پاکستانی معاشرے میں کنٹریکٹ یا فکسڈ پے پر ملازمت اب کوئی وقتی تجربہ نہیں رہی۔ یہ ایک مستقل حقیقت بن چکی ہے، خاص طور پر تعلیمی اداروں میں جہاں یونیورسٹیوں، کالجوں اور سکولوں کی عمارتوں کے اندر ہزاروں اساتذہ روز کلاس روم میں داخل تو ہوتے ہیں مگر ان کے قدموں تلے زمین مستقل نہیں ہوتی۔ ان کے تعارفی کارڈ پر ادارے کا نام ہوتا ہے مگر دل میں ہر سمسٹر یہ سوال بھی کہ شاید یہ آخری کلاس ہو۔
احمد ایک نجی یونیورسٹی میں گزشتہ پانچ برس سے پڑھا رہا ہے۔ ہر سال نیا کنٹریکٹ، نئی امید، اور آخر میں وہی جملہ۔ اگلے سمسٹر دیکھتے ہیں۔ وہ صبح آٹھ بجے سے شام تک لیکچر دیتا ہے، اسائنمنٹ چیک کرتا ہے، طلبہ کے مسائل سنتا ہے، لیکن مہینے کے آخر میں اس کے اکاؤنٹ میں آنے والی رقم اس کے خوابوں سے کہیں کم ہوتی ہے۔ وہ گھر والوں کو بتاتے ہوئے جھجکتا ہے کہ ابھی تک اس کی نوکری مستقل نہیں ہو سکی۔ شادی کی بات آئے تو خاموش ہو جاتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ فکسڈ پے استاد کو ہمارے معاشرے میں ایک عارضی مسافر سمجھا جاتا ہے۔
لیبر فورس سروے 2023 سے 24 کے مطابق شہری علاقوں میں بائیس فیصد ملازمین کنٹریکٹ یا فکسڈ پے پر کام کر رہے ہیں اور تعلیمی شعبے میں یہ شرح مسلسل بڑھ رہی ہے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن کی 2024 کی رپورٹ بتاتی ہے کہ پاکستان کی ساٹھ فیصد نجی یونیورسٹیوں میں اساتذہ کی بھرتی کنٹریکٹ بنیادوں پر ہو رہی ہے جبکہ سرکاری جامعات میں بھی یہ تناسب پینتیس فیصد تک پہنچ چکا ہے۔ نجی سکولوں اور کالجوں میں صورتحال اس سے بھی زیادہ سنگین ہے جہاں ستر فیصد اساتذہ فکسڈ تنخواہ پر رکھے جاتے ہیں اور کئی جگہ یہ تنخواہ کم از کم اجرت سے بھی کم ہوتی ہے۔
ان اساتذہ کے لیے آزادی کا ایک خواب دکھایا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ مختلف کورسز پڑھا سکتے ہیں، نئے تجربات حاصل کر سکتے ہیں، لیکن اس آزادی کے ساتھ ایک ایسی زنجیر بھی بندھی ہوتی ہے جس کا نام ہر سمسٹر رینیو کنٹریکٹ ہے۔ احمد کہتا ہے کہ اس نے پانچ سال میں پانچ بار مستقل ہونے کا خواب دیکھا اور پانچوں بار فائل کسی نہ کسی میز پر رک گئی۔
معاشرتی رویے اس زخم پر نمک چھڑکنے کا کام کرتے ہیں۔ اگر کوئی پوچھ لے کہ وہ کنٹریکٹ پر ہے تو اگلا جملہ اکثر مشورے کا نہیں بلکہ فیصلے کا ہوتا ہے کہ سرکاری نوکری کیوں نہیں کی۔ شادی بیاہ کی تقریبات میں فکسڈ پے استاد کو ایسے دیکھا جاتا ہے جیسے وہ ابھی زندگی کی اصل ریس میں داخل ہی نہیں ہوا۔
اداروں کے لیے فکسڈ پے ایک سستا حل ہے۔ انہیں نہ انشورنس دینی ہوتی ہے نہ پنشن نہ دیگر مراعات۔ ایک رپورٹ کے مطابق پینسٹھ فیصد سے زائد فکسڈ پے اساتذہ کو بنیادی لیبر حقوق بھی حاصل نہیں۔ انہیں طویل اوقات تک پڑھانا پڑتا ہے اور مہینے کے آخر میں تیس سے پچاس ہزار روپے کی تنخواہ ان کا مقدر بنتی ہے۔ یہ رقم ایک بڑے شہر میں رہنے والے استاد کے لیے صرف زندہ رہنے کی قیمت بن جاتی ہے، جینے کی نہیں۔
کچھ اساتذہ خاص طور پر آئی ٹی اور سائنس سے وابستہ افراد آن لائن پلیٹ فارمز سے اضافی آمدنی حاصل کر لیتے ہیں۔ 2024 میں پاکستان نے آن لائن تعلیم کے ذریعے تقریباً پانچ سو ملین ڈالر کمائے اور اس میں کنٹریکٹ اساتذہ کا کردار نمایاں تھا۔ مگر یہ سہولت ہر ایک کو میسر نہیں۔ دیہی سکولوں کے اساتذہ کے لیے فکسڈ پے صرف ایک ہی معنی رکھتا ہے، بے یقینی۔
ذہنی دباؤ اس کہانی کا وہ پہلو ہے جس پر کم بات ہوتی ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی 2024 کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں چالیس فیصد سے زائد کنٹریکٹ ملازمین مسلسل ذہنی تناؤ کا شکار ہیں۔ احمد مانتا ہے کہ اس نے کئی راتیں یہ سوچتے گزار دی ہیں کہ اگر اگلے سمسٹر کنٹریکٹ نہ ملا تو کیا کرے گا۔
حکومتی سطح پر بھی صورتحال حوصلہ افزا نہیں۔ پنجاب حکومت نے پچاس ہزار نئے اساتذہ بھرتی کرنے کا اعلان تو کیا مگر ان میں سے اسی فیصد فکسڈ پے پر ہوں گے۔ یوں لگتا ہے کہ ریاست بھی مستقل ملازمت کے تصور سے پیچھے ہٹ رہی ہے۔ تعلیمی بجٹ کا صرف اڑھائی فیصد اساتذہ کی تربیت اور مراعات پر خرچ ہوتا ہے جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں یہ شرح دس فیصد سے زائد ہے۔
اصلاحات کے بغیر یہ سلسلہ یونہی چلتا رہے گا۔ فکسڈ پے اساتذہ کو بنیادی حقوق دینا، شفاف بھرتی نظام لانا، اور معاشرتی رویوں کو بدلنا وقت کی ضرورت ہے۔ ورنہ ہر احمد ہر سال اسی سوال کے ساتھ کلاس روم میں داخل ہوتا رہے گا کہ آیا یہ اس کا آخری لیکچر تو نہیں۔
اور جب کوئی اس سے پوچھے کہ مستقل نوکری کیوں نہیں کی تو وہ مسکرا کر یہی کہتا ہے کہ وہ تو جدید دور کا وہ استاد ہے جو ہر سمسٹر نئی امید کے ساتھ زندہ رہنا سیکھ چکا ہے۔