وزیراعظم شہباز شریف کا کوئٹہ میں سیاسی رہنماؤں سے گفتگو کے دوران یہ کہنا کہ “پنجاب نے اپنے حصے سے سالانہ 11 ارب روپے بلوچستان کو دیے” بظاہر ایک احسان جتانے والا جملہ محسوس ہوتا ہے۔ یہ بیان نہ صرف سیاسی طور پر حساس ہے بلکہ اس سے یہ تاثر بھی ابھرتا ہے کہ گویا بلوچستان کو اس کے اپنے وسائل کے بدلے نہیں بلکہ کسی صوبے کی “خیرات” کے طور پر مالی مدد دی جا رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا بلوچستان واقعی کسی صوبے کا محتاج ہے، یا پھر اصل مسئلہ وسائل کے منصفانہ حساب اور تقسیم کا ہے؟
بلوچستان پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے، جو رقبے کے لحاظ سے ملک کے تقریباً 44 فیصد حصے پر محیط ہے۔ یہ وہ خطہ ہے جہاں سونا، تانبا، کرومائیٹ، کوئلہ، تیل، گیس اور دیگر قیمتی معدنیات موجود ہیں۔ سیندک اور ریکوڈک جیسے منصوبے محض مقامی نہیں بلکہ عالمی سطح پر اہمیت کے حامل ہیں۔ ریکوڈک کو دنیا کے بڑے سونے اور تانبے کے ذخائر میں شمار کیا جاتا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ ان منصوبوں سے اب تک بلوچستان کو کیا ملا؟ اگر پنجاب سالانہ 11 ارب دینے کا دعویٰ کر رہا ہے تو کیا وفاق اور صوبے یہ بتانے کے لیے تیار ہیں کہ سیندک اور ریکوڈک سے نکلنے والے سونے اور دیگر معدنیات کی مجموعی آمدن کتنی ہے اور اس میں بلوچستان کا حصہ کہاں ہے؟
یہ صرف معدنیات تک محدود معاملہ نہیں۔ سنہ 1952 میں بلوچستان کے علاقے سوئی سے گیس دریافت ہوئی۔ یہ پاکستان کی توانائی تاریخ کا ایک اہم موڑ تھا۔ اس گیس نے پورے ملک کو روشن کیا، صنعتیں چلائیں، شہروں کو گرم رکھا اور معیشت کو سہارا دیا۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ آج بھی خود ضلع ڈیرہ بگٹی اور اس کے گرد و نواح کے کئی علاقے گیس سے محروم ہیں۔ دہائیوں تک بلوچستان کی گیس پورے پاکستان کو فراہم کی جاتی رہی، مگر کیا کبھی اس کا مکمل حساب عوام کے سامنے رکھا گیا؟ اگر پنجاب یا دیگر صوبے اس گیس سے فائدہ اٹھاتے رہے ہیں تو پھر یہ سوال بجا ہے کہ بلوچستان کو اس کے بدلے کیا ملا اور کتنا ملا؟
وسائل کے اس عدم توازن کی ایک اور مثال سی پیک ہے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری کا منصوبہ محض کسی سیاسی دوستی کا نتیجہ نہیں بلکہ مکران کی ساحلی پٹی اور گوادر کی جغرافیائی اہمیت کی وجہ سے ممکن ہوا۔ یہ بلوچستان کا ساحل ہے جو چین کو بحیرۂ بلوچ تک براہِ راست رسائی فراہم کرتا ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جس نے چین کو اس منصوبے میں سرمایہ کاری پر آمادہ کیا۔ مگر سی پیک کے ثمرات کس کو ملے؟ گوادر آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہے، صاف پانی، تعلیم اور صحت جیسے مسائل جوں کے توں ہیں۔ ایسے میں اگر بلوچستان کو چند ارب روپے کی فراہمی کو احسان کے طور پر پیش کیا جائے تو یہ احساسِ محرومی کو مزید گہرا کرتا ہے۔
اصل مسئلہ یہ نہیں کہ بلوچستان کو کتنے ارب دیے گئے، بلکہ یہ ہے کہ یہ رقم کس بنیاد پر دی گئی۔ اگر یہ رقم این ایف سی ایوارڈ کے تحت ہے تو یہ کوئی خیرات نہیں بلکہ آئینی حق ہے۔ اگر یہ ترقیاتی منصوبوں کے نام پر دی گئی ہے تو پھر ان منصوبوں کے نتائج کہاں ہیں؟ بلوچستان میں غربت، بے روزگاری اور پسماندگی کی شرح آج بھی ملک میں سب سے زیادہ ہے۔ یہ حقائق خود اس بیانیے کی نفی کرتے ہیں کہ بلوچستان کو “بہت کچھ” دیا جا چکا ہے۔
وزیراعظم کے بیان سے یہ تاثر بھی ملتا ہے کہ جیسے صوبے ایک دوسرے پر احسان کر رہے ہوں، حالانکہ پاکستان ایک وفاق ہے، جہاں وسائل کی تقسیم آئین اور قانون کے مطابق ہوتی ہے، نہ کہ کسی صوبے کی مرضی یا سخاوت سے۔ پنجاب اگر بڑا صوبہ ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ وسائل کا مالک بن جائے، اور بلوچستان اگر پسماندہ رکھا گیا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ اسے خاموشی سے دی جانے والی رقم پر شکر گزار ہونا چاہیے۔
بلوچستان کا مطالبہ سادہ ہے یعنی خیرات نہیں، حساب چاہیئے ۔ سیندک اور ریکوڈک کا حساب، سوئی گیس کا حساب، ساحل اور بندرگاہوں کا حساب، اور ان تمام منصوبوں کا حساب جن کے ذریعے قومی معیشت کو فائدہ پہنچا مگر مقامی آبادی محروم رہی۔ جب تک یہ حساب کتاب شفاف انداز میں عوام کے سامنے نہیں لایا جاتا، ایسے بیانات مسائل حل کرنے کے بجائے شکوک و شبہات کو جنم دیتے رہیں گے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ بلوچستان میں بدامنی اور عدم استحکام کی جڑیں محض سیکیورٹی مسائل میں نہیں بلکہ معاشی ناانصافی میں پیوست ہیں۔ جب ایک خطہ دہائیوں تک اپنے وسائل دیتا رہے اور بدلے میں صرف وعدے اور بیانات سنے، تو ردِعمل فطری ہوتا ہے۔ ایسے میں ذمہ دارانہ سیاست کا تقاضا یہ ہے کہ الفاظ کے چناؤ میں احتیاط برتی جائے اور مسائل کو احسان کے بیانیے کے بجائے حقوق کے تناظر میں دیکھا جائے۔
اگر واقعی وفاق بلوچستان کو ساتھ لے کر چلنا چاہتا ہے تو اسے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ یہ صوبہ کسی کا محتاج نہیں بلکہ ملک کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ اس کے وسائل، اس کی جغرافیائی اہمیت اور اس کی قربانیاں کسی 11 ارب کے پیکج سے کہیں زیادہ قیمتی ہیں۔ بلوچستان کو خیرات نہیں، عزت اور حق چاہیے۔