موجودہ دور میں مسلمان ممالک جدید ٹیکنالوجی سے کوسوں میل پیچھے ہیں۔
اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے مقتدر حلقوں نے دنیاوی زندگی کو عارضی سمجھ کر یکسر نظرانداز کیا، جس کے نتیجے میں وہ جدید دور کی ترقی سے محروم ہوتے چلے گئے۔
حالانکہ جدید علوم و فنون کی بنیاد خود مسلمانوں نے رکھی ہے، جیسا کہ دورِ عباسی میں بیت الحکمہ کا قیام، جہاں سے پیدا ہونے والے نامور سائنس دانوں اور مفکرین نے آج کے جدید دور کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کی۔
یہاں یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ سائنس و ٹیکنالوجی کی ترقی میں مختلف مذاہب، رنگ و نسل اور اقوام نے اپنا کردار ادا کیا ہے۔
مسلمانوں کے زوال کا آغاز اس وقت ہوا جب مقتدر شخصیات ایک مغالطے کا شکار ہو گئیں اور دنیاوی علوم کو یک طرفہ طور پر نظرانداز کیا، بلکہ دانستہ یا نادانستہ طور پر اس کے خلاف فتوے بھی دیے گئے، جس کے نتیجے میں مسلمان سائنس اور ٹیکنالوجی سے دور ہوتے چلے گئے۔
حالانکہ قرآن و حدیث ہر دور میں زندگی کی ضروریات کے لیے تیار رہنے کا حکم دیتے ہیں، اور یہ حکم دینی و عصری علوم کے ساتھ ساتھ ہر پیشے اور ہر شعبۂ زندگی کے لیے ہے
جیسا کہ اللہ تعالیٰ کی دو قسم کی نشانیاں ہیں:
ایک اقوالِ الٰہی اور دوسری افعالِ الٰہی۔
قرآنِ مجید کی تعلیم، علم اور اس پر تحقیق کرنا دینی علم ہے، اور اللہ تعالیٰ کے افعال جیسے زمین و آسمان کی تخلیق، دریا، سمندر، درخت اور پہاڑ ان میں غور و فکر اور تحقیق کرنا بھی اتنا ہی فرض اور لازم ہے، کیونکہ قرآن خود غور و فکر، تحقیق، تدبر اور عقل کے استعمال کا حکم دیتا ہے۔
لہٰذا وقت کی ضرورت ہے کہ ہم دینی اور عصری دونوں علوم میں مہارت حاصل کریں، تاکہ نہ صرف اپنے لیے بلکہ پوری انسانیت کے لیے آسانیاں پیدا کر سکیں۔
اسی مقصد کے تحت ہم نے مالاکنڈ بٹ خیلہ میں ایک عظیم ادارے
اسکائی اسٹار اسلامک انٹرنیشنل اسکول اینڈ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ
کا آغاز کر رکھا ہے۔