علی معاویہ بھائی بھائی

اسلام کا عظیم زمانہ وہ تھا جب قیادت بھی اہل تھی اور مخالفت بھی اصولوں کے دائرے میں رہتی تھی۔ آج جب امت تفرقے اور فرقہ واریت میں بٹ چکی ہے، ہمیں تاریخ کے ان روشن کرداروں کو سمجھنے اور سیکھنے کی ضرورت ہے جنہوں نے اختلافات کے باوجود اسلام کی عظمت اور بھائی چارے کی مثال قائم کی۔

حضرت علی بن ابی طالب اور حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما یہ وہ دو جلیل القدر صحابہ ہیں جن کا نام آتے ہی تاریخ اسلام کے دو بڑے کردار نگاہوں میں آتے ہیں۔ ایک جانب حضرت علی، جنہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے لیے وہی مقام ہے جو ہارون کو موسیٰ کے لیے تھا، مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

اور دوسری طرف حضرت معاویہ، جو کاتبِ وحی رہے، حلیم، بردبار، سیاسی حکمت و دانائی کے پیکر اور ایک مضبوط منتظم۔

دونوں عظیم صحابہ کے درمیان جو اختلاف تھا، وہ ایک سیاسی اختلاف تھا، نہ کہ دینی یا ایمانی دشمنی اس کا سب سے بڑا ثبوت وہ واقعہ ہے جب روم کے ایک جرنیل نے دمشق میں حضرت معاویہ کو خط لکھا کہ آؤ، ہم تمہارے ساتھ مل کر علی کے خلاف جنگ کریں، ہم دونوں ایک طاقت ہیں۔

یہ سن کر حضرت معاویہ غصے میں آگئے۔ انہوں نے رومی سفیر کو کھری کھری سنائیں اور کہا

اس رومی کتے سے جا کر کہو، اگر تُو نے میرے بھائی علی کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھا، تو جان لو، رومیوں کے خلاف سب سے پہلا سپاہی معاویہ ہوگا، اور وہ علی کی صف میں کھڑا ہوگا.

واہ! کیا عظمت تھی، کیا غیرتِ ایمانی تھی، کیا اسلامی اخوت تھی! یہ وہی حضرت علی تھے جن سے حضرت معاویہ کو اختلاف تھا، لیکن یہ اختلاف ذاتی یا دینی نفرت پر مبنی نہیں تھا، بلکہ اجتہادی اور سیاسی تھا اور دونوں فریقین اپنے اجتہاد میں مخلص اور نیک نیت تھے.

آج افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہم ان دونوں ہستیوں کو لے کر فرقہ وارانہ لڑائیاں لڑتے ہیں۔ کوئی علی کو خلیفۂ برحق کہہ کر معاویہ کی شان گھٹاتا ہے، تو کوئی معاویہ کو صحابیت کا تاج پہنا کر علی کی عظمت کو نظر انداز کرتا ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ دونوں عظیم، دونوں صحابی، اور دونوں اسلام کے محافظ تھے.

کاش ہم حضرت معاویہ کی زبان سے نکلے اس جملے کو دل سے مان لیں.
(میرے بھائی علی)

یہ ایک جملہ امت کو جوڑنے کے لیے کافی ہے، اگر نیت خالص ہو.

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے