لا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ اسلام کا بنیادی کلمہ ہے، مگر عملی زندگی میں اس کے مفہوم کو سمجھنا اور جینا ایک مسلسل فکری اور نفسیاتی جدوجہد ہے۔ عام طور پر اس کلمے کو عقیدے کے ایک جملے کے طور پر پڑھ لیا جاتا ہے، لیکن درحقیقت یہ انسان کی پوری زندگی کی سمت متعین کرتا ہے۔ یہ کلمہ انسان سے یہ مطالبہ کرتا ہے کہ وہ یہ طے کرے کہ اس کی زندگی میں اصل اختیار کس کے پاس ہے، اس کے فیصلوں کو کون کنٹرول کرتا ہے، اور وہ کن چیزوں کے سامنے خود کو ذہنی اور عملی طور پر جھکا دیتا ہے۔
اصل میں لا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ کا سب سے گہرا تعلق انسان کے دل سے ہے، کیونکہ دل ہی وہ مرکز ہے جہاں خوف، محبت، امید، اعتماد اور وابستگی جنم لیتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جسم میں ایک گوشت کا لوتھڑا ہے، اگر وہ درست ہو جائے تو پورا جسم درست ہو جاتا ہے، اور اگر وہ بگڑ جائے تو پورا جسم بگڑ جاتا ہے، اور وہ دل ہے۔
اس لیے توحید کا اصل معرکہ زبان یا ظاہری عمل میں نہیں بلکہ دل میں برپا ہوتا ہے۔ دل جس کو سب سے بڑا مان لیتا ہے، جس پر سب سے زیادہ بھروسا کرتا ہے، اور جس کے کھو جانے سے سب سے زیادہ ڈرتا ہے، درحقیقت وہی اس کا معبود بن جاتا ہے۔
لا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ کا پہلا حصہ نفی پر مشتمل ہے، یعنی اللہ کے سوا ہر اس طاقت کی نفی جو انسان کے دل، خوف، خواہش اور فیصلوں پر حاوی ہو جائے۔ روزمرہ زندگی میں انسان اکثر غیر شعوری طور پر کئی چیزوں کو اپنا معبود بنا لیتا ہے۔ کبھی رزق کا خوف، کبھی مستقبل کی بے یقینی، کبھی لوگوں کی رائے، کبھی کامیابی کا دباؤ اور کبھی اپنی خواہشات۔ یہ سب چیزیں اس وقت معبود بن جاتی ہیں جب انسان اللہ کے حکم کو پسِ پشت ڈال کر ان کے مطابق جینے لگتا ہے۔
دل کی سطح پر یہ نفی اس وقت مکمل ہوتی ہے جب انسان اپنے دل کا محاسبہ کرے کہ میرا دل سب سے زیادہ کس کے آگے جھکتا ہے۔ کیا میرا دل اللہ کے وعدوں پر مطمئن ہے یا دنیا کے سہاروں پر؟ کیونکہ لا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ کا تقاضا یہ ہے کہ دل میں اللہ کے سوا کسی اور کے لیے حتمی اختیار کی گنجائش باقی نہ رہے۔
عملی زندگی میں لا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ کو جینے کا پہلا قدم یہ ہے کہ انسان اپنے خوف کی پہچان کرے۔ انسان اکثر غلط فیصلے اس لیے کرتا ہے کہ وہ نقصان، تنہائی یا ناکامی سے ڈرتا ہے۔ یہاں توحید یہ تقاضا کرتی ہے کہ انسان یہ مان لے کہ نفع اور نقصان کا اصل اختیار اللہ کے پاس ہے۔
قرآن واضح طور پر کہتا ہے کہ اگر اللہ تمہیں کوئی نقصان پہنچانا چاہے تو کوئی اسے روک نہیں سکتا، اور اگر وہ خیر چاہے تو کوئی اسے ٹال نہیں سکتا۔ اس یقین کے بغیر لا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ محض زبان کا ورد رہ جاتا ہے۔
جب یہ یقین دل میں اترتا ہے تو دل مضبوط ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ توحید انسان کو اندر سے طاقتور بناتی ہے۔ وہ دل جو اللہ سے جڑ جائے، وہ حالات کے اتار چڑھاؤ میں ٹوٹتا نہیں، کیونکہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ اصل سہارا کسی مخلوق یا نظام کے پاس نہیں بلکہ اللہ کے پاس ہے۔
اسی طرح روزمرہ زندگی میں خواہشات انسان کی سب سے بڑی آزمائش ہیں۔ انسان جانتا ہے کہ کیا درست ہے اور کیا غلط، مگر وقتی فائدہ اسے سچائی سے ہٹا دیتا ہے۔ قرآن اسی کیفیت کو بیان کرتا ہے کہ کچھ لوگ اپنی خواہشات کو ہی اپنا معبود بنا لیتے ہیں۔ لا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ کو جینے کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی خواہش کو اللہ کے حکم کے تابع کرے، نہ کہ اللہ کے حکم کو اپنی خواہش کے مطابق موڑے۔
یہ مرحلہ دراصل دل کی تربیت کا مرحلہ ہے، کیونکہ خواہش دل میں جنم لیتی ہے۔ جب دل اللہ کی محبت سے بھر جائے تو خواہشات خود بخود اپنی حد میں آ جاتی ہیں، اور جب دل خالی ہو تو خواہشات اسے قابو میں کر لیتی ہیں۔
تعلقات کے معاملے میں بھی یہی اصول لاگو ہوتا ہے۔ انسان اکثر لوگوں کو ناراض کرنے کے خوف سے حق بات چھوڑ دیتا ہے، یا اللہ کے حکم کے خلاف سمجھوتہ کر لیتا ہے۔ یہاں لا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ اصل رضا اللہ کی ہے، نہ کہ مخلوق کی۔ نبی کریم ﷺ نے واضح فرمایا کہ جو اللہ کو راضی کرے گا، اللہ لوگوں کو اس سے راضی کر دے گا، اور جو لوگوں کو راضی کرنے کے لیے اللہ کو ناراض کرے گا، اللہ اسے لوگوں کے حوالے کر دے گا۔ یہ حدیث روزمرہ زندگی کے ہر تعلق میں توحید کا عملی اصول فراہم کرتی ہے۔
مال اور دنیاوی کامیابی کے معاملے میں بھی توحید کا امتحان ہوتا ہے۔ محنت کرنا، منصوبہ بندی کرنا اور وسائل اختیار کرنا اسلام کے خلاف نہیں، لیکن ان پر مکمل انحصار کرنا توحید کے خلاف ہے۔ لا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ کو جینے کا مطلب یہ ہے کہ انسان سبب اختیار کرے مگر دل کو سبب سے نہ باندھے۔ دل کا تعلق اللہ سے ہو، کیونکہ اصل رزق دینے والا وہی ہے۔ یہی توکل ہے، اور یہی اس کلمے کی عملی شکل ہے۔
اذان میں اللہ اکبر کی صدا اسی حقیقت کی روزانہ یاد دہانی ہے۔ یہ اعلان انسان کو اس کی مصروفیات کے بیچ روک کر یہ سوال کرتا ہے کہ کیا واقعی وہ کام جو تم کر رہے ہو اللہ سے بڑا ہے؟ اگر انسان اس سوال کو سنجیدگی سے لے لے تو اس کی ترجیحات خود بخود درست ہونے لگتی ہیں۔ لا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ کا عملی تقاضا یہی ہے کہ اللہ زندگی کے مرکز میں ہو، نہ کہ صرف عبادات کے وقت۔
دعا اور ذکر بھی اسی جینے کے عمل کا حصہ ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ دعا ہی عبادت ہے، کیونکہ انسان جس کے سامنے اپنی بے بسی رکھتا ہے، وہی اس کا حقیقی معبود ہوتا ہے۔ روزمرہ زندگی میں جب انسان مشکل کے وقت سب سے پہلے اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے، تب وہ لا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ کو جی رہا ہوتا ہے۔ اور جب وہ اللہ کو آخری آپشن بنا لیتا ہے، تب یہ کلمہ اپنی روح کھو دیتا ہے۔
آخرکار لا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ کو جینے کا مطلب یہ ہے کہ انسان ہر اہم فیصلے سے پہلے یہ سوال کرے کہ میں یہ قدم اللہ پر اعتماد کے ساتھ اٹھا رہا ہوں یا کسی خوف، دباؤ یا خواہش کے تحت۔ یہ کلمہ انسان سے کامل ہونے کا مطالبہ نہیں کرتا، بلکہ شعوری ہونے کا مطالبہ کرتا ہے۔ جب انسان بار بار اپنی نیت، اپنے خوف اور اپنی وابستگیوں کا جائزہ لیتا ہے، تب آہستہ آہستہ توحید اس کی سوچ، اس کے عمل اور اس کی شخصیت کا حصہ بن جاتی ہے۔
اسی مقام پر دل اللہ کے ساتھ جڑ کر مطمئن ہو جاتا ہے، اور یہی وہ کیفیت ہے جس کے بارے میں قرآن کہتا ہے کہ دلوں کا اطمینان اللہ کے ذکر میں ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ایمان عقیدہ نہیں بلکہ زندہ حقیقت بن جاتا ہے۔