عمرِعزیزرفت؛ پروفیسر محمد یعقوب شاہقؔ

پروفیسر محمد یعقوب شاہق کی شخصیت کی اتنی متنوع جہات ہیں کہ ہر ایک جہت ایک الگ موضوع کی متقاضی ہے مگر اس تحریر میں ہم ان کی شخصیت کا بطور قلم کار تجزیہ کرنے کی کوشش کریں گے اور ان کی خودنوشت ”عمرِ عزیز رفت“ کو اپنا موضوع بنائیں گے۔ پروفیسر محمد یعقوب شاہق ایک شفیق استاد ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اعلیٰ پائے کے شاعر اور ادیب بھی تھے۔آپ ۹ نومبر ۲۴۹۱ء کو ضلع باغ آزاد کشمیر کے ایک پسماندہ گاؤں ”جھڑ“ (غنی آباد) میں پیدا ہوئے۔آپ کے والدنے اس وقت کے رواج کے مطابق حصولِ رزق کی خاطر برطانوی فوج میں شمولیت اختیار کی اور وہ زیادہ تر گھر سے دور رہے۔آپ کی پرورش والدہ ماجدہ کے سپرد تھی جنھوں نے اس کا صحیح معنوں میں حق ادا کیا۔

جب محمد یعقوب شاہق چار سال کے ہوئے تو والدہ نے ان کی دینی تعلیم و تربیت کے لئے مولانا عبدالغنی ؒکے مدرسے کا انتخاب کیاجو موضع ”جھڑ“ ضلع باغ میں واقع تھا اور اسے مولانا عبدالغنیؒ نے ۳۴۹۱ء میں دارالعلوم دیوبند سے فراغت کے بعد قائم کیا تھا۔مولانا عبدالغنیؒ نے محمد یعقوب شاہق کی صلاحیتوں کو بہت جلد پرکھ لیا اور اس بچے پر خصوصی توجہ دی۔ دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ دنیاوی تعلیم کے مراحل بھی طے ہوتے رہے۔ محمد یعقوب شاہق نے ۱۲/اکتوبر۸۵۹۱ء کواپنی عملی زندگی کا آغازبحیثیت مدرس کیا۔ دورانِ ملازمت ایم اے اردو،فارسی اور علوم اسلامیہ کی ڈگریاں حاصل کیں۔۸/ فروری ۳۷۹۱ء کو لیکچرار تعینات ہوئے اور ۷۱/ جنوری ۱۸۹۱ء کو اسسٹنٹ پروفیسر بنا دیئے گئے۔یکم دسمبر۳۹۹۱ء کوبیسیویں (۰۲) گریڈ پربحیثیت پروفیسر ترقی پائی۔

آپ بہت عرصہ گورنمنٹ کالج دھیر کوٹ، گورنمنٹ کالج باغ اور گورنمنٹ کالج گڑھی دوپٹہ میں تدریسی خدمات انجام دیتے رہے۔گورنمنٹ کالج بالسیری(مظفرآباد) میں بطور پرنسپل خدمات انجام دینے کےبعد آپ نے یکم ستمبر۷۹۹۱ء کو نجی وجوہات کی بنا پر قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے لی۔ آپ آزاد کشمیرکالج ٹیچرز ایسوسی ایشن کے سیکرٹری اور صدر کے عہدے پر بھی فائز رہے۔

پروفیسر محمد یعقوب شاہق نے درس وتدریس کے ساتھ ساتھ اپنی تصنیفی سرگرمیاں بھی جاری ر کھیں۔آپ نے جون ۶۸۹۱ء میں اپنے استادمولانا عبدالغنیؒ کی محبت میں ”فیض الغنی“تصنیف کی جو علمائے کشمیر کا تذکرہ ہے۔ نومبر۰۹۹۱ء میں آپ کی کتاب”تحریکِ آزادی کشمیر میں اساتذہ کا کردار“ شائع ہوئی۔۳۹۹۱ء میں ”ماہِ صیام۔نیکیوں کا موسم ِبہار“ اشاعت پذیر ہوئی۔علاوہ ازیں آپ کے شائع شدہ مضامین کا مجموعہ”بہار ہو کہ خزاں“ اور شعری مجموعہ ”مضراب“بھی شائع ہو چکے ہیں۔

اس وقت ہمارا موضوع پروفیسر محمد یعقوب شاہق کی خود نوشت ہے جو پہلی بار ۲۱۰۲ء میں اور بارِ دگر اگست ۹۱۰۲ء میں ادارہ علم وادب آزاد کشمیر کے زیرِ اہتمام شائع ہوئی۔ کتاب کا آغاز محمد یعقوب شاہق کی لکھی حمدِ باری تعالیٰ سے ہوتا ہے جو ان کے اعلیٰ شعری ذوق کی گواہی دے رہی ہے۔کسی بھی شخص کی سوانح عمری یا خودنوشت میں ہمیں عمومی طور پر اس شخصیت کی نجی زندگی کے متعلق معلومات ہی ملتی ہیں مگر”عمرِ عزیز رفت“ میں ہمیں پروفیسر صاحب کی نجی زندگی کے علاوہ اس زمانے کے سیاسی،سماجی اور معاشی حالات سے آگاہی ملتی ہے۔پروفیسرمحمدیعقوب شاہق صاحب کی شخصیت کی کئی جہتیں ہیں اس لئے ان کے تجربات اور مشاہدات بھی بہت وسیع ہیں۔

درس وتدریس سے وابستہ ہونے کے ساتھ ساتھ ان کی وابستگی مسلسل دین اورعلمائے دین سے بھی رہی۔ان کے نہ صرف آزاد کشمیر کے علماء سے قریبی مراسم تھے بلکہ پاکستان کے دیگر حصوں میں جنم لینے والی مذہبی تحریکوں سے بھی وہ بخوبی آگاہ تھے۔ حفیظ الرحمن احسن کی وساطت سے آپ کو۵۔اے ذیلدار پارک لاہور میں مولانا مودودیؒ کی محافل میں شریک ہونے کا موقع بھی ملتا رہا۔علاوہ ازیں آپ نے مولانا مودودیؒ سے چند خصوصی ملاقاتیں بھی کیں اوریوں آپ نے مولانا مودودیؒ سے براہِ راست اکتسابِ فیض کیا۔پروفیسرمحمد یعقوب شاہق کا ملک کے جیّد علماء سے خط وکتابت کا سلسلہ بھی جاری رہتا۔مفتی اعظم پاکستان مولانامحمد شفیع،مولانامحمد ادریس کاندھلوی،مولانا سیّد مظفر حسین ندوی،نعیم صدیقی،میاں طفیل محمد اور قاضی حسین احمد سے آپ کا اکثر خطوط کے ذریعے تبادلہ خیال ہوتارہا۔ نامور اہل قلم مختار مسعود،پروفیسر کرم حیدری،پروفیسر نصیرالدین ہمایوں،ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی،پروفیسر عبدالعلیم قریشی اور حفیظ الرحمن احسن کے ساتھ آپ کا مسلسل رابطہ رہا۔

پروفیسر محمدیعقوب شاہق نے اپنی خود نوشت میں تین سو سے زائد ایسے افراد کا تذکرہ کیا ہے جنھوں نے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں کار ہائے نمایاں سر انجام دیئے۔ان شخصیات میں پروفیسر شاہق صاحب کے ہم مکتب،بزرگ،دوست اور شاگرد سبھی شامل ہیں۔یوں یہ خودنوشت ایک طرف تذکرہ نگاری کا درجہ رکھتی ہے تو دوسری جانب یہ خاکہ نگاری کا بہترین نمونہ بھی ہے کیونکہ انھوں نے ان لوگوں کا تذکرہ کرتے ہوئے بعض اوقات ان کا سراپا اور ان شخصیات کی خوبیوں کا بھی احسن انداز میں بیان کیا ہے۔اس طرح یہ آپ بیتی جگ بیتی بن گئی جس میں اس زمانے کی تہذیب کی جھلک دیکھی جا سکتی ہے.

پروفیسر محمد یعقوب شاہق کو ڈائری لکھنے کی عادت تھی۔۸۵۹۱ء سے وہ نجی اور قومی اہم اور غیر اہم واقعات کو اپنی ڈائری میں رقم کرتے رہے۔اس خودنوشت میں انھوں نے اپنی ان ڈائریوں کی مدد سے ملکی اور بین الاقوامی سیاسی حالات کو قرطاس پر منتقل کیا ہے جو ایک مستقل تاریخ ہے۔ پروفیسرمحمد یعقوب شاہق کی آزاد کشمیر کی سیاسی شخصیات سے بھی ملاقاتیں رہیں۔سردار عبدالقیوم،سردار محمد ابراہیم،بیرسٹر سلطان محمود چوہدری،راجہ ممتاز حسین راٹھور،سردار عتیق احمد خان اور راجہ فاروق حیدر خان سے مختلف مواقع پر پروفیسر محمد یعقوب شاہق کا واسطہ پڑا۔ کبھی تعلیمی کانفرنسوں میں ان سیاسی شخصیات سے گفت وشنید رہی اور کبھی مذہبی اور سماجی تقریبات میں ان سے رابطہ استوار رہا۔چونکہ پروفیسرمحمد یعقوب شاہق ایک طویل عرصہ جماعت اسلامی آزادکشمیرسے بھی وابستہ رہے اس لئے ملکی سیاسی تاریخ پر ان کی خاص نظر تھی۔

تحریکِ جہادِ کشمیر کے متعلق بھی ہمیں اس خودنوشت میں بہت کچھ پڑھنے کو ملتا ہے۔ اس خودنوشت میں پروفیسر صاحب کے بیرونی اسفار کا ذکر بھی ہے۔اگر پروفیسر محمدیعقوب شاہق چاہتے تو ان اسفار سے ایک سفرنامہ بھی ترتیب دیا جا سکتا تھا مگر دیارِ مغرب کی سیروسیاحت کو انھوں نے اسی کتاب میں اختصار کے ساتھ بیان کرنا مناسب سمجھا۔اسی طرح سفرِ حج کی روداد بھی انھوں نے اسی خودنوشت کے ایک باب میں بیان کردی۔پروفیسر محمد یعقوب شاہق نے ۳۱/ مئی ۱۲۰۲ءکو وفات پائی۔ان کی ساڑھے چھ سو صفحات کی اس سوانح عمری میں ایک پوری سیاسی،سماجی اور تہذیبی تاریخ پڑھنے کو ملتی ہے جس میں نوجوانوں کے لئے ایک خاص پیغام ہے اور وہ پیغام یہ ہے کہ لگن،محنت اور کوشش سے ہرناممکن کو ممکن بنایا جا سکتا ہے.

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے