چند ماہ قبل روخانہ رحیم وزیر سے ایک دوست کی وساطت سے رابطہ ہوا۔ انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ وہ میرے ساتھ کام کرنا چاہتی ہیں اور معاشرتی مسائل پر لکھنے کی خواہاں ہیں۔ میں نے ان کا سابقہ کام دیکھا، جو معیاری اور سنجیدہ تھا، اس لیے میں نے خوش دلی سے حامی بھر لی۔ گزشتہ تقریباً چھ ماہ سے وہ ہماری ویب سائٹ کے لیے لکھ رہی تھیں۔
ہماری تقریباً روزانہ بات چیت ہوتی تھی کیونکہ وہ ایک ادبی، ثقافتی اور فلاحی تنظیم "نوے ژوند” کی سرگرمیوں کی رپورٹنگ کے سلسلے میں مجھ سے رابطے میں رہتی تھیں اور تنظیم سے متعلق خبریں بھی باقاعدگی سے شیئر کرتی تھیں۔ تاہم اچانک ان سے رابطہ منقطع ہو گیا۔ تشویش کے باعث میں نے نوے ژوند کے سربراہ سے رابطہ کیا تو معلوم ہوا کہ روخانہ رحیم وزیر لاپتہ ہو چکی ہیں اور ان کے بارے میں معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔ بعد ازاں جو حقیقت سامنے آئی، وہ نہایت تکلیف دہ اور دل گرفتہ کر دینے والی تھی۔
روخانہ رحیم وزیر ایک معروف قلم کار اور صحافی ہیں، جو مختلف اخبارات، بلاگز اور نیوز ویب سائٹس پر لکھتی رہی ہیں۔ بالخصوص ان کا کالم "خواتین کی دنیا” خواتین، بچوں اور سماجی مسائل پر ایک معتبر اور باوقار آواز رہا ہے۔ انہوں نے ریڈیو پاکستان میں خدمات انجام دیں، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے وابستہ رہیں اور مختلف نیوز اداروں کے ساتھ کام کیا۔ ان کا تعلق وزیرستان کے معروف وزیر قبیلے سے ہے اور وہ ایک تعلیم یافتہ اور باوقار خاندان سے تعلق رکھتی ہیں۔
اسلام آباد میں مقیم رہتے ہوئے انہوں نے صحافت کو محض پیشہ نہیں بلکہ سماجی ذمہ داری سمجھ کر اپنایا۔ ان کی تحریروں میں اشتعال یا نفرت کے بجائے دلیل، شعور اور انسان دوستی نمایاں رہی۔ گزشتہ کئی ماہ تک آئی بی سی اردو پر ان کے متواتر کالم شائع ہوتے رہے، جن میں عورتوں کے حقوق، سماجی مسائل، حب الوطنی اور فلاحی پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا۔ کچھ عرصہ وہ آئی بی سی کے ساتھ بطور ایڈیٹر بھی وابستہ رہیں اور اس دوران انہوں نے نہایت محنت، دیانت اور لگن سے اپنی ذمہ داریاں نبھائیں۔
حالیہ عرصے میں قبائلی علاقوں کے متعدد خاندانوں کی طرح روخانہ رحیم وزیر اور ان کے اہلِ خانہ کے شناختی کارڈ بلاک کر دیے گئے، جس کے باعث وہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار رہیں۔ دسمبر کے وسط میں سی ٹی ڈی نے ان کے گھر پر چھاپہ مارا اور خاندان کے بیشتر افراد کو افغان شہری ہونے کے الزام میں گرفتار کر لیا۔ انہیں طورخم لے جایا گیا، تاہم رشتہ داروں کی جانب سے دستاویزی ثبوت پیش کیے جانے کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ میں یہ موقف اختیار کیا گیا کہ وہ پاکستانی شہری ہیں اور ان کے شناختی کارڈ بلاک کیے گئے ہیں۔ عدالت کے حکم پر انہیں واپس اسلام آباد منتقل کر دیا گیا۔
اس تمام عرصے میں خاندان کے مرد اور خواتین حراست میں رہے جبکہ گھر میں صرف بیمار والدہ اور ایک بھابھی موجود تھیں۔ عدالتوں کی تعطیلات کے باعث دسمبر کے آخری عشرے میں کیس کی سماعت نہ ہو سکی۔ 09 جنوری کو پیشی مقرر تھی جو کسی وجہ سے نہ ہو سکی، بعد ازاں تیرہ جنوری کی تاریخ دی گئی۔ اس روز وکیل عدالت میں پیش ہوئے مگر وزارتِ داخلہ عدالت کے طلب کردہ شواہد فراہم نہ کر سکی، جس پر کیس کی سماعت 23 جنوری تک ملتوی کر دی گئی۔ یوں یہ خاندان مزید کئی دن حراست میں رہنے پر مجبور ہے، جبکہ یہ بھی واضح نہیں کہ یہ سلسلہ کب تک جاری رہے گا۔
روخانہ رحیم وزیر کا مؤقف ہے کہ سب سے بڑی ناانصافی یہ ہے کہ نادرا کے ڈیٹا سے ان کا مکمل ریکارڈ غائب کر دیا گیا ہے اور اسی بنیاد پر انہیں مسلسل ہراساں کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق جب انہوں نے عدالت سے رجوع کیا تو ان کے ساتھ سخت رویہ اختیار کیا گیا اور انہیں یہ باور کرایا گیا کہ کیس کرنے کی سزا دی جا رہی ہے۔
یہ معاملہ محض ایک خاندان کے بنیادی حقوق کی پامالی نہیں بلکہ عدالتی شفافیت، شہری آزادیوں اور ریاستی اداروں پر عوامی اعتماد کے لیے بھی ایک سنجیدہ سوالیہ نشان ہے۔
حکومت پاکستان سے مطالبہ ہے کہ آئینِ پاکستان اور انسانی حقوق کے اصولوں کے تحت، جب تک کیس کا حتمی فیصلہ نہیں ہو جاتا، روخانہ رحیم وزیر، ان کے اہلِ خانہ کی خواتین اور بچوں کو عزت و احترام کے ساتھ گھروں کو بھیجا جائے۔ بغیر عدالتی فیصلے کے ایک مکمل خاندان کو طویل عرصے تک حراست میں رکھنا نہ آئینی ہے اور نہ انسانی اقدار کے مطابق۔
ہم حکومتِ پاکستان اور وزارتِ داخلہ سے اپیل کرتے ہیں کہ اس معاملے کو انصاف، شفافیت اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر حل کیا جائے۔ اگر روخانہ رحیم وزیر اور ان کا خاندان پاکستانی شہری ثابت ہوتے ہیں تو ان کے شناختی کارڈ بحال کیے جائیں تاکہ وہ دوبارہ عزت و وقار کے ساتھ اپنی زندگی اور سماجی و ادبی خدمات کا سلسلہ جاری رکھ سکیں۔ اور اگر وہ افغان شہری قرار پاتے ہیں تو انہیں بھی پورے احترام اور انسانی وقار کے ساتھ ان کے وطن واپس بھیجا جائے۔
ہم معزز عدالت کے منصفانہ فیصلے کے منتظر ہیں، جو مکمل شواہد اور حقائق کی روشنی میں صادر کیا جائے گا۔