹھیک رہیں گے۔ اس لیے گل ایاز کو فیس بک پر میسج کیا۔

گل ایاز خیبر ٹی وی میں ہمارے اسائنمنٹ ایڈیٹر تھے۔ سچ پوچھیے تو 9 بجے کا خبرنامہ خیبر نیوز پر سالہا سال ان کی وجہ سے چمکا ہے۔ نیوز میں "رن ڈاؤن” کسے کہتے ہیں، یہ لفظ میں نے گل ایاز سے ہی سیکھا ہے۔ گل ایاز کو ہم پیار سے "گلو بھائی” یا "گلی بھائی” کہتے تھے۔ مناسب قد کاٹھ، سفید چہرہ اور گولڈ لیف کی سگریٹ لگائے جب وہ اسائنمنٹ ڈیسک پر ہوتے تھے تو اسپورٹس نیوز، بزنس نیوز، رپورٹس، ہیڈ لائنز، پروڈیوسرز اور اینکرز سب حاضر و ناظر ہوتے تھے، ورنہ وہ طوفان کھڑا کر دیتے تھے اور اس طوفان کے سامنے کسی کو کھڑے رہنے کی جرات نہیں ہوتی تھی۔ لیکن اس غصے میں ان کا ایک پیار چھپا ہوتا تھا اور پھر وہ اپنی مخصوص ‘بیوروکریٹک جرنلزم’ سے بھرپور مسکراہٹ کے ساتھ سب کو گلے لگا لیتے تھے۔

میں گل ایاز کو فیس بک پر دیکھتا رہتا تھا۔ وہ مجھ سے سینئر ہیں اور تا مرگ رہیں گے، مگر ٹریولنگ (سیاحت) میں بھی ان کا کمال حد درجہ تھا۔ شاید ہی کوئی ملک چھوڑا ہو… مجھے کہتے ہیں "میں چاند کے مشن پہ جانے کا سوچ رہا ہوں”۔

میرے فیس بک کے ایک میسج پر انہوں نے لبیک کہا اور میرے لیے پراگ (Prague) میں نہایت ہی خوبصورت لوکیشن پر واقع بلڈنگ کے ٹاپ فلور پر اپارٹمنٹ لے کر دیا۔ پراگ ایئرپورٹ پر خود ریسیو کرنے آئے، اپنے گھر لے کر گئے، چائے پلائی… وہی پرانا اسٹائل، وہی باتوں باتوں میں تھوڑا غصہ، پھر محبت اور شفقت، اور خود اپارٹمنٹ ڈراپ کر کے آئے۔ میری نالائقی کہ میں جاتے ہوئے اپارٹمنٹ کی چابیاں بھی گھما گیا۔ گلو بھائی پہ مزید لکھنے کو دل چاہتا ہے، وہ ایک الگ کالم کی صورت میں… بس اتنا کہوں گا کہ گلو بھائی نے اپنے مصروف شیڈول میں سے ایک دن چھٹی کی تاکہ مجھ جونیئر کے ساتھ وقت گزار سکیں۔

میرے دوسرے بھائیوں جیسے دوست، جو عمر میں بڑے مگر اسپورٹس رپورٹنگ میں جونیئر اینکر تھے اور اب بہت سینئر ہو گئے ہیں اور خود کو صحافت میں ثابت بھی کیا ہے، وہ ہیں اسرار مومند۔ اسرار مومند نے گل ایاز کے بعد آفس سے ایک دن کی چھٹی کی اور محبت ایسی کہ گھر سے صبح صبح ‘چرگے کی ٹانگ’ (مرغی کی ران) پٹھانوں کے روایتی اسٹائل میں فرائی کی ہوئی، ساتھ میں دو فرائی انڈے اور گاؤں کی طرح پراگ میں تھرماس میں چائے بھر کر صبح صبح حاضر ہوئے۔

ناشتے کا سامان لے کر میرے اپارٹمنٹ کے ساتھ سب وے (Subway) پر کھڑے میرے انتظار میں تھے جناب محترم اسرار مومند۔ میری اور اسرار کی صبح ناشتے پر یہ ملاقات بہت ڈرامائی اور سسپنس سے بھرپور ہے، وہ کیوں؟ یہ میں قلم کے ذریعے نہیں بتا سکتا، البتہ اس کالم کو پڑھتے ہوئے اسرار مومند بھی ان لکھے جملوں پہ قہقہہ لگائے گا اور میں بھی۔

بہر حال ناشتہ کرنے کے بعد میں اور اسرار نکلے پراگ کی سیر پر۔ پراگ میں شاید ہی کوئی ایسی جگہ ہو جہاں میں اور اسرار پرانے خیبر ٹی وی کے وقتوں کی طرح نہ گھومے ہوں۔ ہم نے تو پراگ کو خیبر ٹی وی کا آفس بنا لیا، جیسے کبھی ہم 2008-09 میں اسلام آباد کے آئی نائن (I-9) سیکٹر میں، جہاں صرف لوہے بنانے کی فیکٹریاں تھیں، چلتے پھرتے رہتے تھے۔

اولڈ ٹاؤن، نیو ٹاؤن، محبتوں والا برج اور پتا نہیں کہاں کہاں پراگ گھومتے رہے اور دن بھر گپیں لگاتے رہے۔ لنچ کے وقت وہ مجھے اپنے "مشال ریڈیو” کے آفس لے کر گئے جہاں خیبر ٹی وی سے منسلک اور بھی لوگوں سے ملاقات رہی۔ ہارون باچا، جو پشتو کے مشہور گلوکار ہیں، اور ساتھ میں ہمارے ایک اور جونیئر جو اب ڈاکٹر ہیں (میں نام بھول رہا ہوں مگر ان سے اب بھی محبت ہے)۔

مشال ریڈیو سے فارغ ہوئے تو پھر چل پڑے۔ اسرار مومند اپنی محبت میں مجھے سارا پراگ دکھانا چاہتے تھے مگر شاید وقت کی کمی تھی۔ شام ہوئی تو اسرار اپنے گھر لے کر گئے اور بچوں سے ملوایا۔ بھابھی نے پشتونولی کھانوں سے تواضع کی۔ اسرار مومند کے بچوں نے خدا کے بارے میں اور کاسمولوجی (Cosmology) پر ایسے سوالات کیے کہ پسینہ آ گیا، مگر بچے تو بچے ہوتے ہیں، غیر سیاسی بھی اور غیر مذہبی بھی۔

چیک جمہوریہ (Czech Republic) شینگن کا ایک اہم اور خوبصورت ملک ہے۔ تاریخی طور پر یہ ملک وسطی یورپ کے طاقتور سلطنتوں کا مرکز رہا ہے اور 1993 میں چیکو سلواکیہ کی پُرامن تقسیم کے بعد ایک جدید ریاست کے طور پر ابھرا۔ جغرافیائی لحاظ سے یہ چاروں طرف سے خشکی سے گھرا ہوا پہاڑی اور میدانی علاقوں پر مشتمل ملک ہے جس کی آبادی ایک کروڑ سے زائد ہے، جبکہ یہاں مقیم پاکستانی کمیونٹی تعداد میں کم ہونے کے باوجود مقامی معیشت اور خاص طور پر آئی ٹی اور بزنس کے شعبوں میں اپنا مثبت کردار ادا کر رہی ہے۔

یقین جانیے مجھے نہیں محسوس ہوا کہ میں پراگ میں ہوں بلکہ اپنے گھر میں ہوں، اور یہ سب کچھ ان دوستوں کی وجہ سے تھا جو کل بھی دوست اور بھائی تھے اور آج بھی۔ پراگ کے بعد ہمیں جانا تھا واپس ریگا، مگر پھر کنیکٹنگ فلائٹ نے پہنچایا ہمیں بیلجیئم۔ بیلجیئم میں گزرا وقت اور پھر سے ریگا اسکالر کانفرنس کیسی رہی، یہ سب اگلی نشست میں ان شاء اللہ۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے