رسمی ملاقاتیں، غیر رسمی یادیں
یورپ کے کچھ ممالک ایسے ہیں جہاں میرا رسمی سفر رہا ہے۔ چلتے پھرتے چل پڑے اور پورا نہیں تو کم از کم دارالحکومت ضرور دیکھ آئے۔ ان ممالک میں جرمنی سرفہرست ہے، دوسرے نمبر پر سلوواکیہ اور تیسرے نمبر پر بڈاپسٹ (ہنگری) کا نام آتا ہے، اور کچھ حد تک ناروے سے ملحقہ علاقہ سویڈن کا۔ ان چاروں ممالک کا ذکر اس لیے ضروری ہے کہ سفر بھلے ہی رسمی ہو، دیکھنے کو بہت کچھ ملا ہے۔
وارسا میں ایک دوست نے کہا: "رحیم شاہ! یہ ساتھ میں ہی برلن ہے”۔ میں نے حیرت سے پوچھا کہ "ساتھ میں” کیسے؟ کہنے لگے کہ ظہر پڑھ کر یا اس سے پہلے بندہ نکل جائے تو شام تک برلن میں ہوتا ہے، دو تین گھنٹے وہاں گزار کر رات کو بس میں بیٹھو تو اگلی صبح واپس وارسا۔ میں نے کہا: "اچھا!” اور پھر ڈرامائی انداز میں بیگ اٹھایا، جوتے پہنے اور نکل پڑا۔ وہاں ‘اوبر’ کی طرح غالباً ‘بلا بلا کار’ (BlaBlaCar) سروس تھی، 20 یورو میں بات طے ہوئی اور کچھ ہی دیر میں گاڑی میرے پتے پر موجود تھی۔ ٹیکسی ڈرائیور فلسطین کا تھا، ماشاء اللہ! یہ تو سونے پہ سہاگہ ہو گیا۔
مجھے گاڑی کی فرنٹ سیٹ سے بہت لگاؤ ہے۔ میں چھ فٹ کا آدمی ہوں، پیچھے کی سیٹ پر گھٹن کے ساتھ ساتھ میرے گوڈے (گھٹنے) بھی جواب دے جاتے ہیں۔ بہرحال، وارسا سے نکلتے ہی احساس ہونے لگا کہ یہ تو بالکل ایسا ہے جیسے بندہ اسلام آباد سے پشاور کی طرف جا رہا ہو۔ بالکل مردان اور صوابی کے کھیتوں جیسا ماحول! دل میں ایک عجیب سی کیفیت تھی کیونکہ برلن کے بارے میں پڑھا بہت تھا۔ پہلی اور دوسری جنگِ عظیم، سرد جنگ، دیوارِ برلن اور پھر برلن کا اتحاد۔ آدھی سے زیادہ یورپی تاریخ میں برلن سے جان نہیں چھوٹ رہی تھی، اور آج وہاں جانے کا اتفاق ہو رہا تھا۔ نجانے کیوں میں نے ایک دباؤ سا لیا ہوا تھا، حالانکہ جب وہاں پہنچے تو معاملہ بالکل مختلف تھا۔
برلن کے شہر میں داخل ہوتے ہی ہم نے عصر پڑھی۔ وہاں ایک دوست لینے آ گیا تھا، مگر فلسطینی بھائی نے برلن میں داخل ہوتے ہوئے ایسا راستہ لیا کہ مجھے تقریباً پورا شہر سمجھا دیا۔ اسے بھی اندازہ ہو گیا تھا کہ میرے پاس وقت کم ہے اور شہر بڑا۔ دوست نے آتے ہی شہر کی تاریخ بیان کرنا شروع کی۔ کچھ چرچ دکھائے جو جنگوں کے باوجود خستہ حال نہیں تھے، اور جو جگہیں ٹوٹ چکی تھیں انہیں اسی حالت میں رکھا گیا تھا۔ ساتھ ہی ہم ہٹلر کی دی ہوئی سزا کا نشانہ بننے والے یہودیوں کے قبرستان یا یادگار (Memorial) پر بھی گئے۔ وہاں یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہوتا کہ ہٹلر نے یہودیوں کے ساتھ کیا کیا اور کیوں؟
جرمنی کے سینٹر میں ہی ایک خاص جگہ مخصوص ہے جہاں لوگ پرامن احتجاج کر سکتے ہیں۔ نہ توڑ پھوڑ، نہ کوئی ہنگامہ۔ ویسے اگر ایسی کوئی جگہ ہمارے ملک میں بھی ہو تو مزہ آ جائے، جس نے احتجاج کرنا ہو وہ وہاں جا کر کرے جیسا کہ برلن میں ہوتا ہے۔ مگر وہ ٹھہرے جرمن اور ہم ٹھہرے "ڈے مار ساڈے چار” پاکستانی! ہمارا تو احتجاج بھی وکھرا (منفرد) ہوتا ہے۔
ایک میوزیم گئے، کچھ کتبے دیکھے اور دیوارِ برلن کا وہ حصہ دیکھا جس نے ایک ہنستے بستے شہر کو مشرقی اور مغربی برلن میں تقسیم کر دیا تھا۔ میں اور میرا دوست بس بھاگے ہی جا رہے تھے، اسے آپ برلن کی ‘کوئیک سروس ونڈو شاپنگ’ کہہ سکتے ہیں۔ وہاں کا ریلوے اسٹیشن، سب وے ٹرانسپورٹ اور ڈاؤن ٹاؤن دیکھا۔ جب آپ کے پاس ہوں ہی صرف پانچ گھنٹے، پھر تو جتنا ہو سکے دیکھنا ہی پڑتا ہے۔ ہم آئے ہی ایک شام کے لیے تھے۔ رات کے دس بجے تو ہم نے تھوڑا سکھ کا سانس لیا۔ دوست نے کہا: "یار اب چلتے ہیں کسی ترکش ریسٹورنٹ میں تمہیں برلن کا ‘چرغہ’ کھلاتے ہیں”۔ میں نے سوچا لطف اٹھانا ہے تو کیوں نہیں! بس تھوڑا ہی کھایا تھا کہ واپسی کی بس کا وقت ہو گیا، باقی پیک کرا لیا کہ راستے میں کھا لوں گا۔ میرا وہ دوست پٹھان تھا۔ کسی دوست نے دوسرے دوست کو فون کیا، اس نے تیسرے کو، اور اس طرح میری مہمان نوازی کا حق ادا ہوتا چلا گیا۔ پھر ایک دو دفعہ بات ہوئی، بعد میں نام بھی یاد نہ رہا، لیکن جب بھی برلن کا ذکر کرتا ہوں وہ بندہ یاد آتا ہے اور اسے دعا دیتا ہوں کہ اللہ اسے جزائے خیر دے۔ آمین۔
سویڈن جا کر پتہ چلا کہ نسوار کو لے کر پشتون ویسے ہی جذباتی ہوتے رہتے ہیں، اصل میں تو نسوار کو حدِ کمال تک پہنچانے والے شمالی یورپ کے باشندے ہیں۔ پورے مال (Mall) میں سب سے بڑی دکان نسوار کی ہی تھی۔ وہاں نسوار کی اتنی اقسام تھیں کہ بندہ چکرا جائے۔ بہرحال، دوست نے وہاں سے نت نئی اقسام کی نسوار لی اور پورے راستے مجھے تاریخ بتاتے رہے کہ یورپ میں نسوار کیسے بنتی ہے، کہاں سے آتی ہے اور سویڈن میں سستی کیوں ملتی ہے۔ وہ نسوار کی مستی میں تھے اور ہم سویڈن اور ناروے کا سرحدی علاقہ دیکھنے کی دھن میں۔ آپ کو یاد ہوگا ایک کالم میں ہم نے ناروے کا تذکرہ کیا تھا جب ‘اسکم’ (Askim) قصبے میں میرے دوست کو نسوار کی ضرورت پیش آئی۔ نسوار نہ ہو تو پٹھانوں کی سانس رک جاتی ہے۔ کہنے لگا: "شاہ جی! چلو نسوار لے کر آتے ہیں”۔ اسے ناروے کی نسوار پسند نہ آئی تو ہم نسوار لینے سویڈن چلے گئے۔ البتہ ایک بات کہوں گا کہ سویڈن اور ناروے کے سرحدی علاقے بہت خوبصورت ہیں، بالکل اپنے گاؤں جیسا احساس ہوتا ہے۔ اب کوئی پوچھے گا تو ہم بھی کہہ سکتے ہیں کہ اس ناچیز نے سویڈن میں بھی قدم رکھے ہیں۔
بڈاپسٹ (ہنگری) میں مجھے لینے میرے بہت ہی پیارے دوست امان اللہ صاحب آئے۔ وہ ویانا میں رہتے تھے، زندگی ان کی سفر میں گزری ہے اور جس پنجابی انداز میں وہ آسٹریا کو "آسٹیریا” کہہ کر پکارتے تھے، مجھے تو پتوکی کا علاقہ یاد آ جاتا تھا۔ بڈاپسٹ کیا ہی خوبصورت جگہ ہے! ہم نے دوست کے ساتھ ایک ترکش ریسٹورنٹ میں لنچ کیا اور پھر وہاں کے مشہورِ زمانہ قلعے (Castle) اور ‘بدھا’ کی یادگار دیکھنے نکل پڑے۔ پہاڑی پر بنے محل سے سامنے دریائے ڈینیوب (Danube) اور پرانی عمارتوں کے نظارے دل موہ لینے والے ہوتے ہیں۔ خوب وقت گزارا، دو تین گھنٹے بڈاپسٹ کی گلیوں میں پھرتے رہے اور پھر ویانا کی جانب روانہ ہو گئے۔ وہ بھی عجیب دن تھا، ناشتہ استنبول میں کیا، دوپہر کا کھانا بڈاپسٹ میں اور شام ہوئی تو ویانا میں پیزا کھایا۔ میں اور میرے اندر کا ‘ابنِ بطوطہ’۔۔۔!
ویانا میں چند دن گزرے تو امین صاحب کے بڑے لڑکے نے کہا: "بھائی! چلتے ہیں گاڑی میں پیٹرول ڈلواتے ہیں”۔ میں نے پوچھا: "بھائی! ساتھ میں ہی تو پیٹرول اسٹیشن ہے؟” کہنے لگا: "نہیں انکل جی! پیٹرول آج کل سلوواکیہ میں سستا ملتا ہے، لگے ہاتھوں آپ کو ‘براٹیسلاوا’ (Bratislava) بھی دکھا دیتے ہیں”۔ میں نے کہا: "اچھا جی! اگر ایسا ہے تو پھر چلیں”۔ دوپہر کو ویانا سے نکلے اور تھوڑی ہی دیر میں، میں اور امین صاحب کا لڑکا براٹیسلاوا میں چائے پی رہے تھے۔ وہاں شہر سے ذرا اوپر پہاڑی علاقے میں اسلام آباد کے ‘دامنِ کوہ’ جیسا ایک خوبصورت سپاٹ ہے۔ وہاں گئے، شہر کے نظارے کیے، پھر واپس پرانے شہر آ کر ‘ڈاؤن ٹاؤن’ دیکھا۔ خوبصورت علاقہ تھا، تھوڑی غربت بھی نظر آئی مگر براٹیسلاوا مجھے بہت پسند آیا۔ پھر شام ہوئی اور واپسی ویانا۔
ایسا ہی کچھ رسمی سفر میرا بیلجیم کا بھی رہا۔ جانا تو وارسا یا پراگ سے ‘ریگا’ (لٹویا) تھا، جہاز سے اترے تو بیلجیم کے دارالحکومت (برسلز) میں کنکشن فلائٹ تھی۔ وہاں دوست لینے آئے ہوئے تھے۔ جلدی جلدی سب سمجھانے لگے؛ کہنے لگے: "بھائی! ابھی ظہر کا وقت ہے اور صبح 4 بجے آپ کی اگلی فلائٹ ہے، جتنا گھوم سکتے ہو گھوم لو”۔ میزبانوں سے بات چیت ہوئی تو رابطے سے رابطہ ملتا گیا اور پتہ چلا کہ ان میں سے ایک دوست تو میرے خیبر ٹی وی والے دوست کا کزن ہے۔ پھر کیا تھا، اس نے میزبانی میں انتہا کر دی۔ بیلجیم کے دارالحکومت کے پاس ایک شہر تھا جسے یورپ کا ‘ثقافتی شہر’ قرار دیا گیا تھا، ہم وہاں چلے گئے۔ وقت گزرتا رہا اور وہ شام کو مجھے بیلجیم کے وسطِ شہر میں پرانا شہر اور ڈاؤن ٹاؤن گھماتے رہے۔ پھر وہیں سے ‘شنواری دنبہ کڑاہی’ اور بی بی کیو (BBQ) کا بندوبست کیا گیا۔ کبھی کھانا کھلاتے، کبھی گھماتے۔ رات کے 12 بجے تو میں نے کہا: "بھائی! آپ نے پشتونوں والی مہمان نوازی کا حق ادا کر دیا ہے، اب سوتے ہیں، مجھے صبح ریگا جانا ہے اور اپنا مقالہ (Paper) پیش کرنا ہے”۔
یہ شہروں سے میری محض رسمی ملاقاتیں تھیں، مگر یادیں دائمی ہیں۔ ہم ٹھہرے گاؤں کے پینڈو، نہ کبھی تھکے اور نہ کبھی تھکنے کا سوچا۔
ملتے ہیں پھر ریگا میں، اگلے کالم میں۔۔۔