اہل علم، اہل قلم اور کتاب و قلم کے قبیلے سے اگر دو چار لوگ نفرت کرتے ہیں تو ہزاروں، لاکھوں لوگ محبت بھی کرتے ہیں، اور وہ محبت کسی غرض، کسی مفاد اور کسی صلے کے بغیر، خالص اور بے لوث ہوتی ہے۔ یہ وہ محبت ہے جو لفظوں سے نہیں، دلوں سے جنم لیتی ہے اور خاموشی سے اپنا اثر چھوڑ جاتی ہے۔
اہل فکر و نظر سوال اٹھانے پر ناراض نہیں ہوتے بلکہ مکالمے کی فضا پیدا کرتے ہیں، بات کو سننے کا حوصلہ رکھتے ہیں اور پھر گفتگو کو اس کی تہہ تک لے جاتے ہیں۔ ایسے لوگ اختلاف کو دشمنی نہیں سمجھتے بلکہ سچ تک پہنچنے کا ذریعہ مانتے ہیں۔ یہی ظرف، یہی وسعت نظر انہیں ہزاروں لاکھوں لوگوں کے دلوں میں احترام کا سبب بنا دیتی ہے۔
البتہ ہر معاشرے میں چند لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو اس احترام اور مقبولیت کو ہضم نہیں کر پاتے، پھر دل کے کسی کونے میں حسد جنم لیتا ہے، اور اگر حاسدین کو نقصان پہنچانے کا موقع مل جائے تو وہ دریغ بھی نہیں کرتے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ بعض اوقات قلم کی روشنی آنکھوں کو چبھنے لگتی ہے اور سچ کی آواز کانوں کو ناگوار گزرنے لگتی ہے۔
لیکن احباب علم و فکر اور صاحبان قلم و قرطاس کو یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ محبت کرنے والے لاکھوں میں ہوتے ہیں اور نفرت کرنے والے درجنوں میں بھی نہیں۔ شور مچانے والے چند چہرے اصل تصویر نہیں ہوتے، اصل تصویر وہ خاموش اکثریت ہوتی ہے جو دل ہی دل میں دعا بھی دیتی ہے، حوصلہ بھی بڑھاتی ہے اور حق بات کہنے والوں کے ساتھ کھڑی بھی ہوتی ہے۔
اسی لیے قلم کے مسافروں کو راستے کی گرد سے نہیں گھبرانا چاہیے، کیونکہ یہ گرد ہی اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ قافلہ چل رہا ہے، اور جو قافلے رک جاتے ہیں، ان پر نہ گرد پڑتی ہے اور نہ ہی کوئی انگلی اٹھاتا ہے۔