بیوقوف دنیا

ہم ایک بیوقوف دنیا میں سانس لے رہے ہیں، ایک ایسی دنیا جہاں جہالت کو علم اور شور کو دانش سمجھا جاتا ہے۔ آج کا انسان جتنا کم جانتا ہے، اتنا ہی زیادہ بولتا ہے۔ اسے نہ تاریخ کا شعور ہے، نہ فلسفے کی سمجھ، نہ سچ کی تلاش کی طلب، مگر اس کے باوجود وہ ہر موضوع پر رائے دینے کو اپنا حق نہیں بلکہ فرض سمجھتا ہے۔ یہ وہ دنیا ہے جہاں خاموشی کمزوری اور سوچنا وقت کا ضیاع سمجھا جاتا ہے۔

آج ہر شخص خود کو عقلِ کُل سمجھتا ہے۔ ایک ڈرائیور آپ کو بتائے گا کہ وزیرِاعظم نے بند کمروں میں کیا فیصلے کیے، ایک دکاندار عالمی معیشت کے راز کھول دے گا، اور ایک یوٹیوب ویڈیو دیکھنے والا خود کو سیاسی تجزیہ کار سمجھنے لگتا ہے۔ کسی نے کتاب نہیں پڑھی، کسی نے تحقیق نہیں کی، مگر سب کے پاس رائے ہے، اور وہ بھی انتہائی یقین کے ساتھ۔ یقین اتنا مضبوط کہ اگر آپ اختلاف کریں تو آپ دشمن، غدار یا بیوقوف قرار پاتے ہیں۔

اس تمام تباہی کے پیچھے سب سے بڑا ہاتھ میڈیا کا ہے۔ میڈیا نے علم کو تفریح بنا دیا ہے اور تفریح کو سچ۔ چند منٹ کی ویڈیوز، چیختی سرخیاں، آدھی سچائیاں اور مکمل جھوٹ یہی آج کے انسان کی فکری غذا ہے۔ ہم وہی دیکھتے ہیں جو ہمیں مزہ دیتا ہے، اور وہی مانتے ہیں جو ہمارے ego کو سہارا دے۔ سچ تک پہنچنا اب کسی کو مطلوب نہیں، بس اپنے نظریے کو درست ثابت کرنا کافی ہے۔

آج کا انسان یہ ماننے کے لیے تیار نہیں کہ وہ غلط ہو سکتا ہے۔ وہ اپنے نقطۂ نظر کو آخری حقیقت سمجھ بیٹھا ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ہر انسان دنیا کو اپنی محدود آنکھ، محدود ذہن اور محدود تجربے سے دیکھتا ہے۔ مگر اس محدود نظر کو وہ مکمل کائنات سمجھ لیتا ہے۔ یہی وہ فریب ہے جس میں پوری دنیا مبتلا ہے. Perspective کا فریب۔

نطشے نے بہت پہلے خبردار کر دیا تھا کہ سچ کوئی آسمانی تخت پر بیٹھا ہوا خدا نہیں، بلکہ انسان کی تعبیر ہے۔ نطشے کہتا ہے کہ

“There are no facts, only interpretations.”

مگر بیوقوف دنیا نے اس بات کو سمجھنے کے بجائے اسے نظر انداز کر دیا۔ یہاں ہر شخص اپنی interpretation کو divine truth سمجھتا ہے، اور باقی سب کو جاہل قرار دیتا ہے۔

سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ جو لوگ سب سے کم جانتے ہیں، وہی سب سے زیادہ لڑتے ہیں۔ انہیں نہ شک ہوتا ہے، نہ سوال، نہ خود پر تنقید۔ وہ چیختے ہیں، گالیاں دیتے ہیں، لڑتے ہیں، کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ ان کے پاس سچ ہے۔ حقیقت میں ان کے پاس صرف شور ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنی لاعلمی کے خالی برتن کو زور زور سے بجاتے ہیں۔

دانش کا پہلا قدم یہ ماننا ہے کہ ہم کچھ نہیں جانتے۔ سقراط نے صدیوں پہلے کہا تھا:

“میں جانتا ہوں کہ میں کچھ نہیں جانتا۔”

یہ جملہ کمزوری نہیں، بلکہ عظیم ذہانت کی علامت ہے۔ مگر آج کی بیوقوف دنیا میں اس جملے پر ہنسا جاتا ہے۔ یہاں لاعلمی کو چھپایا جاتا ہے اور علم کا جھوٹا لبادہ اوڑھا جاتا ہے۔

نطشے نے کہا تھا کہ

“The surest way to corrupt a youth is to instruct him to hold in higher esteem those who think alike than those who think differently.”

مگر آج ہم اختلاف سے ڈرتے ہیں۔ جو ہم سے مختلف سوچے، اسے دشمن سمجھتے ہیں۔ ہمیں سچ نہیں چاہیے، ہمیں صرف وہ لوگ چاہیے جو ہماری ہاں میں ہاں ملائیں۔ یہی فکری زوال کی انتہا ہے۔

سوشل میڈیا نے اس بیوقوفی کو وبا بنا دیا ہے۔ الگورتھم ہمیں وہی دکھاتے ہیں جو ہم پہلے ہی مانتے ہیں۔ یوں ہمارا ذہن ایک قید خانے میں بند ہو جاتا ہے، جہاں صرف ہماری آواز گونجتی ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ پوری دنیا ہم سے متفق ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ہم نے خود کو سچ سے کاٹ لیا ہے۔

آج کا انسان علم نہیں چاہتا، وہ صرف تسلی چاہتا ہے۔ وہ نہیں چاہتا کہ اس کے نظریات چیلنج ہوں، وہ نہیں چاہتا کہ اس کی بنیادیں ہلیں۔ اس لیے وہ آسان جھوٹ کو مشکل سچ پر ترجیح دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بیوقوفی عام اور حکمت نایاب ہو چکی ہے۔

دانشمند وہ نہیں جو ہر سوال کا جواب دے، بلکہ وہ ہے جو جانتا ہو کہ ہر سوال کا جواب ممکن نہیں۔ دانا وہ ہے جو شک کو زندہ رکھے، اور بیوقوف وہ ہے جو یقین میں دفن ہو جائے۔ مگر ہماری دنیا نے بیوقوفی کو تاج پہنا دیا ہے۔

یہ دنیا شور سے بھری ہے، مگر خاموش سوچ سے خالی۔
یہ دنیا رائے سے بھری ہے، مگر علم سے خالی۔
یہ دنیا یقین سے بھری ہے، مگر سچ سے خالی۔

اور شاید یہی ہماری سب سے بڑی بدقسمتی ہے
کہ ہم ایک ایسی بیوقوف دنیا میں زندہ ہیں
جو خود کو سب سے زیادہ عقل مند سمجھتی ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے