پلاننگ اور مہنگائی

یہ بات جاننا اور ماننا دونوں ضروری ہے کہ مہنگائی اور پلاننگ کا آپس میں گہرا اور براہ راست تعلق ہے۔

انسان کم آمدن والا ہو یا سرکاری ملازم جو صرف حلال تنخواہ پر اکتفا کرتا ہو اور حرام ذرائع سے سختی سے پرہیز کرتا ہو، اس کے لیے منصوبہ بندی زندگی کی بنیادی ضرورت بن جاتی ہے۔ اگر وہ بغیر کسی پلاننگ کے یوں ہی دن گزار دے تو جلد یا بدیر حالات کے تھپیڑوں کا شکار ہو جاتا ہے۔

مجھ پر اللہ کا خاص فضل رہا ہے کہ جب سے ہوش سنبھالا، کچھ بنیادی چیزوں کی آگاہی ساتھ ساتھ ملتی گئی جیسے کیریئر کا انتخاب ، ٹائم مینجمنٹ، وقت کی قدر، مطالعے کا شوق اور مستقبل کے لیے منصوبہ بندی، وہ بھی زمینی حقیقتوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے۔ ان امور میں ہمیشہ یہ احساس غالب رہا کہ اللہ تعالیٰ کی مدد و نصرت شامل حال ہے، ورنہ انسان خود اپنی تدبیروں سے کچھ نہیں کر پاتا۔

2021 میں جب میری ایم فل مکمل ہوئی تو میں نے باقاعدہ بیٹھ کر طویل غور و خوض کیا۔ مستقبل کے کئی منصوبے سامنے تھے، مگر دو کام ایسے تھے جو ترجیحات میں سب سے اوپر تھے۔ ایک پی ایچ ڈی اور دوسرا مکان کی تعمیر۔

یہ دونوں منصوبے میری اولین ترجیحات میں شامل تھے، مگر سوال یہ تھا کہ پہلے کون سا شروع کیا جائے۔

میرے لیے پی ایچ ڈی کے مقابلے میں ، گھر بنانا بہت زیادہ مشکل تھا، اس لیے منوبہ بندی اور سیونگ کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے پہلے مشکل سے نمٹنے کا فیصلہ کیا اور یہ طے کیا کہ پہلے مکان مکمل کیا جائے اور پھر پوری یکسوئی کے ساتھ پی ایچ ڈی کی جائے تاکہ ایک معیاری اور سنجیدہ علمی کام ہو سکے۔ ویسے بھی مکان کے نقشے میں مستقل لائبریری اور اسٹڈی روم شامل تھا، اس لیے یہ فیصلہ مزید مضبوط ہو گیا کہ پہلے چھت میسر آ جائے، پھر تحقیق کا سفر شروع کیا جائے۔

چنانچہ 2022 کے آغاز میں گلگت شہر سے پڑی بنگلہ منتقل ہوا اور مکان کی تعمیر کا آغاز کر دیا۔ مارچ 2022 میں سیمنٹ کا ریٹ تقریباً 900 روپے تھا، مگر جیسے ہی کام شروع ہوا، سیمنٹ مہنگا ہونا شروع ہو گیا، بڑھتے بڑھتے 1900 پر جاپہنچا۔ صرف سیمنٹ ہی نہیں، تعمیرات کا سارا مٹیریل یکے بعد دیگرے مہنگا ہونے لگا۔ اسٹیل جو ڈیڑھ لاکھ کے قریب تھا، بڑھتے بڑھتے دو لاکھ ساٹھ ہزار تک جا پہنچا۔ تیل بھی مہنگا ہوا، مزدوری بڑھی، اور ہر نیا دن نئی قیمت کے ساتھ طلوع ہونے لگا۔

مئی 2022 میں عمران خان کی حکومت کے جانے کے بعد تو جملہ اشیائے ضروریہ اور تعمیراتی سامان کی قیمتوں میں ایسا طوفانی اضافہ ہوا کہ ساری مجوزہ پلاننگ خاک میں مل گئی۔ آج کی اصطلاح میں وڑ گئی۔ یوں محسوس ہوا جیسے حساب کتاب کی کاپیاں اچانک کسی نے الٹ پلٹ کر دی ہوں۔

ہر چیز کی قیمت تقریباً تگنی ہو چکی ہے۔ ایسے حالات میں وہ پلاننگ جو بڑی محنت اور امید کے ساتھ ترتیب دی گئی تھی، بری طرح لڑکھڑا گئی۔ میرا خیال تھا کہ 2025 کے درمیانی عرصے تک گھر مکمل ہو جائے گا اور پھر یکسوئی کے ساتھ پی ایچ ڈی کا آغاز کروں گا، مگر ایسا نہ ہو سکا۔

میں نے بھرپور پلاننگ کی تھی، مگر مہنگائی نے واقعی کچومر نکال کر رکھ دیا۔ ادھر ادھر بہت ہاتھ پاؤں مارے کہ کہیں سے قرض حسنہ مل جائے اور گھر کی فوری تکمیل ہو جائے، مگر حالات مزید گھمبیر ہوتے چلے گئے۔ یوں طے پایا کہ اگر 2026 کے آخر تک گھر کے جھنجھٹوں سے جان چھوٹ گئی تو 2027 میں پی ایچ ڈی کے لیے خود کو یکسو کر لوں گا۔

یہ سارا ایک طویل، کٹھن اور سبق آموز تجربہ تھا جس نے عملاً یہ بات سمجھا دی کہ مہنگائی اور پلاننگ کا واقعی گہرا تعلق ہے۔ جب انسان کے منصوبے براہ راست مالی معاملات سے جڑے ہوں تو ذرا سی معاشی ہلچل بھی انسان کو ذہنی طور پر شدید طور پر ڈسٹرب کر دیتی ہے۔

اسی لیے ایسے بڑے منصوبوں کی تکمیل کے لیے ابتدا ہی میں ایک سے زائد ذرائع اور متبادل راستے سوچ لینے چاہییں، تاکہ اگر ایک راستہ بند ہو جائے تو باقی منصوبے بھی اس کے ساتھ دفن نہ ہو جائیں۔ بصورت دیگر مہنگائی صرف جیب کو نہیں کاٹتی، انسان کے خوابوں، ترجیحات اور رفتار زندگی کو بھی شدید متاثر کر دیتی ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے