یہ ایک نہایت سادہ، عام فہم اور زمینی حقیقت ہے جسے سمجھنے کے لیے کسی فلسفے، منطق، راکٹ سائنس یا علمی موشگافی کی ضرورت نہیں۔ مذہبی نعرے، جذباتی تقریریں، فرقہ وارانہ چپقلش، پالسیاں، قوانین اور جنونیت کسی فرد، خاندان یا قوم کا پیٹ نہیں بھرتیں۔ معاشی ضروریات محض نعروں سے پوری نہیں ہوتیں، اور جب پیٹ خالی ہو تو کوئی بھی نظام حیات دیر تک نہیں چل سکتا۔
یہ سادہ سال اصول صرف افراد تک محدود نہیں بلکہ پارٹیوں اور ریاستوں پر بھی یکساں طور پر لاگو ہوتا ہے۔ اگر کسی معاشرے کو زندہ، مستحکم اور باوقار رکھنا ہے تو اسے زمینی حقیقتوں کی روشنی میں قوانین اور پالیسیاں تشکیل دینا ہوں گی اور پھر ان پر سنجیدگی سے عمل بھی کرنا ہوگا۔ محض مذہبی جذبات کو بھڑکا کر یا جذباتی وابستگیاں پیدا کر کے ریاستی، سیاسی اور معاشی مسائل حل نہیں کیے جا سکتے۔
پاکستان میں مذہبی جنونیت کے شخصی اور تنظیمی نقصانات کی مثالیں کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ یہاں درجنوں مثالیں موجود ہیں جہاں مذہب کے نام پر بننے والی تحریکیں، جماعتیں اور گروہ نہ صرف خود بکھر گئے بلکہ معاشرے کے لیے بوجھ اور ریاست کے لیے درد سر بنے۔ ان تحریکوں نے نہ عوام کو روزگار دیا، نہ تعلیم، نہ صحت اور نہ ہی معاشی استحکام البتہ نفرت، انتشار اور بے یقینی ضرور پیدا کی۔
اگر ریاستی سطح پر مذہبی جنونیت بلکہ "پاپائیت” کے نتائج دیکھنے ہوں تو افغانستان اور ایران ہمارے سامنے زندہ مثالیں ہیں۔ برسوں سے یہ دونوں ممالک سیاسی عدم استحکام، داخلی افراتفری اور شدید معاشی کسمپرسی کا شکار ہیں۔ وہاں مذہب کو اقتدار اور سیاست کا آلہ بنا کر پیش کیا گیا، مگر نتیجہ یہ نکلا کہ عام آدمی کی زندگی مزید مشکل، معیشت کمزور اور ریاست عالمی تنہائی کا شکار ہوتی چلی گئی۔
حقیقت یہ ہے کہ مذہبی جنونیت فرد کو اعتدال سے محروم کرتی ہے، جماعت کو مقصد سے ہٹا دیتی ہے اور ریاست کو ترقی کی شاہراہ سے دور پھینک دیتی ہے اور جدید دور کے گلوبل ویلیج کے نقشے سے ڈیلیٹ کر دیتی ہے۔ اور یہ جاننا بھی اہم ہے کہ مذہبی جنونیت نہ فرد کو سکون دیتی ہے، نہ معاشرے کو استحکام اور نہ ہی ریاست کو عالمی وقار۔
بہرحال، تاریخ کا سبق بالکل واضح اور دو ٹوک ہے، مذہبی جنونیت فرد، پارٹی اور ریاست تینوں کو کہیں کا نہیں چھوڑتی۔