پاکستانی سیاست میں اگر کوئی شے مستقل رہی ہے تو وہ ہے افواہ، قیاس آرائی اور خواہش کو خبر بنانے کا رجحان۔
اقتدار کے ایوان ہوں یا سوشل میڈیا کے شور زدہ چبوترے، ہر دور میں کچھ ایسے “نادان دوست” ضرور پیدا ہو جاتے ہیں جو کسی خیالی دراڑ، مفروضہ اختلاف یا خوابیدہ تصادم پر لڈیاں ڈالنا اپنا قومی فریضہ سمجھ بیٹھتے ہیں۔ حالیہ دنوں حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان مبینہ فاصلے، اختلافات اور “سیم پیج” کے خاتمے کی خبریں بھی اسی قبیل کی ایک کڑی ہیں، جنہیں نہ صرف بار بار دہرایا جا رہا ہے بلکہ انہیں مستقبل کی کسی بڑی سیاسی آندھی کا پیش خیمہ بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔
حقیقت مگر اس کے بالکل برعکس ہے۔ دونوں اطراف کی مصدقہ، سنجیدہ اور ذمہ دار سطح پر دستیاب معلومات ایک ہی بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ موجودہ سیاسی نظم میں نہ کسی دراڑ کی گنجائش ہے اور نہ ہی کسی اختلاف کا کوئی حقیقی وجود۔ خاص طور پر جب “ونڈر بوائے” شہباز شریف جیسا منتظم، عملیت پسند اور اسٹیبلشمنٹ کے مزاج کو سمجھنے والا سیاسی کردار وزیراعظم کی کرسی پر موجود ہو، تو ایسی خواہشی خبروں کی بنیاد خود بخود کمزور ہو جاتی ہے۔
یہ کوئی راز نہیں کہ شہباز شریف کا سیاسی انداز نعروں، تصادم اور جذباتی سیاست سے زیادہ نظم، کارکردگی اور ادارہ جاتی توازن پر قائم رہا ہے۔ وہ سیاست کو جنگ نہیں بلکہ مینجمنٹ سمجھتے ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ ان کے ہوتے ہوئے کسی ادارے سے محاذ آرائی کی گنجائش ازخود ختم ہو جاتی ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جسے نظر انداز کر کے بعض یوٹیوبرز، نیم سیاسی تجزیہ کار اور “دو نمبری صحافت” کے علمبردار دن رات ایک ایسے بیانیے کو ہوا دے رہے ہیں جس کا زمین پر کوئی وجود نہیں۔
“حکومت میں اختلافات بڑھ گئے ہیں”،
“اتحادی ناراض ہیں”،
“اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ فاصلے پیدا ہو رہے ہیں”،
“سیم پیج نہیں رہا”،
“اگلے چند مہینے فیصلہ کن ہیں”
یہ وہ جملے ہیں جو پچھلے کئی مہینوں سے گھسیٹے جا رہے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہر چند ہفتوں بعد یہی جملے نئے عنوان، نئی ویڈیو اور نئے تجزیے کے ساتھ دوبارہ پیش کر دیے جاتے ہیں، مگر نتیجہ صفر رہتا ہے۔ نہ حکومت گرتی ہے، نہ اتحادی الگ ہوتے ہیں، نہ کسی آئینی بحران کا جنم ہوتا ہے، اور نہ ہی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے کسی ناراضگی کا کوئی عملی مظہر سامنے آتا ہے۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان میں خواہش کو خبر اور امکان کو حقیقت بنا کر پیش کرنے کی ایک پوری صنعت وجود میں آ چکی ہے۔ یوٹیوب چینلز، فیس بک پیجز اور خود ساختہ “اندرونی ذرائع” رکھنے والے تجزیہ کار، ریاستی نظام کی حساسیت کو سمجھے بغیر روزانہ نئی سنسنی تخلیق کرتے ہیں۔
یہی وہ “ہوائی ذرائع” ہیں جن پر بھروسہ کر کے بعض سادہ لوح افراد نہ صرف خود گمراہ ہوتے ہیں بلکہ اجتماعی سیاسی شعور کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔
سیاسی عدم استحکام کسی دن اچانک نازل نہیں ہوتا، بلکہ اس کی بنیادیں افواہوں، شکوک اور مسلسل منفی بیانیے سے رکھی جاتی ہیں۔ جب ریاستی اداروں کے درمیان عدم اعتماد کی کہانیاں بغیر تحقیق کے عام کی جائیں، جب حکومت کو کمزور دکھانے کی خواہش خبر بن جائے، اور جب ہر خاموشی کو طوفان کا پیش خیمہ قرار دیا جائے، تو نتیجہ صرف ایک ہوتا ہے: بے یقینی، اضطراب اور غیر ضروری سیاسی تناؤ۔
لیکن اس بار منظرنامہ کچھ مختلف ہے۔ حالیہ مہینوں میں یہ واضح طور پر محسوس کیا گیا ہے کہ ہر فیک نیوز، ہر سازشی قیاس آرائی، ہر من گھڑت تجزیے اور ہر شغلی صحافتی درفتنی پر نہ صرف گہری نظر رکھی جا رہی ہے بلکہ بروقت اس کا تدارک بھی کیا جا رہا ہے۔ ریاستی اور حکومتی سطح پر یہ ادراک پیدا ہو چکا ہے کہ معلومات کی جنگ روایتی محاذوں سے زیادہ خطرناک ہے، اور اگر اس میں غفلت برتی گئی تو نقصان ناقابلِ تلافی ہو سکتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اپنی صفوں میں موجود وہ “باریک وارداتیے” بھی اب نشانے پر ہیں جو بظاہر اپنوں میں شامل ہو کر اندر سے بیانیے کو کمزور کرتے ہیں۔ یہ وہ عناصر ہوتے ہیں جو براہ راست مخالفت نہیں کرتے، مگر “لیک”، “اشارے” اور “سافٹ سوالات” کے ذریعے شکوک پیدا کرتے ہیں۔ ماضی میں ایسے کردار اکثر نظر انداز کر دیے جاتے تھے، مگر اب انہیں بھی نقصان دہ سمجھا جا رہا ہے، اور یہ ایک خوش آئند تبدیلی ہے۔
“ونڈر بوائے” سے “چھ ماہ” تک کی حالیہ صحافتی شرارت اس کی ایک واضح مثال ہے۔ چند صحافیوں اور وی لاگرز نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ شہباز شریف کی مدت محدود ہے، یا انہیں کسی “عبوری بندوبست” کے تحت لایا گیا ہے۔ یہ تاثر نہ صرف بے بنیاد تھا بلکہ دانستہ طور پر سیاسی فضا کو آلودہ کرنے کی کوشش بھی تھا۔ مگر جس انداز میں اس بیانیے کو بروقت سنبھالا گیا، اسے نیوٹرلائز کیا گیا اور غیر مؤثر بنایا گیا، وہ اس ڈیوٹی پر مامور دماغوں کی اسٹریٹجک اپروچ اور کامیاب حکمت عملی کا ایک مثالی نمونہ ہے۔
یہ بات اب واضح ہو چکی ہے کہ ریاستی سطح پر محض ردِعمل نہیں بلکہ پیش بندی کی حکمت عملی اپنائی جا رہی ہے۔ افواہ پھیلنے کے بعد وضاحت دینے کے بجائے، افواہ کے امکانات کو ہی ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ وہ تبدیلی ہے جس کی کمی ماضی میں شدت سے محسوس کی جاتی رہی، اور جس کی عدم موجودگی نے کئی بار سیاسی بحرانوں کو جنم دیا۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان جیسے ملک میں جہاں سیاست، معیشت اور سلامتی ایک دوسرے سے گہرائی میں جڑی ہوں، وہاں غیر ذمہ دارانہ صحافت محض رائے نہیں بلکہ ایک خطرہ بن جاتی ہے۔ ہر تجزیہ آزادیِ اظہار کے زمرے میں نہیں آتا، اور ہر سوال معصوم نہیں ہوتا۔ جب سوال کا مقصد معلومات نہیں بلکہ شکوک پیدا کرنا ہو، تو وہ صحافت نہیں بلکہ پراپیگنڈا بن جاتا ہے۔
آج کی صورتحال میں نہ کوئی سیاسی خلا ہے، نہ کوئی متبادل صف بندی، اور نہ ہی کوئی “مقابل” دور دور تک نظر آتا ہے۔ بلکہ بہت دور تک۔ یہی وہ حقیقت ہے جو بعض حلقوں کو سب سے زیادہ پریشان کرتی ہے۔ کیونکہ جب سیاست میں غیر یقینی ختم ہو جائے، تو سنسنی کی دکانیں بند ہونے لگتی ہیں، اور یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب افواہ ساز سب سے زیادہ سرگرم ہو جاتے ہیں۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ پاکستان اس وقت جس نازک مگر نسبتاً مستحکم مرحلے سے گزر رہا ہے، وہاں سب سے بڑی ذمہ داری شعور، برداشت اور ذمہ دارانہ رویے کی ہے۔ اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہے، مگر خواہشی خبریں، من گھڑت تجزیے اور اداروں کے درمیان خیالی دراڑیں پیدا کرنا نہ سیاست ہے، نہ صحافت، بلکہ قومی نقصان ہے۔
وقت کا تقاضا یہی ہے کہ افواہ اور حقیقت میں فرق پہچانا جائے، شور اور خبر کو الگ کیا جائے، اور “ونڈر بوائے” کے ہوتے ہوئے سیاسی استحکام کے اس موقع کو خواہشات کی بھینٹ نہ چڑھایا جائے۔ کیونکہ ریاستیں سازشوں سے نہیں، حکمت سے چلتی ہیں، اور اس بار بظاہر حکمت غالب ہے۔