قلم کی تلخیاں

یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ قلم کا لکھا ہوا، محض الفاظ کا مجموعہ نہیں ہوتا، یہ ضمیر کی آواز بھی ہوتا ہے اور سماج کے سامنے ایک اخلاقی گواہی بھی۔ لکھنے والا جب قلم اٹھاتا ہے تو دراصل وہ صرف سطریں نہیں لکھتا بلکہ اپنے باطن، اپنے اصول اور اپنے عہد کی نمائندگی بھی کر رہا ہوتا ہے۔ اسی لیے قلم کی لغزش صرف لفظوں کی غلطی نہیں ہوتی بلکہ اعتماد اور اخلاق کے زخم میں بدل جاتی ہے۔ شاید اسی احساس نے مجھے ابتدا ہی سے اس بات کا پابند رکھا کہ میں اختلاف تو کروں، مگر اخلاق کے دائرے میں رہ کر، تنقید تو کروں، مگر تضحیک کے بغیر۔

یہ 2006 کی بات ہے، جب میں گریجویشن (بی اے) سال اوّل کا طالب علم تھا اور جامعہ فاروقیہ کراچی میں درجۂ رابعہ میں پڑھتا تھا۔ تب میرا پہلا کالم ہفت روزہ چٹان میں شائع ہوا۔ وہ دن ہے اور آج کا دن ہے، میں مسلسل لکھتا جا رہا ہوں۔

پہلے دن سے یہ طے کیا تھا کہ کسی کی ذات کے خلاف کیچڑ نہیں اچھالوں گا، کسی کی پگڑی تک نہیں پہنچوں گا۔ اگر کسی مذہبی یا سیاسی شخصیت پر تنقید کرنا بھی ہو تو اخلاقیات کے دائرے میں رہ کر کروں گا اور عمومی اور اصولی تنقید کروں گا۔ ممکن ہے کہ ادارہ جاتی سطح پر کی گئی تنقید میں کبھی تلخی اور سخت الفاظ استعمال ہوئے ہوں، لیکن کسی انسان کا نام اور ذات کو فوکس کر کے تضحیک کا نشانہ نہیں بنایا، الحمدللہ۔

تحریر اور کالم نگاری کے اس بیس سالہ سفر میں بلاشبہ ہزاروں کالم لکھے، جو مختلف اخبارات کے ساتھ سوشل اور ڈیجیٹل میڈیا پر بھی موجود ہیں۔

قلم کاری کے اس سفر میں بہت سے مراحل ایسے بھی آئے کہ مذہبی و سیاسی شخصیات اور ان کے چاہنے والوں کی طرف سے سخت رد عمل آیا۔ جب جب ان رد عمل والی تحریروں کا دوبارہ جائزہ لیا تو دلی اطمینان ہوا کہ تنقید اگر ہوئی ہے بھی تو اصولی ہوئی ہے، کسی کی تضحیک نہیں کی گئی۔ مذہبی اور سیاسی شخصیات نے اپنے قریبی احباب سے میرے ذاتی وقار کو مجروح کراتے ہوئے جوابی کالم اور تقاریر بھی کروائیں۔ ان چیزوں کو بھی غور سے دیکھا تو اکثر باتیں میری ذات پر حملوں پر مشتمل تھیں، جن سے اصلاح تو ممکن نہیں تھی، لیکن خوشگوار حیرت ضرور ہوئی کہ ان تحریروں میں کچھ باتیں غور طلب تھیں، جن پر راقم نے اپنی اصلاح بھی کی۔

ان کالموں میں بہت سے کالم حکومتی و سرکاری عہدے داروں اور افسروں کے متعلق بھی تھے جو تنقید پر مشتمل تھے۔ ان کی طرف سے بھی وقتاً فوقتاً رد عمل آتا رہا اور کئی دفعہ سخت قسم کی دھمکیاں، اذیت اور تکلیف دینے کا سلسلہ بھی جاری رہا اور یہ ساری چیزیں بھگتا رہا اور کئی بار انتقام کا نشانہ بھی بنا، زندگی رہی تو کھبی تفصیل سے یہ ساری چیزیں لکھ لوں گا۔ ان کالموں کا بھی ازسرنو جائزہ لیتا رہا۔ کچھ تحریروں میں الفاظ سخت ضرور استعمال ہوئے تھے اور لہجے میں ترشی ضرور آگئی تھی، مگر بہرحال بات اصولی تھی۔ بعض دفعہ اصولی باتیں اگر سخت لہجے میں نہ کہی جائیں تو اثر نہیں کرتیں، اس لیے لہجہ ازخود ترش ہو جاتا ہے۔

تاہم یہ بات بھی سچ ہے کہ قلم کی تلخیاں بڑی سخت ہوتی ہیں۔ ان تلخیوں کو دبانے کے لیے ہمیشہ کوششیں جاری رہتی ہیں، لیکن مجموعی طور پر میں شخصی طعن و تضحیک اور ذاتی وقار کو مجروح کرنے سے گریز کرتا ہوں۔ البتہ یہ اصول سرکاری شخصیات اور سیاسی رہنماؤں کے احتساب سے مانع نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ ان کے جملہ معاملات قوم، وطن اور عوام سے جڑے ہوتے ہیں، اس لیے ان پر سخت سے سخت تنقید بھی کی جا سکتی ہے، مگر نرم و گداز اور مہذب لہجے میں ہونی چاہیے۔

قلم کا اصل امتحان یہی ہے کہ وہ طاقت کے ایوانوں تک بھی سچ پہنچائے اور شخصی وقار کی بھی حفاظت کرے۔ اس میں دو رائے نہیں کہ تنقید اور اختلاف اگر تہذیب کے دائرے میں رہے تو اصلاح کا ذریعہ بنتا ہے، اور اگر نفرت کی زبان بولنے لگے تو خود اپنے مقصد کو دفن کر دیتا ہے۔ میں آج بھی اسی اصول پر قائم ہوں کہ لفظ تیر نہیں ہونے چاہییں بلکہ چراغ ہونے چاہییں، جو اندھیروں کی نشاندہی بھی کریں اور راستہ بھی دکھائیں۔ اگر کبھی لہجہ سخت ہو بھی جائے تو نیت اصلاح کی ہونی چاہیے، انتقام کی نہیں۔ یہی وہ باریک لکیر ہے جو تنقید اور تضحیک کے درمیان فرق قائم رکھتی ہے، اور اسی لکیر پر چلنے کی کوشش ہی دراصل قلم کی اصل دیانت ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے