نوجوان، سیاسی اظہارِ رائے اور آئینی حقوق: پابندیوں کے کٹہرے میں کھڑا مستقبل

پاکستان ایک آئینی جمہوری ریاست ہے، جہاں اظہارِ رائے کو محض اخلاقی یا سماجی حق نہیں بلکہ ایک بنیادی آئینی ضمانت حاصل ہے۔ پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 19 ہر شہری کو آزادیِ اظہار اور معلومات تک رسائی کا حق دیتا ہے، جبکہ آرٹیکل 10-اے منصفانہ ٹرائل اور شفاف قانونی عمل کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔ اس کے باوجود، آج پاکستان کا نوجوان طبقہ انہی حقوق کے حصول کی جدوجہد میں سب سے زیادہ متاثر نظر آتا ہے۔

نوجوانوں کے لیے سوشل میڈیا اب صرف ایک ڈیجیٹل پلیٹ فارم نہیں بلکہ سیاسی شرکت کا واحد عملی ذریعہ بن چکا ہے۔ جب جلسے محدود ہوں، تنظیمیں دباؤ میں ہوں اور روایتی میڈیا پر قدغنیں ہوں، تو نوجوان فطری طور پر آن لائن دنیا کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ یہ رجحان کسی بغاوت کی علامت نہیں بلکہ آئینی حق کے استعمال کی ایک صورت ہے۔

تاہم حالیہ برسوں میں سیاسی رائے کے اظہار پر ریاستی ردِعمل ایک تشویشناک رخ اختیار کر چکا ہے۔ سوشل میڈیا پوسٹس، ویڈیوز اور حتیٰ کہ آن لائن مباحث میں شرکت پر نوجوانوں کی گرفتاریاں، ہراسانی اور طویل حراستیں آئینی روح سے متصادم نظر آتی ہیں۔ عدالتِ عظمیٰ اور ہائی کورٹس متعدد فیصلوں میں یہ اصول واضح کر چکی ہیں کہ اختلافِ رائے، چاہے کتنا ہی سخت کیوں نہ ہو، ریاست دشمنی کے مترادف نہیں ہو سکتا۔

سپریم کورٹ کے مختلف فیصلوں میں یہ مؤقف دہرایا گیا ہے کہ آزادیِ اظہار پر پابندیاں صرف اسی حد تک جائز ہیں جہاں وہ قانون، ضرورت اور تناسب کے اصول پر پوری اتریں۔ بغیر واضح الزام، شفاف ٹرائل اور قانونی تقاضوں کے، کسی شہری کو محض رائے کی بنیاد پر قید میں رکھنا نہ صرف آئین بلکہ عدالتی نظائر کی بھی خلاف ورزی ہے۔

بین الاقوامی انسانی حقوق کے تناظر میں بھی پاکستان پر واضح ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ پاکستان اقوامِ متحدہ کے عالمی اعلامیہ برائے انسانی حقوق (UDHR) اور بین الاقوامی معاہدہ برائے شہری و سیاسی حقوق (ICCPR) کا فریق ہے، جن کے تحت آزادیِ اظہار، سیاسی شرکت اور منصفانہ عدالتی کارروائی بنیادی انسانی حقوق تسلیم کیے گئے ہیں۔ ان معاہدوں کے مطابق، سیاسی اختلاف کو جرم بنانا ریاستی جبر کے زمرے میں آتا ہے۔

قید و بند میں رکھے گئے نوجوان محض افراد نہیں بلکہ ایک اجتماعی سوال کی علامت ہیں: کیا ریاست اختلاف کو برداشت کرنے کی صلاحیت کھو چکی ہے؟
جب نوجوانوں کو خوف کے ذریعے خاموش کیا جائے تو اس کا نتیجہ سیاسی بے حسی، جمہوری کمزوری اور سماجی ٹوٹ پھوٹ کی صورت میں نکلتا ہے۔

آئین کی بالادستی صرف تقریروں میں نہیں بلکہ عملی رویّوں میں نظر آنی چاہیے۔ نوجوانوں کو دشمن نہیں، شہری سمجھنے کی ضرورت ہے۔ سوال اٹھانا جرم نہیں، بلکہ آئینی حق ہے۔ عدالتوں، پارلیمان اور ریاستی اداروں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ آزادیِ اظہار اور قومی سلامتی کے درمیان توازن کو آئینی دائرے میں رکھیں۔

پاکستان کا مستقبل نوجوانوں سے جڑا ہے، اور مستقبل کو سلاخوں کے پیچھے رکھ کر محفوظ نہیں بنایا جا سکتا۔
اگر آج آئین خاموش ہوا،
تو کل انصاف بھی خاموش ہوجائے گا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے