اردو افسانے کی تاریخ میں مظہر الاسلام کا نام ایک ایسے تخلیق کار کے طور پر ابھرتا ہے جس نے مروجہ بیانیے کو توڑ کر ایک نئی فکری اور جمالیاتی راہ متعین کی۔ وہ اس عہد میں منظرِ عام پر آئے جب اردو افسانہ علامت نگاری، تجرید اور فکری ابہام کے دباؤ میں اپنی قاری دوستی کھوتا جا رہا تھا۔ مظہر الاسلام نے نہ تو کلاسیکی حقیقت نگاری کو اختیار کیا اور نہ ہی محض تجریدی علامتوں میں پناہ لی، بلکہ انہوں نے خواب، لوک روایت اور جدید انسان کے وجودی کرب کو یکجا کر کے ایک ایسا اسلوب تشکیل دیا جو اردو افسانے میں اپنی مثال آپ ہے۔
ان کا فن خواب اور حقیقت کے درمیان معلق ایک ایسی دنیا تخلیق کرتا ہے جہاں وقت ساکن ہو جاتا ہے، کردار بے نام مگر با معنی ہو جاتے ہیں اور قاری محض کہانی نہیں پڑھتا بلکہ ایک کیفیت سے گزرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مظہر الاسلام کو محض افسانہ نگار نہیں بلکہ “خواب گر” کہا جاتا ہے۔
مظہر الاسلام 4 اگست 1949ء کو ضلع خانیوال میں پیدا ہوئے۔ ان کا بچپن وزیر آباد میں گزرا جہاں انہوں نے مشن ہائی اسکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ بچپن ہی سے کتابوں، کہانیوں اور فطرت سے ان کا گہرا رشتہ قائم ہو گیا تھا۔ والد کی وفات نے ان کی زندگی میں ایک خلا پیدا کیا جو بعد ازاں ان کی تحریروں میں تنہائی، اداسی اور خاموش کرب کی صورت میں نمایاں ہوا۔
سن 1967ء میں ان کا سفر اسلام آباد کی طرف ہوا، جہاں انہوں نے اردو ادب میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرتے ہوئے ایم اے مکمل کیا۔ یہیں ان کا رابطہ ادبی حلقوں سے ہوا اور ان کا تخلیقی شعور ایک منظم فکری سمت اختیار کرنے لگا۔ اسلام آباد کی خاموش فضا، نیا شہر، اجنبیت اور تنہائی نے ان کے باطن میں ایک ایسی دنیا تخلیق کی جو بعد میں ان کے افسانوں کا بنیادی حوالہ بنی۔
مظہر الاسلام نے پاکستان براڈ کاسٹنگ کارپوریشن میں خدمات انجام دیں جہاں زبان، آواز اور بیانیے کے نئے امکانات سے ان کی شناسائی ہوئی۔ بعد ازاں وہ اکادمی ادبیات پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل اور نیشنل بک فاؤنڈیشن کے منیجنگ ڈائریکٹر بھی رہے۔ ان اداروں میں ان کی موجودگی نے نہ صرف انتظامی سطح پر نظم و ضبط پیدا کیا بلکہ ادبی سرگرمیوں کو بھی ایک نیا رخ دیا۔
انہوں نے کتاب دوستی کے فروغ، نوجوان نسل کو مطالعے کی طرف راغب کرنے اور ادبی تقریبات کو منظم انداز میں پیش کرنے کے لیے کئی منصوبے شروع کیے۔ اگرچہ ان کے انتظامی رویے پر اختلافی آرا بھی سامنے آئیں، مگر اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ انہوں نے ادبی اداروں کو فعال بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
مظہر الاسلام کا شمار 1970ء کی دہائی کی علامتی تحریک سے جڑے اہم افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب کہانی حقیقت نگاری کی سیدھی لکیر سے ہٹ کر علامت، استعارہ اور تجرید کی طرف بڑھنے لگی۔ افسانہ نگار اپنے تجربات اور مشاہدات کو براہِ راست بیان کرنے کے بجائے علامتی پیرایے میں ڈھالنے لگے، تاکہ قاری کو محض واقعات نہیں بلکہ ان کے پسِ منظر میں چھپی گہری معنویت بھی محسوس ہو۔ اس دور کے افسانے انسانی وجود کی پیچیدگی، سماجی جبر، داخلی تنہائی اور خواب و حقیقت کے باہمی تصادم کو نئے اسلوب میں پیش کرتے تھے۔ یوں اردو ادب میں ایک ایسی تحریک نے جنم لیا جس نے کہانی کو محض بیان سے نکال کر ایک فکری اور جمالیاتی تجربہ بنا دیا۔ اس تحریک کو محض فنی تجربہ بننے کے بجائے ایک الگ شناخت بھی ملی۔ اسے لوک روایت، انسانی جذبوں اور خواب ناک فضاؤں سے ہم آہنگ کیا گیا۔ اس کا رنگ مغربی “جادوئی حقیقت نگاری” اور “خواب بیانی” سے ضرور ملتا ہے، لیکن اس کی اصل جڑیں مقامی ثقافت، دیہی یادداشت اور برصغیر کی لوک دانش میں پیوست ہیں۔ یہی امتزاج اسے منفرد بناتا ہے اور اردو افسانے کو ایک نئی وسعت عطا کرتا ہے۔
مظہر الاسلام کے افسانوں میں لوک جدیدیت نمایاں ہے، جہاں پرندے، درخت، بارش، ریلوے اسٹیشن، ویران راستے اور گمشدہ شہر محض منظر نہیں رہتے بلکہ علامتی کردار بن جاتے ہیں جو جدید انسان کی تنہائی، جڑوں سے کٹاؤ اور وجودی اضطراب کو آشکار کرتے ہیں۔ ان کے ہاں خواب حقیقت میں ڈھل جاتے ہیں اور حقیقت خواب کی طرح غیر یقینی ہو جاتی ہے، یوں قاری ایک ایسی دنیا میں داخل ہوتا ہے جہاں وقت کی ترتیب ٹوٹ جاتی ہے اور منطق کی جگہ احساس لے لیتا ہے۔ ان کے بیشتر کردار نام سے محروم ہیں، جو کسی فرد کے بجائے ایک کیفیت، ایک احساس یا ایک اجتماعی تجربے کی نمائندگی کرتے ہیں، اور یہی بے نامی انہیں آفاقی بنا دیتی ہے۔
ان کی تحریروں میں انسانی محبت، تنہائی، جدائی، انتظار اور خاموش احتجاج نمایاں موضوعات کے طور پر ابھرتے ہیں، اور محبت ان کے نزدیک محض رومانوی جذبہ نہیں بلکہ ایک اخلاقی اور سیاسی موقف ہے جو جبر، آمریت اور استحصالی نظام کے خلاف ایک نرم مگر پائیدار مزاحمت کی صورت اختیار کرتا ہے۔ اگرچہ یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ وہ براہِ راست سماجی اور سیاسی مسائل سے گریز کرتے ہیں، لیکن ان کی تحریروں کا گہرا مطالعہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ان کا احتجاج خاموش مگر شدید ہے؛ “گھوڑوں کے شہر میں اکیلا آدمی” سے لے کر ناول “زندگی نے مڑ کر شیطان کے قاتل کو دیکھا اور مسکرائی” تک انسانی قدروں کی پامالی، جبر، خوف اور اجتماعی زوال کی جھلک نمایاں طور پر دکھائی دیتی ہے۔ وہ نعرے بازی کے بجائے علامت کو اظہار کا وسیلہ بناتے ہیں، اور آمریت کے دور میں یہی اسلوب ایک محفوظ مگر مؤثر احتجاجی زبان میں ڈھل جاتا ہے۔
اہم تصانیف
* گھوڑوں کے شہر میں اکیلا آدمی (افسانے)
* باتوں کی بارش میں بھیگتی لڑکی (افسانے)
* محبت: مردہ پھولوں کی سمفنی (ناول)
* زندگی نے مڑ کر شیطان کے قاتل کو دیکھا اور مسکرائی (ناول)
* لوک پنجاب (تحقیقی کام)
ان کے چاہنے والے انہیں ایک سچا درویش، لفظوں کا جادوگر اور ثقافتی ورثے کا محافظ قرار دیتے ہیں، اور ان کی انفرادیت، سادگی، لوک روایت سے محبت اور نوجوان لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کو ان کی بڑی خوبیاں سمجھتے ہیں۔ مداحوں کے نزدیک انہوں نے مادیت پرستی کے اس دور میں جذبوں، خوابوں اور معصومیت کو زندہ رکھا، اور یوں ادب کو محض فنی اظہار سے آگے بڑھا کر انسانی احساس اور ثقافتی شناخت کا استعارہ بنا دیا۔ ان کے قارئین کا کہنا ہے کہ ان کی تحریروں میں ایک ایسی روحانی کشش ہے جو دل کو سکون اور ذہن کو تازگی عطا کرتی ہے، اور یہی کشش انہیں عام افسانہ نگاروں سے ممتاز کرتی ہے۔ وہ نہ صرف ادب کو نئی جہت دیتے ہیں بلکہ نوجوان نسل کو یہ یقین بھی دلاتے ہیں کہ خواب دیکھنا اور ان خوابوں کو لفظوں میں ڈھالنا آج بھی ممکن ہے۔ ان کی شخصیت کو مداح ایک ایسے رہنما کے طور پر دیکھتے ہیں جو روایت اور جدیدیت کے درمیان پل بناتا ہے، اور جس نے اپنی تحریروں کے ذریعے یہ ثابت کیا کہ محبت، معصومیت اور انسانی رشتوں کی حرارت کبھی پرانی نہیں ہوتی۔ یوں مظہر الاسلام کے چاہنے والوں کے نزدیک ان کا فن اور شخصیت دونوں اردو ادب میں امید، روشنی اور انسانی وقار کی علامت ہیں۔
تنقیدی مطالعے میں یہ بات سامنے آتی ہے کہ مظہر الاسلام کی علامتیں وقت کے ساتھ تکرار کا شکار ہو گئی ہیں؛ بارش، پرندے اور تنہائی بار بار ابھرتے ہیں، جس سے بعض ناقدین کو یکسانیت کا احساس ہوتا ہے۔ ترقی پسند حلقے یہ اعتراض کرتے ہیں کہ ان کی خواب ناک فضا قاری کو زمینی حقائق سے دور لے جاتی ہے، لیکن ایک دوسرا زاویہ یہ ہے کہ وہ حقیقت سے فرار نہیں بلکہ اس کے خلاف علامتی مزاحمت کرتے ہیں، اور یہی مزاحمت ان کے فن کو ایک منفرد معنویت عطا کرتی ہے۔
ان کا اسلوب اس قدر شاعرانہ ہے کہ بعض ناقدین اسے افسانے کے بجائے نثری نظم سے قریب تر قرار دیتے ہیں، اور روایتی پلاٹ کی عدم موجودگی کلاسیکی افسانے کے قاری کے لیے مشکل پیدا کرتی ہے، مگر اسی شاعرانہ رنگ نے ان کے افسانوں کو ایک جمالیاتی کشش بھی بخشی ہے۔ ان کی شخصیت کے بارے میں بھی مختلف آرا موجود ہیں؛ بعض انہیں تنہائی پسند، ٹیکنالوجی سے بیزار اور تنقید کو دل سے قبول نہ کرنے والا قرار دیتے ہیں، جبکہ کچھ لوگ ان کے رویے کو انا یا خود پسندی سمجھتے ہیں۔ اس کے برعکس ان کے حامی اسے ایک تخلیق کار کی فطری حساسیت اور تخلیقی مزاج کا حصہ قرار دیتے ہیں، جو اپنی دنیا میں ڈوبا ہوا ہے اور جسے بیرونی شور سے زیادہ اندرونی کیفیات اور تخلیقی تجربات عزیز ہیں۔ یوں مظہر الاسلام کی شخصیت اور فن دونوں پر تنقیدی نظر ایک دو رخی تصویر پیش کرتی ہے: ایک طرف تکرار، خواب ناک فضا اور غیر روایتی اسلوب پر اعتراضات، اور دوسری طرف علامتی مزاحمت، جمالیاتی کشش اور تخلیقی حساسیت کی وہ جہتیں جو انہیں اردو افسانے میں ایک منفرد مقام عطا کرتی ہیں۔
مظہر الاسلام اردو ادب کے ان چند تخلیق کاروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے افسانے کو محض کہانی نہیں رہنے دیا بلکہ اسے ایک گہرا تجربہ بنا دیا۔ ان کا فن قاری کو چونکانے کے بجائے آہستہ آہستہ اپنی گرفت میں لیتا ہے اور دل و دماغ پر دیرپا اثر چھوڑتا ہے۔ ان پر ہونے والی تنقید دراصل ان کے منفرد اسلوب اور تخلیقی جرات کی گواہی ہے۔ انہوں نے اردو افسانے کو عالمی سطح پر مروج جدید تکنیکوں سے ہم آہنگ کیا، مگر اپنی تہذیبی جڑوں اور لوک روایت سے رشتہ کبھی منقطع نہیں ہونے دیا۔ یہی امتزاج ان کے فن کو ایک ایسا ادبی ورثہ بناتا ہے جو آنے والی نسلوں کے لیے فکری، جمالیاتی اور تخلیقی سطح پر ایک مضبوط حوالہ ہے۔ مظہر الاسلام کا فن ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ بعض اوقات خاموشی سب سے بلند احتجاج ہوتی ہے، اور خواب محض فرار نہیں بلکہ حقیقت کو سمجھنے کا ایک اور راستہ بھی ہو سکتے ہیں۔
اللہ کرے کہ ان کا یہ ادبی ورثہ ہمیشہ زندہ رہے، نئی نسلوں کو روشنی، امید اور تخلیقی جرات عطا کرتا رہے۔ آمین۔