پاکستان کا آبی بحران: مسئلہ پانی کا نہیں، حکمرانی کا ہے

پاکستان آج جس آبی بحران کا سامنا کر رہا ہے، وہ کسی قدرتی آفت یا تقدیر کا نتیجہ نہیں، بلکہ ہمارے اپنے فیصلوں اور غفلتوں کا انجام ہے۔

8 دسمبر 2025 کو ایشیائی ترقیاتی بینک کی رپورٹ نے واضح کر دیا کہ پاکستان کے 80 فیصد سے زائد شہریوں کو محفوظ پینے کا پانی میسر نہیں۔ فی کس پانی کی دستیابی کم ہو کر تقریباً 1,100 مکعب میٹر رہ گئی ہے، جو شدید قلت کی سطح ہے۔ زیرِ زمین پانی کا بے دریغ استعمال ہمارے آبی ذخائر کو تیزی سے ختم کر رہا ہے اور کئی زرعی علاقوں میں زہریلے مادے پانی میں شامل ہو چکے ہیں۔

لیکن اصل مسئلہ پانی کی کمی نہیں، بلکہ نظام کی ناکامی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کی آبی سلامتی گزشتہ ایک دہائی میں تقریباً جوں کی توں رہی ہے۔ اس کا مطلب صاف ہے: ہمارے پاس پالیسیاں، قوانین اور معاہدے تو موجود ہیں، مگر ان پر عمل کروانے کی صلاحیت کمزور ہے۔ کاغذ پر فیصلے اور زمین پر حقیقت کے درمیان ایک بڑا خلا ہے۔

یہ خلا پورے ملک میں نظر آتا ہے۔کوئٹہ میں ہر سال مزید گہرے بور اس بات کا ثبوت ہیں کہ شہر قرض کے پانی پر چل رہا ہے اور زمین اندر سے کھوکھلی ہو رہی ہے۔کراچی میں سرکاری پانی کے بجائے ٹینکر مافیا اصل نظام بن چکا ہے، جہاں قیمت ہی قانون ہے۔پنجاب اور سندھ میں نہروں کے آخری سرے پر موجود کسان کو پانی وقت پر نہیں ملتا، اس لیے وہ مجبوری میں ٹیوب ویل لگا کر زمین کے نیچے سے پانی کھینچتا ہے، یوں مسئلہ وقتی حل ہو جاتا ہے مگر بحران مزید گہرا ہو جاتا ہے۔

یہ سب الگ الگ مسائل نہیں، بلکہ ایک ہی بیماری کی مختلف علامتیں ہیں: کمزور حکمرانی۔حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے پاس قوانین کی کمی نہیں۔1991 کا پانی کی تقسیم کا معاہدہ صوبوں کے درمیان ایک بڑی کامیابی تھا۔2018 کی قومی آبی پالیسی نے واضح سمت دی۔صوبوں نے بھی اپنے اپنے قوانین بنائے۔مسئلہ یہ ہے کہ قوانین بنانا کافی نہیں، جب تک ان پر روزمرہ کی بنیاد پر عمل نہ ہو۔

سب سے بڑی کمی پیمائش اور نگرانی کی ہے۔جب ہمیں درست معلوم ہی نہ ہو کہ کہاں کتنا پانی جا رہا ہے، تو جھگڑے جنم لیتے ہیں، اعتماد ٹوٹتا ہے اور ہر بحران سیاسی تنازع بن جاتا ہے۔ جہاں پیمائش شفاف ہو، وہاں مسئلہ انتظامی رہتا ہے، وجودی نہیں۔

اب اس صورتحال کو مزید خطرناک بنانے والی تین بڑی تبدیلیاں سامنے آ چکی ہیں۔

پہلی، موسم اب قابلِ پیش گوئی نہیں رہا۔ کبھی شدید سیلاب، کبھی سخت خشک سالی۔ جب کمی کے دنوں کے لیے پہلے سے طے شدہ اصول نہ ہوں تو ہر سال نیا بحران جنم لیتا ہے۔

دوسری، زیرِ زمین پانی اب سہارا نہیں رہا بلکہ خطرہ بن چکا ہے۔ برسوں تک یہی پانی ہماری بچاؤ کی لکیر تھا، مگر اب یہ حد سے زیادہ استعمال ہو چکا ہے۔ اس کا حل نصیحت نہیں بلکہ عملی اقدامات ہیں: متاثرہ علاقوں کی نشاندہی، پینے کے پانی کا تحفظ، اور کسانوں کے لیے مرحلہ وار اور منصفانہ نظام۔

تیسری، سولر پمپنگ کا پھیلاؤ۔سولر توانائی ماحول کے لیے اچھی ہے، مگر اس نے پانی نکالنے کی قدرتی رکاوٹ ختم کر دی ہے۔ جب بجلی مفت ہو جائے تو پانی بے حساب نکلتا ہے۔ اگر سولر سہولت کو پانی کے مؤثر استعمال سے نہ جوڑا گیا تو ہم توانائی بچاتے بچاتے پانی کھو دیں گے۔

پھر سوال یہ ہے کہ حل واضح ہونے کے باوجود عمل کیوں نہیں ہوتا؟
اس لیے کہ بہتر نظام ان لوگوں کے مفادات کو چیلنج کرتا ہے جو ابہام سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ دیکھ بھال، شفافیت اور انصاف سیاسی طور پر کم پرکشش سمجھے جاتے ہیں، جبکہ بڑے منصوبوں کے اعلانات زیادہ نمایاں دکھائی دیتے ہیں۔

اب وقت آ گیا ہے کہ ترجیحات بدلی جائیں۔

پانی کی پیمائش کو قومی ترجیح بنایا جائے تاکہ اعتماد بحال ہو۔پانی کی تقسیم کے اصول سادہ زبان میں عوام کے سامنے ہوں۔نہروں کی دیکھ بھال کو منصوبوں سے زیادہ اہم سمجھا جائے، کیونکہ سب سے سستا نیا پانی وہی ہے جو ضائع ہونے سے بچا لیا جائے۔زیرِ زمین پانی کے متاثرہ علاقوں میں فوری اور منصفانہ نگرانی شروع کی جائے۔سبسڈی کو بغیر شرط کے خیرات کے بجائے بہتر کارکردگی سے جوڑا جائے۔

اور سب سے اہم بات: نگرانی اور عمل درآمد کو ہنگامی مہم نہیں بلکہ روزمرہ کا معمول بنایا جائے۔

پاکستان کا آبی مستقبل صرف موسم یا گلیشیئر طے نہیں کریں گے۔ یہ مستقبل ہمارے فیصلے طے کریں گے۔ہمارے پاس پانی بھی ہے، پالیسیاں بھی، اور مثالیں بھی۔اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم بہتر حکمرانی کا انتخاب کرتے ہیں؟

نہر کے آخری سرے پر کھڑے کسان کو مزید اجلاس نہیں چاہیے، اسے وقت پر پانی چاہیے۔شہری کو پالیسی بیانات نہیں، نل سے بہتا پانی چاہیے۔پاکستان کا آبی بحران قدرتی نہیں، انتظامی ہے، اور انتظامی بحران کا حل صرف ایک ہے: ایماندار، شفاف اور مسلسل حکمرانی۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے