کچھ نام وقت کے ساتھ محض خبر نہیں رہتے وہ ایک سوال بن جاتے ہیں۔ کچھ آوازیں وقتی نہیں ہوتیں بلکہ سماج کے ضمیر میں گونجتی ہیں۔ روخانہ رحیم وزیر بھی آج ایسی ہی ایک آواز ہیں جو خاموشی میں قید ہے مگر سوال بن کر زندہ ہے۔
روخانہ رحیم وزیر وزیرستان سے تعلق رکھنے والی ایک پاکستانی صحافی ہیں جو وقار، سنجیدگی اور ذمہ دارانہ صحافت کی پہچان سمجھی جاتی ہیں۔ برسوں سے اسلام آباد میں مقیم رہتے ہوئے انہوں نے صحافت کو محض روزگار نہیں بلکہ سماجی ذمہ داری سمجھا۔ ان کی تحریروں میں اشتعال یا نفرت نہیں بلکہ دلیل، شعور اور انسان دوستی نمایاں رہی۔
ویسے تو ہماری تنظیم "نوے ژوند ادبی، ثقافتی اور فلاحی تنظیم” اسلام آباد میں متعدد صحافی دوستوں کے ساتھ کام کرتی رہی ہے اور مختلف ادوار میں مختلف صحافی ہمارے پریس سیکشن کا حصہ رہے ہیں مگر روخانہ رحیم وزیر کے کالم، ان کا طرزِ عمل، وطن سے محبت اور فلاحی و سماجی کام دیکھ کر میں نے تنظیم کے دوستوں سے مشورہ کیا کہ انہیں باقاعدہ پریس سیکشن کی ذمہ داری دی جائے۔ جب انہیں یہ ذمہ داری سونپی گئی تو اسی دن سے ہماری ہر رپورٹ، ہر پریس ریلیز اور ہر کالم انہوں نے غیر معمولی خلوص اور محنت سے تیار کیا۔ ہماری تقریبات کی خبریں مختلف اخبارات اور نیوز ویب سائٹس پر باقاعدگی سے شائع ہوتی رہیں۔ ان کا کام محض پیشہ ورانہ نہیں بلکہ جذبۂ خدمت سے سرشار تھا۔
جو بھی ذمہ داری وہ نبھاتی ہیں، اس میں سب سے پہلے وطن سے محبت، انسانیت سے لگاؤ اور معاشرتی فلاح کا جذبہ نمایاں ہوتا ہے۔ اسی اخلاص کی بدولت انہوں نے ہم سب کے دلوں میں عزت اور اعتماد کا مستقل مقام بنایا کیونکہ وطن، انسانیت اور سماجی بھلائی کے لیے کام کرنا ہی ہماری تنظیم کا منشور ہے اور روخانہ رحیم وزیر اس پر سو فیصد پورا اترتی ہیں۔
انہوں نے ریڈیو پاکستان اسلام آباد جیسے قومی ادارے میں خدمات انجام دیں، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد سے وابستہ رہیں اور مختلف معتبر فورمز پر نہایت مہذب اور پروفیشنل انداز میں کام کیا۔ ان کا قلم کسی ایک ادارے تک محدود نہیں رہا بلکہ مختلف فکری و سماجی موضوعات پر اپنی شناخت قائم کرتا رہا۔
ان کا تعلق ایک تعلیم یافتہ اور باعزت خاندان سے ہے جہاں برداشت، دلیل اور مکالمے کو بنیادی قدر سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تحریروں میں تلخی کے بجائے وقار اور الزام کے بجائے گفتگو نظر آتی ہے۔
علامہ اقبالؒ سے ان کی فکری وابستگی بھی ان کے کالموں میں واضح دکھائی دیتی ہے جہاں خودی، امن، اخوت اور انسان کی عظمت مرکزی خیال رہے۔
پاک افغان تعلقات ہوں یا خطے میں جنگ و نفرت کے اثرات، روخانہ رحیم وزیر نے ہمیشہ توازن، امن اور مکالمے کی بات کی۔ وہ سرحدوں کے بجائے انسانوں کے دکھ پر لکھتی رہیں۔ بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت آمیز رویوں، ادب، ثقافت اور فلاحی موضوعات پر ان کی تحریریں محض کالم نہیں بلکہ انسانی ضمیر کی آواز تھیں۔
افسوس کہ آج یہی صحافی خود ایک کڑے امتحان سے گزر رہی ہیں۔
روخانہ رحیم وزیر کی انسان دوستی اور حساس طبیعت کا اندازہ مجھے ذاتی طور پر اس دن ہوا جب میں نے معروف صحافی روخان یوسفزئی کے بیٹے زریاب خان پر کینسر جیسے حساس موضوع پر بننے والی ڈاکومنٹری کے لیے ان سے مشورہ کیا۔ انہوں نے نہ صرف انتہائی مخلص اور پیشہ ورانہ مشورے دیے بلکہ ویڈیو کی تیاری میں عملی مدد بھی کی۔ اس کے ساتھ انہوں نے روخان یوسفزئی کی کتابیں اس نیت سے خریدیں کہ مالی مدد بھی ہو جائے اور عزتِ نفس بھی مجروح نہ ہو۔ اسی طرح ایک اور موقع پر جب میں نے انہیں بونیر کی ایک غریب اور یتیم لڑکی کے جہیز کے لیے حسبِ استطاعت مدد کا بتایا تو انہوں نے گھر کے افراد سے پیسے اکٹھے کیے اور دس ہزار روپے مجھے بھجوا دیے۔ یہ واقعات اس بات کی گواہی ہیں کہ ان کی انسان دوستی محض تحریروں تک محدود نہیں بلکہ عملی کردار میں بھی نمایاں ہے۔
اسی طرح نومبر 2025 کو اسلام آباد کچہری کے سامنے ہونے والے خودکش حملے کے بعد، جب پورا اسلام آباد سوگ اور صدمے کی کیفیت میں تھا، روخانہ رحیم وزیر نے اس دن مجھے کہا کہ یہ بہت بڑا ظلم ہے اور ہم سب اس غم میں برابر کے شریک ہیں۔ انہوں نے سب سے پہلے اپنی فلاحی تنظیم کی جانب سے اس واقعے کی مذمت پر مبنی بیان فیس بک پیج پر شائع کیا، اسے مختلف اخبارات کو بھی ارسال کیا اور واضح الفاظ میں مطالبہ کیا کہ وطن عزيز کے امن کو تباہ کرنے والوں کو سخت سزا دی جائے اور ایسے واقعات کے تدارک کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ وہ یہ کہتی تهیں کہ جو بھی شہید ہوئے وہ ہمارے اپنے تھے اور ان کے بچے بھی ہمارے ہی بچے ہیں۔ یہ مؤقف اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ان کی محبت اس سرزمین، اس کے لوگوں اور امن کے ساتھ گہری اور غیر متزلزل ہے۔
چند ہفتے قبل روخانہ رحیم وزیر کو ان کے خاندان سمیت افغان شہری ہونے کے شبے میں گرفتار کیا گیا۔ ان کا مؤقف ہے کہ وہ پاکستانی شہری ہیں، ان کا قومی شناختی کارڈ بلاک ہے جو سابقہ فاٹا اور قبائلی اضلاع کے کئی شہریوں کے ساتھ ایک انتظامی عمل کے تحت ہوتا رہا ہے اور بعد ازاں تصدیق کے بعد بحال بھی ہو جاتا ہے۔
ابتدا میں انہیں ڈی پورٹ کرنے کی کوشش کی گئی مگر قانونی کارروائی سامنے آنے کے بعد انہیں اسلام آباد کے حاجی کیمپ منتقل کر دیا گیا جو افغان مہاجرین کے لیے قائم سب جیل کی حیثیت رکھتا ہے۔ وہ ایک ماہ سے زائد عرصے سے اپنے خاندان سمیت وہاں قید ہیں۔ یہ حراست وقتی نہیں رہی بلکہ ایک مسلسل ذہنی، نفسیاتی اور سماجی اذیت بن چکی ہے جہاں نہ بیرونی رابطہ ہے اور نہ مؤثر آواز۔
یہ معاملہ اس وقت اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت ہے۔ موجودہ ملکی حالات اور قانون کے تقاضوں کے تحت افغان مہاجرین سے متعلق جو حکومتی احکامات جاری ہیں، سیکیورٹی ایجنسیاں ان پر اپنی ذمہ داری کے مطابق عمل کر رہی ہیں۔ جہاں کسی پر شک ہوتا ہے وہاں تحقیقات کی جاتی ہیں اگر کوئی افغان شہری ثابت ہو تو اسے واپس بھیجا جاتا ہے اور اگر کوئی پاکستانی شہری ہو تو اسے رہا کیا جاتا ہے۔ یہ ان اداروں کی آئینی اور قانونی ڈیوٹی ہے اور وہ یہ فرائض انجام دے رہے ہیں۔
تاہم اس کیس میں ایک افسوسناک پہلو یہ بھی ہے کہ دسمبر کے آخری عشرے میں عدالتوں کی مسلسل چھٹیوں کے باعث روخانہ رحیم وزیر کا کیس بروقت سماعت کے لیے مقرر نہ ہو سکا۔ یہ صورتِ حال ہمارے عدالتی نظام پر ایک سوالیہ نشان ہے کہ محض تعطیلات کی وجہ سے ایک شہری اور اس کا خاندان ایک ماہ سے زائد عرصے تک قید میں رہے اور انہیں اپنی بات عدالت کے سامنے رکھنے کا موقع تک نہ مل سکا۔ انصاف میں تاخیر، انصاف سے انکار کے مترادف سمجھی جاتی ہے۔ جب کوئی کیس عدالت میں ہو تو قانون کا تقاضا یہی ہے کہ فیصلے سے قبل شہریوں کو غیر ضروری اور طویل قید میں نہ رکھا جائے۔ تحقیقاتی عمل اپنی جگہ مگر انصاف کی روح یہ ہے کہ شک کو سزا نہ بنایا جائے۔
سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ خواتین اور بچوں کو بھی اسی سب جیل میں رکھا گیا ہے۔ حکومت اور ریاستی اداروں سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ جب تک سیکیورٹی ایجنسیز کی تحقیقات مکمل نہیں ہوتیں، خواتین کو عزت، احترام اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر گھروں میں رہنے کی اجازت دی جائے۔ خواتین کے ساتھ خصوصی خیال رکھنا پاکستان کے آئین، اسلامی اقدار اور ہماری ثقافت کا بنیادی تقاضا ہے۔
اس معاملے کا سب سے دردناک پہلو روخانہ رحیم وزیر کی والدہ ہیں جن کا دو ماہ قبل کولہے کا آپریشن ہوا تھا۔ وہ بیمار اور اکیلی ہیں جبکہ خاندان کے دیگر افراد حاجی کیمپ سب جیل میں قید ہیں۔ یہ صورتِ حال محض قانونی نہیں بلکہ گہری انسانی اذیت کی تصویر ہے۔
ایک سنجیدہ، نفیس اور انسان دوست قلم کار کا ایک ماہ تک قید میں رہنا صرف جسمانی پابندی نہیں بلکہ شدید ذہنی اور روحانی کرب بھی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس اذیت کا ازالہ کون کرے گا؟ اگر وہ پاکستانی شہری ہیں تو ان کی فوری اور باعزت رہائی ہونی چاہیے اور اگر وہ افغان شہری ثابت بھی ہوتی ہیں تو فیصلہ قانون، وقار اور انسانی حقوق کے دائرے میں ہونا چاہیے نہ کہ شبے اور عجلت کی بنیاد پر۔
یہ معاملہ محض ایک فرد یا خاندان کا نہیں بلکہ ہمارے نظامِ انصاف کا امتحان ہے۔
آخر میں حکومتِ وقت سے پُرزور اپیل ہے کہ وہ اس پہلو پر بھی غور کرے کہ ایک ماہ سے ایک ذمہ دار قلم کار قلم اٹھانے سے قاصر ہے اور شدید ذہنی اذیت سے دوچار ہے۔ اگر روخانہ رحیم وزیر قید میں نہ ہوتیں تو اس ایک ماہ کے دوران وہ روزانہ کی بنیاد پر معاشرے کی اصلاح، امن، انسان دوستی اور فکری شعور کے لیے بے شمار سطور رقم کر سکتی تھیں جو یقیناً ہمارے ملک اور اس کے لوگوں کے لیے فائدہ مند ہوتیں۔ ایک قلم کو خاموش کرنا دراصل سماج کے فکری نقصان کے مترادف ہے جس کا ازالہ بعد میں ممکن نہیں ہوتا۔ یہ فیصلہ عدالت کو کرنا ہے جیل کو نہیں۔ عدالت عاليہ سے استدعا ہے پاکستان کے آئين کی اصل روح کے مطابق انسانی ہمدردی کی بنياد پر انہیں گهر بهيج کر ايک قلمکار کو ذہنی طور پر تباه ہونے اور ايک خاندان کی عزت اور وقار کو معاشرے میں رسوا اور نيلام ہونے سے بچايا جائے۔