پاکستان کی افغان پالیسی کا المیہ

پاکستان کی تاریخ میں اگر کوئی خارجہ پالیسی مستقل ناکامی، تضاد اور خونریزی کی علامت بن چکی ہے تو وہ افغانستان سے متعلق پالیسی ہے۔ یہ المیہ صرف کابل یا قندھار کی گلیوں تک محدود نہیں رہا، بلکہ اس نے پشاور، کوئٹہ، کراچی، لاہور اور اسلام آباد تک ریاست کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ مسئلہ یہ نہیں کہ افغانستان میں کیا ہوا، اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان میں فیصلے کس نے کیے، کس منطق پر کیے، اور ان کے نتائج بھگتنے کے لیے پوری قوم کو کیوں آگے کردیا گیا۔

اس پالیسی کی عسکری بنیاد فیلڈ مارشل ایوب خان کے دور میں پڑی۔ 1958 کے بعد پاکستان کی افغان پالیسی پہلی بار پارلیمنٹ کے بجائے سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کی تحویل میں چلی گئی۔ افغانستان کو ایک ہمسایہ ملک کے بجائے مستقل سیکیورٹی خطرہ سمجھا گیا۔ پشتونستان کے تنازع، سوویت یونین کے ساتھ کابل کے تعلقات، اور امریکہ کے ساتھ پاکستان کے اسٹریٹجک اتحاد نے اس سوچ کو مضبوط کیا۔ بڈھ بیر جیسے خفیہ انتظامات نے پاکستان کو سرد جنگ کا فرنٹ لائن اتحادی بنا دیا، مگر اسی لمحے افغانستان پاکستان کی نظر میں ایک ممکنہ دشمن کے طور پر فکس ہو گیا۔ یہی وہ ذہنی سانچہ تھا جو آنے والی دہائیوں میں بار بار دہرایا گیا۔

جنرل ایوب خان کے بعد وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کا دور، افغان پالیسی میں ایک نہایت اہم مگر اکثر نظرانداز کیا جانے والا مرحلہ ہے۔ وزیرِاعظم ذوالفقار علی بھٹو کے زمانے میں پہلی بار افغان پالیسی سیاسی سطح پر ازسرِنو زیرِ غور آئی۔ 1973 میں افغانستان میں داؤد خان کے اقتدار میں آنے، پشتونستان کے مطالبے اور سوویت قربت نے اسلام آباد کو تشویش میں مبتلا کیا۔ بھٹو حکومت اس نتیجے پر پہنچی کہ محض سفارتی احتجاج افغانستان کے خلاف مؤثر حکمتِ عملی نہیں ہوگا، چنانچہ کابل حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے ایک خفیہ، محدود اور غیر اعلانیہ راستہ اختیار کیا گیا۔

اسی دور میں افغان اسلامسٹ حلقوں سے روابط محض سیاسی سطح تک محدود نہ رہے بلکہ انہیں عملی شکل دی گئی۔ پاکستان کی خفیہ ایجنسی Inter-Services Intelligence کے ذریعے بعض افغان اسلامسٹ گروپس کو خفیہ سہولت، تربیت اور لاجسٹک سپورٹ فراہم کی گئی، تاکہ داؤد خان کی حکومت کو اندرونی سطح پر مصروف رکھا جا سکے اور پشتونستان کے دباؤ کا توڑ کیا جا سکے۔ یہ سرگرمیاں محدود پیمانے پر تھیں، انہیں نہ تو عوامی سطح پر تسلیم کیا گیا اور نہ ہی اس وقت ’’جہاد‘‘ کا کوئی بیانیہ موجود تھا، مگر یہ پہلا موقع تھا جب پاکستان نے افغانستان کے اندرونی سیاسی توازن کو بدلنے کے لیے منظم طور پر مذہبی عناصر کو بطور پالیسی آلہ استعمال کیا۔

یہ فیصلہ سیاسی تھا، مگر اس کا نفاذ مکمل طور پر عسکری اور خفیہ اداروں کے ہاتھ میں رہا۔ اسی وجہ سے بھٹو دور کی افغان پالیسی کو نہ مکمل طور پر سویلین کہا جا سکتا ہے اور نہ ہی اسے ضیاء الحق کے جہادی ماڈل سے بالکل الگ کیا جا سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہی وہ مرحلہ تھا جس نے بعد میں آنے والی افغان جہاد کی پالیسی کے لیے زمین ہموار کی، اگرچہ اس وقت اس کے ممکنہ نتائج کا شاید خود بھٹو حکومت کو بھی مکمل ادراک نہیں تھا۔

1977 کے بعد جنرل ضیاءالحق کے دور میں افغان پالیسی ایک ناقابلِ واپسی موڑ پر پہنچ گئی۔ 1979 میں سوویت یونین کے افغانستان پر حملے نے پاکستان کو عالمی سیاست کے عین مرکز میں لا کھڑا کیا۔ اس جنگ کو افغان قومی مزاحمت کے بجائے ’’اسلامی جہاد‘‘ کا نام دیا گیا۔ مذہب پہلی بار ریاستی پالیسی کے مرکزی بیانیے میں داخل ہوا اور ISI کو مجاہدین کی تربیت، فنڈنگ اور تنظیم سازی کا مکمل اختیار ملا۔ یہ جہاد درحقیقت سرد جنگ کا ایک پراکسی پروجیکٹ تھا، مگر اس کے نتائج پاکستان کے اندر کلاشنکوف کلچر، فرقہ واریت اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی نارملائزیشن کی صورت میں نکلے۔ یہی وہ نرسری تھی جہاں سے آنے والے برسوں میں پہلے طالبان اور بعد ازاں ٹی ٹی پی جیسے عناصر نے جنم لیا۔

ضیاء الحق کے بعد بظاہر جمہوریت بحال ہوئی، مگر افغان پالیسی بدستور عسکری اسٹیبلشمنٹ اور ISI کے ہاتھ میں رہی۔ 1990 کی دہائی میں بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کی حکومتیں آئیں اور گئیں، مگر افغانستان سے متعلق فیصلے پارلیمنٹ کے بجائے جی ایچ کیو میں ہوتے رہے۔ افغانستان میں مجاہدین کی خانہ جنگی، کابل کی تباہی اور بدعنوان قیادت نے ایک خلا پیدا کیا، جسے طالبان نے پُر کیا۔ پاکستان نے طالبان کو افغانستان میں نظم و ضبط اور اسٹریٹجک ڈیپتھ کا ذریعہ سمجھا اور انہیں سفارتی و لاجسٹک حمایت دی۔ یہ فیصلہ بھی کسی عوامی بحث یا پارلیمانی منظوری کا نتیجہ نہیں تھا، بلکہ خالصتاً سیکیورٹی سوچ کی پیداوار تھا۔

جنرل پرویز مشرف کے دور میں 9/11 کے بعد افغان پالیسی نے بظاہر یوٹرن لیا۔ پاکستان نے امریکہ کا ساتھ دیا اور طالبان حکومت سے لاتعلقی اختیار کی، مگر یہ یوٹرن آدھا ثابت ہوا۔ افغان طالبان کو مکمل دشمن قرار نہ دیا گیا اور ’’گڈ طالبان‘‘ اور ’’بیڈ طالبان‘‘ کی اصطلاحات وجود میں آئیں۔ اسی تضاد کے نتیجے میں Tehrik-i-Taliban Pakistan سامنے آئی اور جہاد کا ہتھیار پہلی بار پوری شدت کے ساتھ ریاستِ پاکستان کے خلاف پلٹ آیا۔ جس کے نتیجے میں پورا پاکستان میدان جنگ بن گیا۔

2008 سے 2018 تک کا عرصہ افغان پالیسی میں کنفیوژن کی دہائی ثابت ہوا۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی حکومتوں کے دوران جنرل کیانی اور پھر جنرل راحیل شریف کے ادوار آئے۔ افغان طالبان سے اسٹریٹجک ہیجنگ جاری رہی، جبکہ ٹی ٹی پی کے خلاف اندرونِ ملک جنگ لڑی جاتی رہی۔ یہ دوہری پالیسی آخرکار دسمبر 2014 میں آرمی پبلک سکول پشاور کے سانحے پر ٹوٹ گئی۔ بچوں کے خون نے ریاستی ابہام کا خاتمہ کیا اور ضربِ عضب و ردالفساد جیسے فیصلہ کن آپریشنز شروع ہوئے، مگر یہ فیصلے بہت دیر سے آئے تھے۔

سابق وزیرِاعظم عمران خان اور جنرل قمر جاوید باجوہ کے دور میں افغان پالیسی نے ’’اسٹریٹجک ہیجنگ‘‘ کی نئی شکل اختیار کی۔ دوحہ مذاکرات میں سہولت کاری، طالبان سے روابط اور 2021 میں ان کی واپسی پر نرم بیانیہ اسی سوچ کا تسلسل تھا۔ جنرل فیض حمید کا دورہ کابل اور میڈیا میں طالبان کے بارے میں رومانوی تاثر اس پالیسی کی علامت بن گیا۔ اس دوران ٹی ٹی پی سے بات چیت اور ری انٹیگریشن فریم ورک جیسے تجربات کیے گئے، جن کے اثرات بعد میں زیادہ شدت سے سامنے آئے۔

یہاں یہ نکتہ واضح کرنا ناگزیر ہے کہ آج جب فوج کے ترجمان اور ریاستی بیانیہ پاکستان میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی، بدامنی اور پاک–افغان سرحدی کشیدگی کی ذمہ داری صرف سابق وزیرِاعظم عمران خان پر ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں تو یہ مؤقف تاریخی حقائق اور پالیسی تسلسل کے سامنے کمزور پڑ جاتا ہے۔

دہشت گردی، ٹی ٹی پی کی بحالی، افغان طالبان کی سخت گیری، اور سرحدی جھڑپیں کسی ایک حکومت کے تین یا چار سالہ دور کا نتیجہ نہیں بلکہ سات دہائیوں پر محیط ایک ایسی افغان پالیسی کا منطقی انجام ہیں جس کی تشکیل، نفاذ اور سمت کا اختیار مسلسل ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے پاس رہا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ عمران خان کی حکومت میں افغان پالیسی کے کچھ بیانیہ جاتی اور سفارتی پہلو ضرور نمایاں ہوئے، مگر پالیسی کی اصل ڈرائیونگ سیٹ نہ ان کے ہاتھ میں تھی اور نہ ان سے پہلے کسی اور سویلین وزیرِاعظم کے پاس رہی۔

کڑوا سچ یہ ہے کہ پاکستان کی افغان پالیسی فیلڈ مارشل جنرل ایوب خانکے دور میں عسکری زاویے سے متعین ہوئی، جنرل ضیاءالحق کے زمانے میں مذہبی عسکری شکل اختیار کر گئی، 1990 کی دہائی میں اسٹریٹجک ڈیپتھ کے خواب میں الجھی رہی، جنرل پرویز مشرف کے دور میں روشن خیال آدھے یوٹرن کا شکار ہوئی، اور2008 سے 2022 تک اسٹریٹجک ہیجنگ کے نام پر تاخیر کا شکار رہی۔

نومبر 2022 کے بعد فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کے دور میں افغان پالیسی میں کنفیوژن کے بجائے کلیریٹی نظر آتی ہے۔مگر اس حقیقیت کو نظرانداز کرنا بھی ممکن نہیں کہ یہ کلیریٹی مفاہمت کی بجائے تصادم کی ہے۔ یوں ٹی ٹی پی کے خلاف سخت لائن، افغان طالبان سے کشیدہ تعلقات اور سرحدی جھڑپیں اسی نئی پالیسی کا حصہ ہیں۔

موجودہ صورتحال، جس میں دہشت گردی دوبارہ سر اٹھا رہی ہے اور پاک–افغان تعلقات نیم جنگی کیفیت اختیار کر چکے ہیں، دراصل انہی عسکری فیصلوں کا تاخیر سے آنے والا ردِعمل ہے، نہ کہ کسی ایک سیاسی حکومت کا اچانک پیدا کردہ بحران۔ جسے اب شاید صرف سیکیورٹی اقدامات سے سنبھالنا ممکن نہیں رہا۔

یہ بھی ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ افغانستان، دہشت گردی اور سرحدی سلامتی جیسے معاملات ہمیشہ ’’نیشنل سیکیورٹی‘‘ کے نام پر پارلیمنٹ اور عوامی احتساب سے دور رکھے گئے اور اب بھی رکھے جارہے ہیں۔ سویلین حکومتیں—چاہے وہ عمران خان کی ہوں یا اس سے پہلے اور بعد کی—زیادہ سے زیادہ شریکِ بیانیہ رہیں، شریکِ اختیار نہیں۔ اس لیے آج اگر ریاستی ترجمان موجودہ بدامنی کا بوجھ صرف ایک سیاسی لیڈر پر ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں تو یہ دراصل ادارہ جاتی پالیسیوں کی اجتماعی ذمہ داری سے فرار کے مترادف ہے۔

اگر 1958 سے 2026 آج تک کے پورے سفر کو دیکھا جائے تو نتیجہ نہایت تلخ ہے۔ افغانستان، جسے کبھی اسٹریٹجک ڈیپتھ سمجھا گیا، آج بھارت کے بعد پاکستان کے لیے دوسرا بڑا سیکیورٹی چیلنج بن چکا ہے۔ یہ ناکامی کسی ایک وزیراعظم یا ایک جنرل کی نہیں، بلکہ ایک مسلسل عسکری مرکزیت رکھنے والی سوچ کی ہے، جس میں سیاست دان شریکِ بیانیہ رہے اور ریاست نے سفارت، معیشت، مفاہمت اور عوامی بیانیے کو پسِ پشت ڈال کر صرف بندوق پر انحصار کیا۔

پاکستان میں دہشت گردی، پاک–افغان کشیدگی اور بارڈر کی بگڑتی صورتحال کسی ایک فرد یا جماعت کی نہیں بلکہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی اس افغان پالیسی کا نتیجہ ہے جو جنرل ایوب خان سے شروع ہو کر جنرل عاصم منیر تک مختلف شکلوں میں جاری رہی۔ اس حقیقت کو تسلیم کیے بغیر نہ ماضی کی اصلاح ممکن ہے اور نہ مستقبل میں امن کی کوئی سنجیدہ امید باندھی جا سکتی ہے۔

آج یہی پاکستان کی افغان پالیسی کا المیہ ہے کہ—ایک ایسی پالیسی جو فیلڈ مارشل سے فیلڈ مارشل تک چلی، مگر نہ افغانستان کو دوست بنا سکی، نہ پاکستان کو امن دے سکی۔

نوٹ: فیاض راجہ گزشتہ 25 برسوں سے صحافت کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ نوائے وقت گروپ، جنگ گروپ، ڈان گروپ اور ہم نیٹ ورک سے بطور خارجہ اور دفاعی امور کے رپورٹر، فیچر پروڈیوسر، مضمون نگار اور تجزیہ نگار وابستہ رہے ہیں۔ آج کل فری لانسر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے